#BalakotAirStrike: جابہ میں ان دیکھے خوف کا راج اور نہ نظر آنے والی سکیورٹی ہے

جابہ
Image caption بالاکوٹ روڈ پر جابہ زرعی فارم کے سامنے دائیں طرف سے وہ علاقہ شروع ہوجاتا ہے جہاں انڈین طیاروں نے بم گرائے تھے

پاکستان کے سیاحتی مقام بالاکوٹ کے قریب جابہ نامی گاؤں پر انڈین طیاروں کی بمباری کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے لیکن اس نیم آباد پہاڑی علاقے کا کچھ حصہ آج بھی لوگوں کے لیے علاقہ ممنوعہ بنا ہوا ہے۔

اس علاقے کے گرد سکیورٹی اور انٹیلی جنس کا نہ نظر آنے والا سخت پہرا واقعے کے ایک سال بعد بھی موجود ہے۔

یہاں سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا کہ 25 فروری 2019 کو تھا حتیٰ کہ اس گاؤں کے رہائشی نوران شاہ کا گھر جسے بمباری سے جزوی نقصاں پہنچا تھا، اسی حالت میں موجود ہے۔ میزائل گرنے کی وجہ سے بنے دو، چار گڑھے اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

بالاکوٹ روڈ پر جابہ زرعی فارم کے سامنے دائیں طرف سے وہ علاقہ شروع ہوجاتا ہے جہاں انڈین طیاروں نے بم گرائے تھے۔ گاؤں جانے کے لیے نالہ روڈ عبور کرنی پڑتی ہے، جہاں گرمیوں اور سردیوں میں پانی چلتا رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بالاکوٹ فضائی حملہ: وہ سوال جن کے جواب نہیں مل سکے

’ابھینندن پاکستان میں کوئی میزائل فائر نہ کر سکے تھے‘

مدرسہ تعلیم القرآن اور بالاکوٹ وادی کا گمشدہ استعارہ

بالاکوٹ حملہ، کب کیا ہوا؟

’بالاکوٹ کا مدرسہ ہمیشہ سے یہاں موجود ہے‘

خوف کا راج

ایک سال قبل جب اس علاقے میں حملے کے بعد جانا ہوا تھا تو مقامی لوگ مکمل طور پر تعاون کر رہے تھے اور واقعے کی تفصیلات کیمرے کے سامنے آ کر بتا رہے تھے۔ مگر اب جب دوبارہ اس علاقے میں جانا ہوا تو سڑک کنارے ہی سے لوگوں کا رویہ دیکھ کر سمجھ میں آ گیا کہ بات بننا مشکل ہے۔

گذشتہ سال جب سڑک کنارے سے کنگڑ گاؤں کے لیے پیدل سفر کیا تھا تو کئی مقامی لوگ مدد کرنے کو تیار تھے۔ مگر اب جب ہم نے نالہ عبور کیا تو کوئی ہم سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں تھا۔

ایک بزرگ شخص سے درخواست کی کہ وہ ہمیں ایک سال قبل کی کچھ تفصیلات بتائیں تو ان کا جواب تھا کہ ’ایک سال گزر گیا ہے، اب کیا گڑے مردے اکھاڑتے ہو۔‘ یہ کہہ کر وہ چلتے بنے۔

اسی طرح دیگر لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی بات کرنے کو تیار نہیں تھے اور وہ واضح طور پر خوفزدہ دکھائی دے رہے تھے۔

’یہاں تصویر، ویڈیو نہ بنائی جائے‘

جابہ بازار سے تقریبا ایک گھنٹے کا پیدل سفر طے کر کے کنگڑ پہنچے تو وہاں موجود چھ گھروں کے تمام مردوں نے بات کرنے سے دو ٹوک انکار کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’اس کی اجازت نہیں ہے۔ اگر ہم بات کریں گے تو ہم سے پوچھ گچھ ہو گی۔‘ یہی نہیں بلکہ انھوں نے ہمیں بھی منع کیا کہ اس مقام پر ویڈیو اور تصاویر نہ بنائیں، اس کی اجازت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’انڈین حملے سے ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے‘

’جنگ کی خوشی پالنا امیروں کا شوق ہے‘

انھوں نے ہمارے سامنے ہی مختلف لوگوں کو فون ملانے شروع کر دیے اور جب کال اٹھا لی جاتی تو وہ انھیں بتاتے کہ یہاں میڈیا کے لوگ پہنچے ہیں جو تصاویر اور ویڈیو بنا رہے ہیں۔

ایک مقامی شخص نے مجھے اپنا فون دیا اور کہا کہ بات کریں۔ جب بات کی تو فون پر دوسری طرف موجود شخص نے واضح طور پر کہا کہ وہ انٹیلیجنس سے بات کر رہے ہیں اور ’یہاں تصاویر اور ویڈیو نہ بنائی جائے۔‘

Image caption نوران شاہ کا گھر جسے بمباری سے جزوی نقصاں پہنچا تھا 12 ماہ بعد بھی اسی حالت میں ہے

جب مذکورہ شخص سے سوال کیا گیا کہ جب یہ کوئی ’نو گو ایریا‘ نہیں تو تصاویر لینے یا ویڈیو بنانے پر پابندی کیوں اور یہ کہ مقامی لوگوں کو میڈیا سے بات کرنے سے کیوں منع کیا گیا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں تھوڑی دیر میں فون کرتا ہوں۔‘

اور پھر پانچ سات منٹ بعد ہمارے آس پاس موجود تمام مقامی لوگ ہمیں چھوڑ کر چلے گے۔

ایک مقامی شخص جو واضح طور پر فون پر ہدایات لے رہا تھا، اس سے کہا کہ ہمارے پاس کچھ دیر تو رکیں مگر وہ بولا کہ ’ہم غریب لوگ ہیں۔ ادھر ہی رہنا ہے۔ ہمیں جو کہا جائے گا، ہمیں اس پر عمل کرنا ہو گا۔‘

کنگڑ میں نوران شاہ کا گھر میزائل حملے کے نتیجے میں بننے والے گڑھے کے بالکل قریب واقع ہے۔ جب ہم نیچے سے ان کے گھر کی طرف چلے تو ہمیں دیکھ کر وہ اوپر پہاڑ کی طرف چلنا شروع ہو گئے۔ ان سے گزارش کی کہ تھوڑا وقت دیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے گھاس کاٹنی ہے۔‘ حالانکہ یہ جمعہ یعنی چھٹی کا دن تھا۔

ممنوعہ علاقہ

کنگڑ آبادی میں پہاڑ پر نوران شاہ کا آخری گھر ہے جس کے بعد وہاں پر کوئی آبادی نہیں ہے۔ اس سے اوپر صرف پہاڑ اور جنگلات ہیں۔ نوران شاہ کے گھر سے اوپر کے پہاڑی علاقے ہی میں ٹھنہ کے پہاڑ ہیں جہاں مدرسہ تعلیم القرآن موجود ہے۔

نوران شاہ کے گھر سے مدرسہ تعلیم القران جانے کا کوئی باقاعدہ راستہ تو موجود نہیں۔ مگر بتایا گیا کہ مقامی لوگوں کے لیے پیدل آدھے گھنٹے کا راستہ ہے۔ مدرسہ تعلیم القران کی طرف جانے کا اصل راستہ جابہ بازار میں بالاکوٹ روڈ کے علاقے میں ہے مگر اس طرف سے بھی کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔

بتایا گیا کہ نوران شاہ کے گھر تک تو سب آ جا سکتے ہیں مگر بمباری کے سال بعد بھی اس سے آگے کوئی نہیں گیا ہے۔ اور کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ وہاں پر کیا ہوا تھا۔

ایک مقامی صحافی کے مطابق جب انھوں نے علاقے کا رُخ کیا تھا تو اس وقت انھیں نوران شاہ کے گھر تک جانے کی اجازت دی گئی اور وہاں تک کوئی بھی روک ٹوک نہیں تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے نوران شاہ کے گھر سے اوپر کی طرف جانے کی کوشش کی تو وہ مقامی لوگ جن کی رہنمائی میں، میں نوران شاہ کے گھر تک پہنچا تھا انھوں نے مجھ سے معذرت کر لی کہ وہ مجھے یہاں سے اوپر نہیں لے جائیں گے۔

’جب میں نے تنہا جانے کی کوشش کی تو پانچ، سات منٹ کی مسافت کے بعد مجھے یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ میرا اکیلا جانا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ یہ پہاڑی اور جنگلی علاقہ ہے، یہاں پر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے روکنے والوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ میری حفاظت کے پیشِ نظر وہ مجھے اوپر نہیں جانے دیں گے۔‘

اس صحافی کا کہنا تھا کہ دوسرے روز جب انھوں نے جابہ بازار بالاکوٹ روڈ کے راستے سے مدرسہ تعلیم القرآن جانے کی کوشش کی تو سادہ کپڑوں میں موجود اہلکار بڑی نرمی سے انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔ ’میرے ساتھ کوئی بدتمیزی تو نہیں ہوئی مگر 10، 11 گھنٹے سخت پوچھ گچھ کی گئی۔‘

Image caption جابہ حملے کے بعد کنگڑ اور جابہ کا علاقہ سیاحوں کا مرکز بن گیا تھا

’میرے موبائل پر غیر ملکی نمبروں سے میرے دفتر اور ساتھیوں کی کالیں تھیں۔ ان کالوں سے متعلق پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔ پھر مجھے میرے دفتر اور ساتھیوں کی مداخلت پر جانے کی اجازت ملی۔‘

سیاحوں کی دلچسپی

جابہ حملے کے بعد کنگڑ اور جابہ کا علاقہ سیاحوں کا مرکز بن گیا تھا۔ ناران، کاغان، بالاکوٹ اور دیگر علاقوں کی طرف جانے والے سیاح رُک کر اس علاقے کی طرف جاتے تھے۔

ایبٹ آباد کے رہائشی خرم خان اپنے خاندان کے ہمراہ گذشتہ سال ناران جاتے ہوئے اس علاقے میں گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے بچوں کو اس بات کا شوق تھا کہ وہ علاقہ دیکھیں جہاں انڈیا نے حملہ کیا۔ ہم لوگ اس علاقے میں کافی دیر رُکے تھے اور کچھ دیر گھومتے پھرتے رہے تھے۔‘

بالاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ٹیکسی ڈرائیور سردار فرحان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد لوگ بڑی تعداد میں اس علاقے میں جانے لگے تھے۔ ’جب یہ تعداد بڑھنے لگی تو ہمیں واضح طور پر کہا گیا کہ اس طرف کسی کو بھی لے کر نہ جایا کریں۔‘

مقامی لوگوں کا بھی کہنا تھا کہ انھیں کہا گیا کہ وہاں آنے والے لوگوں کے ساتھ اس طرف جانے میں تعاون نہ کیا کریں جس کے بعد مقامی لوگوں نے سیاحوں کو راستہ دینے اور رہنمائی کرنے کا سلسلہ بند کر دیا۔ پھر اس مقام پر سیاحوں کی تعداد کم سے کم ہوتی گئی۔

تاہم اب بھی اکا دکا لوگ یہاں کا رُخ کرتے ہیں۔

Image caption مقامی لوگوں کے مطابق حملے کے بعد سے مدرسہ بند ہے اور اب وہاں کوئی بھی موجود نہیں اور نہ ہی وہاں کوئی سرگرمی ہو رہی ہے

’مدرسہ بند ہے‘

مدرسہ تعلیم القرآن حملے کے بعد سے بند ہے۔ گذشتہ سال حملے کے بعد بین الاقوامی میڈیا پر بالاکوٹ روڈ پر نصب مدرسہ تعلیم القرآن کے جس بورڈ کی تصاویر آئی تھیں وہ بورڈ بھی اب ہٹا دیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق حملے کے بعد سے مدرسہ بند ہے اور اب وہاں کوئی بھی موجود نہیں اور نہ ہی وہاں کوئی سرگرمی ہو رہی ہے۔ کبھی کبھار مدرسے میں مقیم دو لوگ نظر آتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق وہ صرف مدرسے کی دیکھ بھال کے لیے وہاں مقیم ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ مدرسے میں ’ہمارے بچے کبھی پڑھنے نہیں جاتے تھے۔ علاقے کے بچے قرآن کی تعلیم مقامی مسجد کے مدرسے میں ہی حاصل کرتے تھے اور تعلیم القرآن میں صرف وہ ہی طالبعلم ہوتے تھے جو کہ ہاسٹل میں رہائش اختیار کرتے تھے۔‘

حملے کے بارے میں یاد کرتے ہوئے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ حملے کی رات تک مدرسے میں طالب علم مقیم تھے جن کی تعداد تین سے چار سو تک ہو سکتی ہے۔

ایک مقامی شخص کے مطابق جب دھماکے ہوئے تو پہلا خیال ذہن میں یہ ہی آیا کہ مدرسے میں ہی کچھ ہوا ہے۔ پھر کچھ معلومات لیں تو پتا چلا کہ مدرسے کے قریب ہی بم وغیرہ گرے ہیں مگر مدرسے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

مقامی افراد کے مطابق صبح جب روشنی ہوئی تو لوگ سب سے پہلے کنگڑ کے علاقے کی طرف گئے جہاں فوج کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے۔

Image caption 2019 میں حملے کے بعد فوج کی جانب سے غیر ملکی عمائدین کو علاقے کے دورے پر لے جایا گیا تھا

ان افراد کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے ہمیں آگے جانے سے روک دیا تھا۔ فوجی صبح تقریباً آٹھ بجے تک اسی علاقے میں رہی تھی مگر میڈیا کے نمائندوں کے موقع پر پہنچنے سے پہلے ہی وہ واپس چلے گئے اور اس کے بعد وہاں پر فرنٹیئر کانسٹیلبری کے اہلکار پہنچ گئے تھے۔‘

مدرسہ تعلیم القران جابہ کے پہاڑ ڈھنہ پر محکمہ جنگلات کی ملکیتی زمین پر واقع ہے جہاں کے گھنے جنگلات کو ماسر ریزور فارسٹ کہا جاتا ہے۔ جس علاقے میں مدرسہ واقع ہے وہاں پر انسانی مداخلت بہت ہی کم ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق یہ مدرسہ 1980 کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا اور یہاں پہلے افغان طلبا موجود ہوتے تھے۔ نوے کی دہائی میں ان کی جگہ پاکستانی اور کشمیری طلبا نے لے لی تھی۔

نوّے کی دہائی کے آغاز میں جب کالعدم حرکت الانصار قائم ہوئی تو اس مدرسے کا انتظام حرکت الانصار کے ہاتھ میں چلا گیا تھا اور اس وقت مولانا مسعود اظہر حرکت الانصار کا حصہ تھے۔

اسی بارے میں