محمد بن سلمان کے وعدے کے ایک برس بعد بھی سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی میں رکاوٹ کیا؟

ولی عہد تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/KSAMOFAEN
Image caption ایک سال پہلے سعودی ولی عہد نے پاکستان کے دورے کے موقع پر اپنے ملک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے ہر ممکن اقدام کا وعدہ کیا تھا

’مجھے ڈیڑھ ماہ بعد معلوم ہوا کہ میری 62 سالہ بیمار ماں سعودی جیل میں قید ہیں۔ جس عورت نے میری والدہ کو جعل سازی سے منشیات دے کر سعودی عرب بھیجا تھا، وہ عورت اور اس کا بیٹا تو پاکستانی جیل سے ایک ماہ بعد ہی باہر آ گئے تھے لیکن میری والدہ تقریباً تین سال سے سعودی عرب کی جیل میں قید ہیں۔‘

نارووال کے قریب ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے محبوب عالم نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ کو محلے کی ایک خاتون نے عمرے پر بھیجا تھا۔

’ہم اپنے علاقے کے چند گھروں میں دودھ بیچتے تھے۔ میری والدہ ایک گھر میں دودھ دینے جاتی تھیں۔ اس گھر میں رہنے والی خاتون نے میری والدہ سے کہا کہ جب میری والدہ فوت ہوئی تھی تو کچھ پیسے چھوڑ کر گئی تھیں۔ ہم نے اس دن سوچا تھا کہ ان پیسوں سے ہم کسی غریب کو عمرہ کروائیں گے اور اس نے میری والدہ سے کہا کہ میں آپ کو مفت عمرہ کراؤں گی۔ جس پر میری والدہ نے حامی بھر لی۔‘

مزید پڑھیے

سعودی ولی عہد کا عمران خان سے وہ وعدہ جو پورا نہ ہو سکا

سعودی عرب میں قید 2107 پاکستانیوں کی رہائی کا اعلان

’اب پیسے دیں تو بھی لوگ سعودی عرب نہیں جانا چاہتے‘

’اس عورت نے ہم سے کہا کہ کسی کو بتانا مت کہ یہ عمرہ میں کروا رہی ہوں کیونکہ میں یہ نیکی ضائع نہیں کرنا چاہتی۔‘

’تاہم روانگی سے قبل وہ ہمارے گھر کچھ سامان لے کر آئیں اور کہا کہ میرے بہنوئی یہ سامان سعودی عرب میں آپ کی والدہ سے لے لیں گے۔ ‘

محبوب عالم نے بتایا کہ انھوں نے اس سامان کی تلاشی لی جس میں کچھ کپڑے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM Office

’چند روز بعد جب میری والدہ سعودی عرب روانگی کے لیے سیالکوٹ انٹرنیشل ایئر پورٹ پہنچیں تو وہ عورت ملنے آئی اور ساتھ میں ایک حلوے کا ڈبہ بھی لائیں کہ یہ بھی سامان میں رکھ لیں۔ میری والدہ کی فلائٹ کا ٹائم تھا۔ ہم نے وہ ڈبہ کھول کر دیکھا تو اس کے اندر حلوہ ہی تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ان کی والدہ عمرے کے لیے سعودی عرب چلی گئیں اور پھر ان سے رابطہ نہیں ہوا۔

’ہم نے ڈیڑھ ماہ بہت تکلیف میں گزارا کیونکہ ان کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ کچھ عرصے بعد مجھے ایک کال موصول ہوئی، کسی خاتون نے پوچھا کہ جمیلہ بی بی آپ کی کیا لگتی ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ وہ میری والدہ ہیں تو اس عورت نے میری والدہ سے میری بات کروائی۔‘

’میری والدہ نے بتایا کہ جب وہ جدہ پہنچی تو ایئرپورٹ پر حکام نے میرے سامان کی تلاشی لی تو اس ڈبے میں حلوے کے نیچے سے ہیروئین برآمد ہوئی۔ میں نے حکام کو بتایا کہ یہ سامان میرا نہیں ہے لیکن انھوں نے مجھے جیل بھیج دیا ہے۔‘

محبوب عالم کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اس عورت (جس نے عمرے پر بھیجا تھا) کے خلاف محکمہ انسداد منشیات میں درخواست دی جس کے بعد کارروائی کی گئی اور انھیں گرفتار کر لیا گیا جبکہ ان کا بیٹا لاہور ایئرپورٹ پر پہلے ہی منشیات لے جاتے پکڑا جا چکا تھا۔

’مجھے افسوس یہ ہے کہ وہ دونوں ماں بیٹا ایک ماہ بعد ہی جیل سے باہر آ گئے۔ کچھ دن پہلے ہمیں والدہ کی کال موصول ہوئی اور پتا چلا کہ قاضی نے ان کا سر قلم کرنے ہدایات دی ہیں جبکہ رحم کی اپیل پر قاضی نے 17 سال قید کی سزا سنائی ہے۔‘

محبوب عالم کو ایک برس قبل امید کی کرن اس وقت نظر آئی، جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دورہ پاکستان کے دوران سعودی جیلوں میں قید 2107 قیدوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا۔

یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان رواں برس فروری کے وسط میں دو روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کی توجہ سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی طرف دلوائی تھی۔

سعودی ولی عہد کا وعدہ

قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی تحقیق کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے فروری 2019 میں سعودی عرب کی جیلوں میں قید دو ہزار سے زائد پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم وعدے کے بعد سے اب تک سعودی فرماں روا کی جانب سے معافی کے اعلان کے باوجود صرف 89 قیدی گھروں کو لوٹ سکے ہیں۔

Image caption سارہ بلال کے مطابق بہت سے پاکستانی قیدیوں کو معلومات نہ ہونے، قانونی عمل اور عدالت تک براہ راست رسائی نہ ملنے اور اپنے حق میں پاکستان سے شواہد نہ ملنے کی وجہ سے سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق انھوں نے خلیجی ممالک میں قید 11 ہزار پاکستانیوں کی جانب سے عدالت میں پٹیشن فائل کی تھی اور اس پٹیشن کے جواب میں عدالت نے وزارت خارجہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ملک واپس لوٹنے والے قیدیوں کی تفصیلات جمع کروائیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے رواں سال ایک کیس کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ میں جواب دائر کروایا تھا کہ سعودی جیلوں سے رہائی پانے والے 579 قیدی واپس پاکستان آ چکے ہیں۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی بانی سارہ بلال نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویؤ کیا کہ وزارت خارجہ کی جانب سے رہائی پانے والے جن 579 پاکستانیوں کی تفصیلات عدالت میں جمع کروائی گئیں تھیں ان میں سے بہت سے درحقیقت سعودی ولی عہد کے اعلان سے قبل ہی سنہ 2018 میں پاکستان آ چکے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں اور اس معاملے پر وزیراعظم پاکستان، دفتر خارجہ، سعودی سفیر اور زلفی بخاری کو بھی خط لکھے ہیں لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی وجہ

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی بانی سارہ بلال نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت دنیا بھر میں سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جہاں پاکستانی قیدیوں کی تعداد تقریبا 3400 ہے جو باقی ممالک سے زیادہ ہے جبکہ رواں سال سعودی عرب نے تیس پاکستانی کا سر قلم کیا جس میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ سب سعودی ولی عہد کے وعدے باوجود بھی پاکستانیوں کی رہائی میں سب سے بڑی روکاٹ اعلی حکام کی سستی ہے۔

’اس کے علاوہ بہت سے پاکستانی قیدیوں کو معلومات نہ ہونے، قانونی عمل اور عدالت تک براہ راست رسائی نہ ملنے اور اپنے حق میں پاکستان سے شواہد نہ ملنے کی وجہ سے سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

سعودی عرب میں اس وقت 26 لاکھ پاکستانی ریاض، دمام، طائف اور جدہ میں روزگار کے سلسلے میں رہائش پذیر ہیں، جن میں سے زیادہ تر افراد مزدور پیشہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھایا جا رہا ہے‘

اس تحقیق کے حوالے سے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارے سفارتخانے اور قونصل خانے، پوری دنیا میں ہمارے شہریوں کے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں جو مقامی قوانین کے مطابق مختلف الزامات میں قید ہیں۔ جس میں امیگریشن قانون کی خلاف ورزیوں سمیت دیگر جرائم پیشہ سرگرمیاں شامل ہیں۔ تاہم حکومت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور ہم بیرون ملک مقیم پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سفارتخانے اپنے قیدیوں کی سہولت کے لیے مستقل طور پر مقامی حکومتوں کے ساتھ مصروف ہیں۔

’پچھلے کچھ سالوں میں ہمارے سفارت خانوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانی قیدیوں کی مدد کے لیے مختلف ممالک میں 13000 سے زیادہ قونصلر رسائی ملاقاتیں کیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں پچھلے ایک سال کے دوران ہی 4637 سے زیادہ قیدی رہا ہوئے ہیں۔‘

سعودی عرب میں پاکستانی قیدیوں کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں ہمارے لوگ سعودی حکام کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کرتے رہے ہیں اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ ولی عہد شہزادہ کے اعلان کے تحت 579 قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ 1500 کے قریب قیدیوں کو دوسری شقوں اور ان کی سزائیں مکمل ہونے کے بعد رہا کیا گیا ہے جبکہ دو طرفہ باہمی گفتگو کے دوران ہم نے سعودی حکام کے ساتھ اس معاملے کو فعال طور پر آگے بڑھایا ہے۔

’ہماری قیادت بھی ان سے رابطے میں ہے اوراس معاملے کو اعلی سطح پر بھی اجاگر کیا گیا ہے۔‘

تاہم بی بی سی کی جانب سے دفتر خارجہ کی ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا آپ جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی جانب سے کی جانی والی تحقیق اور ان کی بانی سارہ بلال کے دعووں کی تردید کرتی ہیں؟ تو ان پر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تشویش

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق انھوں نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سعودی عرب میں قید پاکستانی قیدیوں کی رہائی سے متعلق معلومات کے حوالے سے حکومت کی طرف سے دکھائے جانے والے شفافیت کے فقدان پر فکرمند ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ’پارلیمان، عدالت اور صحافیوں کو دیے جانے والے متضاد بیانات اس معاملے میں ایک تشویشناک پیشرفت ہیں۔‘

تاہم ان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی حکومتوں سے گزارش کرتے ہیں کہ سعودی ولی عہد کے وعدے کے مطابق دو ہزار قیدیوں کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ سعودی عرب میں قید پاکستانی اپنے وکلا، غیر جانبدار مترجم اور سفارتی مشنوں سے مؤثر قونصلر امداد تک رسائی کے بغیر مقامی عدالتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔

ان کے مطابق اس کی وجہ سے قیدی قانونی کارروائی کے بارے میں سمجھنے اور عدالت سے براہ راست بات چیت کرنے سے قاصر ہیں اور اپنے دفاع میں شواہد نہیں دے پاتے اور انھیں سخت ترین سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں