مہک کماری عرف علیزہ کو عدالت نے تحفظ اطفال یونٹ بھیج دیا

ہندو شادی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ میں رہنے والی ہندو کمیونٹی کی شکایت رہی ہے کہ ان کی نو عمر لڑکیوں کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد جبری مذہب تبدیل کیا جاتا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی ایک عدالت نے اس نومسلم نابالغ لڑکی کو تحفظ اطفال یونٹ بھیج دیا ہے جس نے عدالت میں مذہب کی تبدیلی کے بعد دوبارہ اپنے ہندو والدین کے ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

عدالت نے پولیس کو مہک کماری عرف علیزہ سے شادی کے دعویدار نوجوان اور اس کے مددگاروں پر چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

جیکب آباد کی عدالت کے سیکنڈ سول جج غلام علی قناصرو نے منگل کو ’مہک کماری عرف علیزہ کیس‘ کا تحریری حکم پڑھ کر سنایا جس کے تحت ’مہک کو 48 گھنٹوں میں دارالامان سے بچوں کے تحفظ کے یونٹ منتقل کرنے اور اس کی سکیورٹی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’مذہب کے نام پر ہماری بیٹیوں کا ریپ نہ کریں‘

’فیصلہ حق میں، بیوی واپس آ گئی، لیکن خوف نہیں جاتا‘

مذہب کی جبراً تبدیلی پر بل اسمبلی میں دوبارہ لانے کا فیصلہ

عدالت نے ڈی آئی جی کو حکم جاری کیا کہ مہک سے شادی کے دعویدار علی رضا سولنگی اور اس کے مددگاروں کے خلاف 24 گھنٹے کے اندر چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔

اس سے قبل علی رضا سولنگی کی درخواست کی سیشن جج کی عدالت میں سماعت ہوئی۔ اس درخواست میں انھوں نے عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور ان پر جانبداری کا بھی الزام عائد کیا تھا تاہم سیشن جج نے یہ درخواست مسترد کر دی۔

مہک کماری عرف علیزہ کو بکتربند گاڑی میں لاڑکانہ سے پولیس کے حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا، وہ تین گھنٹے عدالت میں رہیں اور کسی کو بھی ان کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

Image caption وجے کمار نے 10 جنوری کو مقدمہ درج کرایا تھا کہ ان کی نابالغ لڑکی کو علی رضا سولنگی نامی نوجوان نے اغوا کر لیا ہے اور اس کا مذہب تبدیل کر کے جبری شادی کرلی ہے

گذشتہ سماعت کے موقعے پر مہک کماری نے بیان دیا تھا کہ ’ان کا پہلا بیان جذبات پر مبنی تھا وہ اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہیں۔‘ اس موقعے پر چانڈکا میڈیکل یونیورسٹی کا سرٹیفیکیٹ بھی پیش کیا گیا تھا جس کے تحت وہ 18 سال سے کم عمر ہیں۔‘ عدالت نے مہک کے بیان کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور انھیں دارالامان لاڑکانہ بھیج دیا تھا۔

تحریری فیصلے میں مہک کماری کا بیان بھی شامل کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’علی رضا سولنگی گھر کی تعمیر کے لیے بطور مزدور آئے تو اس وقت ان سے تعلقات قائم ہوئے۔ میں نے رضاکارانہ طور پر گھر چھوڑا اور علی رضا کے ساتھ چلی گئی اور پھر دونوں علی رضا کے رشتے داروں کے پاس چلے گئے۔‘

مہک کماری کے مطابق وہ شکارپور میں درگاہ امروٹ شریف آئے جہاں انھوں نے اسلام قبول کیا اور علی رضا سے نکاح کیا، لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ یہ ان کی ’غلطی تھی کہ میں نے گھر چھوڑا اور اسلام قبول کیا۔ اب میں مسلمان نہیں رہنا چاہتی اور اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔‘

لڑکی کے بیان پر جمعیت علمائے اسلام کی مقامی قیادت نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کی تبدیلی کے بعد لڑکی کو والدین کے حوالے نہیں کیا جا سکتا، تاہم بعد میں تنظیم پہلی بار اس معاملے پر دھڑے بندی کا شکار ہو گئی۔

منگل کو جے یو آئی کے ایک دھڑے نے شہر میں ہڑتال کا اعلان کیا تھا جبکہ دوسرے نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ جیکب آباد کے آس پاس کے اضلاع سے بھی پولیس طلب کی گئی تھی اور لاؤڈ سپیکر پر اعلانات کیے گئے کہ کسی کو بھی جبری کاروبار بند کرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جیکب آباد میں ہندو کمیونٹی کی اکثریت کاروبار سے وابستہ ہے اور ہندو پنچایت نے بھی ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ اس کے علاوہ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے وابستہ کارکن بھی عدالت میں مہک کماری کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جمع ہوئے تھے۔

Image caption مہک کماری عرف علیزہ کو بکتربند گاڑی میں لاڑکانہ سے پولیس کے حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا، وہ تین گھنٹے عدالت میں رہیں اور کسی کو بھی ان کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی

یاد رہے کہ جیکب آباد کے نمانی سنگت محلے کے رہائشی وجے کمار نے 10 جنوری کو مقدمہ درج کرایا تھا کہ ان کی نابالغ لڑکی کو علی رضا سولنگی نامی نوجوان نے اغوا کر لیا ہے اور اس کا مذہب تبدیل کر کے جبری شادی کر لی ہے۔

اس مقدمے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں مہک کماری نے بتایا کہ ’انھوں نے شکارپور میں درگاہ امروٹ شریف میں مذہب تبدیل کر کے علی رضا سے شادی کرلی ہے اور والد کے الزامات غلط ہیں۔‘انھوں نے عدالت میں بھی یہی بیان دیا تھا۔

مہک کماری کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ لڑکی نو عمر ہے جس کے بعد عدالت نے چانڈکا میڈیکل یونیورسٹی کو حکم جاری کیا کہ لڑکی کا طبی معائنہ کر کے رپورٹ پیش کی جائے، بورڈ نے تصدیق کی کہ لڑکی کی عمر 15 سے 16 سال کے درمیان ہے، جو سندھ چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

عدالتی فیصلے میں مہک کماری کے مذہب کے حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم یہ حکم دیا گیا ہے کہ علی رضا اور دیگر کے خلاف دائر مقدمے میں لڑکی کو سکیورٹی کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے۔

یاد رہے کہ سندھ میں ہندو کمیونٹی کی شکایت رہی ہے کہ ان کی نو عمر لڑکیوں کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد جبری مذہب تبدیل کیا جاتا ہے اور پھر ان سے شادی کرلی جاتی ہے۔ صوبائی اور قومی اسمبلی میں ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین بھی اس مسئلے پر احتجاج کرتے آئے ہیں۔

حکومت سندھ نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مذہب کی جبری تبدیلی کی روک تھام کا بل اسمبلی سے منظور کیا تھا لیکن بعد میں گورنر کے اعتراض پر اس کو روک دیا گیا اس کے بعد سے اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

اسی بارے میں