وفاقی وزیر داخلہ برگیڈیئر اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان کے فرار کی تحقیقات ہو رہی ہیں

احسان اللہ احسان
Image caption احسان اللہ احسان کے بارے میں یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ وہ اس وقت ترکی میں ہیں

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ برگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے ملک سے فرار ہونے سے متعلق خبروں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔

پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ریاستی ادارے اس بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں اور ان تمام واقعات کا جائزہ لے رہے ہیں جن کی بنا پر احسان اللہ احسان ملک سے فرار ہوئے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ احسان اللہ احسان کے بارے میں قوم کو جلد خوشخبری ملے گی۔

یاد رہے کہ احسان اللہ احسان کے پاکستانی فوج کی حراست سے فرار ہونے کے دعوے کے فوری بعد میں جب وزیر داخلہ برگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ انھیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

اس سے پہلے سرکاری سطح پر احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے خبر کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ پاکستانی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک آڈیو پیغام جس میں مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس پر بی بی سی نے جب رد عمل کے لیے پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے رابطہ کیا تو فوجی ذرائع نے اس دعویٰ کی تصدیق یا تردید نہیں کی اور کہا کہ وہ ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔

یہ بھی پڑھیے

احسان اللہ پر لاعلمی: ’جیسے آپ نے سنا، میں نے بھی سنا ہے‘

احسان صاحب چلے گئے تو کیا قیامت آ گئی؟

مان میرا احسان

ترجمان تو ہمیشہ پکڑے جاتے ہیں!

Image caption وفاقی وزیر داخلہ نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ احسان اللہ احسان کے بارے میں قوم کو جلد خوشخبری ملے گی

واضح رہے کہ احسان اللہ احسان فوج کی تحویل میں تھے اور فوجی حکام کے مطابق کالعدم تنظیم کے ترجمان نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا تھا۔

احسان اللہ احسان کے بارے میں یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ وہ اس وقت ترکی میں ہیں تاہم اس بارے میں وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ترکی کے متعقلہ حکام سے اس ضمن میں رابطہ کیا جارہا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ایف آئی اے کے سربراہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ملک کے تمام ایئرپورٹس پر امیگریشن کے ریکارڈ کے علاوہ ایران اور افغانستان کی سرحد پر قائم امیگریشن چیک پوسٹوں سے گذشتہ ایک ماہ کے ریکارڈ کی چھان بین کر کے وزارت داخلہ کو آگاہ کریں۔

احسان اللہ احسان کے سکیورٹی فورسز کی تحویل سے فرار ہونے کے بارے میں پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے خلاف مقدمات درج کرنے پر توجہ دے رہی ہے جبکہ ’احسان اللہ احسان جو کہ ایک مبینہ شدت پسند ہے وہ ریاستی اداروں کی تحویل سے فرار ہو گیا ہے۔‘

اپوزیشن کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پیرس میں جاری فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے بارے میں پاکستانی حکام سے ضرور پوچھا جائے گا۔

حکومتی لاعلمی

یاد رہے کہ احسان اللہ احسان کے پاکستانی فوج کی حراست سے فرار ہونے کے دعوے کے فوری بعد میں جب وزیر داخلہ برگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ انھیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا بطور وزیر داخلہ انھوں نے متعلقہ اداروں سے اس بارے میں جاننے کی کوشش کی تو رابطہ منقطع کر دیا گیا۔

وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے جب یہ سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’جیسے آپ نے سنا ہے، میں نے بھی سنا ہے۔‘

جب ان سے احسان اللہ احسان کے پاکستان کی تحویل میں ہونے سے متعلق سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرے علم میں نہیں کہ ادھر ہے کہ نہیں ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں