کیماڑی: زہریلی گیس سے 14 ہلاک، حکام اب تک گیس کی شناخت اور اخراج کا سراغ لگانے میں ناکام

کراچی ہوا آلودہ گیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی بندرگاہ کے علاقے کیماڑی میں زیرہلی گیس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تو درجن سے زیادہ ہو گئی ہے لیکن یہ گیس ہے کون سی اور کہاں سے خارج ہو رہی ہے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ادارے دو دن سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود اس کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

سندھ کے محکمۂ صحت کے مطابق زیلی گیس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔

اس سے قبل سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے منگل کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ گیس سے 250 کے قریب افراد متاثر ہوئے جن میں سے اکثریت کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ’آج کے اس جدید دور مین گیس خارج ہونے کی وجوہات کا پتہ لگ جانا چاہیے تھا اور اس سلسلے میں ایس او پیز اپنی جگہ موجود ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا حتمی رپورٹ آتے ہی میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا جائے گا اور اعتماد میں لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ نمونے کراچی یونیورسٹی کی لیبارٹری اور پی سی ایس آئی آر بھیج دیے گئے ہیں اور حتمی نتیجے اور حتمی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں ’زہریلی گیس‘ سے سات ہلاک، درجنوں متاثر

بھوپال حادثے کو 35 سال ہو گئے: اب وہاں زندگی کیسی ہے؟

بلوچستان: کوئلے کی ایک اور کان میں مہلک حادثہ

اس سلسلے میں کراچی کے ایک تھانے میں مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے تاہم اس میں بھی یہ واضح نہیں کہ زہریلی گیس کا اخراج کہاں سے ہو رہا ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کا پوسٹ مارٹم بھی نہیں کروایا گیا۔

زہریلی گیس کا سراغ لگانے میں تاخیر کیوں؟

سندھ کی صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ایم ڈی کمانڈر سلمان احمد کا کہنا ہے کہ کیماڑی کے علاقے کی ہوا میں نائٹریٹ آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی زیادہ تھی جبکہ باقی معیار ٹھیک تھے۔

انھوں نے بتایا کہ بندرگاہ کے اندر اور باہر سے پانی، گرد اور مٹی کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، مٹی کے ٹیسٹ کا نمونہ خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو کو بھیجا گیا ہے جبکہ پانی کے ٹیسٹ کے لیے پاکستان کونسل برائے تحقیقاتِ آبی وسائل (پی سی آر ڈبلیو آر) سے مدد لی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے بتایا ہے کہ متاثرہ افراد کے خون کے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں۔ ان سب عناصر کے نتائج کو ساتھ ملا کر ہی کسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔

سلمان احمد کے مطابق ’ابھی تک یہ تعین نہیں ہو سکا ہے کہ کس جگہ سے گیس کا اخراج ہوا۔‘

کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ترجمان پُرامید ہیں کہ منگل کی شام تک رپورٹس موصول ہو جائیں گی جن سے گیس کی نوعیت اور اخراج کی وجہ معلوم ہو جائے گی۔

تاہم وہ اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ گیس کا اخراج پورٹ سے یا پورٹ پر موجود کسی کنٹینر سے نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ نیوی کی بائیو لاجیکل اینڈ کمیکل ڈیمج کنٹرول سے تحقیقات کرائی جارہی ہے۔ جبکہ اِس ادارے کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ ادارتی سطح پر وہ اس واقعے کی تحقیقات نہیں کر رہے ہیں اور اُن کی طرف سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔

ترجمان نے بتایا تھا کہ وزارت جہاز رانی نے جو معاونت مانگی تھی وہ فراہم کردی گئی ہے۔ ’اب جو بھی صورتحال سامنے آنی ہے وہ ہی بتا سکیں گے۔‘

ایک نجی کمپنی سے وابستہ بحری جہازوں کے کپتان سید حسیب حسن کا کہنا ہے کہ اگر کسی بحری جہاز سے گیس کا اخراج ہوتا ہے تو الارم بجنا شروع ہوجاتا ہے ۔ ’جو گیس لائی بھی جاتی ہے تو وہ مہنگی ہوتی ہے، اس کا حفاظتی انتظام مؤثر ہوتا ہے۔‘

وہ سمجھتے ہیں کہ اس گیس کا اخراج مقامی طور پر کسی ذریعے سے ہو رہا ہے۔

’جہاں سے شکایت آئی ہے (ان میں) ریلوے ٹریک کے ساتھ خام تیل کے ذخائر، گنے سے حاصل ہونے والے مولیسز کے ذخائر سمیت کئی گودام موجود ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی نائیٹریٹ کا کنیٹیر آیا ہو (اور) وہ لیک ہو گیا ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

متاثرین کی حالت کیسی ہے؟

جناح ہسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس 35 مریض لائے گئے تھے جن میں سے اس وقت صرف ایک کی حالت تشویشناک ہے جو ونٹی لیٹر پر ہے۔

ان کے مطابق تمام متاثرہ افراد سانس لینے میں دشواری کی شکایت کر رہے تھے۔ ان کے ایکسرے وغیرہ بھی کرائے گئے ہیں لیکن کچھ نظر نہیں آیا جبکہ خون کے نمونے لے کر انتظامیہ کو فراہم کردیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے تجربے کے مطابق ’یہ کوئی پاکٹ ہے جہاں گیس جمع ہو رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ہائیڈروجن سلفائیڈ ہے لیکن ایسا لگتا نہیں ہے کیونکہ ہائیڈروجن سلفائیڈ کی بہت گندی بو ہوتی ہے، گندے انڈے کی طرح۔ جو مریض آئے ہیں وہ اس قسم کی بو کی شکایت نہیں کر رہے۔‘

دوسری جانب وزیر اعلیٰ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ متاثرہ افراد کے یورین ٹیسٹ بھی لیے جارہے ہیں جس کا تجزیہ جامعہ کراچی کی لیبارٹری میں کرانے کا انتظام کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ سپارکو اور دیگر اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں لوگوں کے انخلا کا فیصلہ کیا جائے گا۔

دریں اثنا کراچی کے جیکسن تھانے میں پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف زہریلی گیس یا کیمیکل پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس میں پانچ افراد کی موت کی آگاہی دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کی موت سانس گُھٹنے سے ہوئی۔ تاہم اس بات کا تعین نہیں کیا گیا کہ گیس کا اخراج کہاں سے ہو رہا ہے۔

اس گیس میں ہلاک ہونے والے کسی بھی شخص کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا ہے۔ پولیس سرجن دفتر کا کہنا ہے کہ بغیر پوسٹ مارٹم موت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکے گی۔

’اگر اس بات کا پتا چل بھی گیا کہ کہ کہاں سے کون سی گیس لیک ہوئی ہے اور ذمہ دار کون ہے تو بھی عدالت میں معاملہ جانے سے کیس کمزور ہو گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت موت کی وجہ پر سزائیں سناتی ہیں جو پوسٹ مارٹم رپورٹ سے واضح ہوتی ہے۔‘

اسی بارے میں