برطانوی گروپ کا دورہ پاکستان: ’امید ہے انڈیا مثبت جواب دے گا‘

ڈیبی ابراہم تصویر کے کاپی رائٹ PA

انڈیا سے ڈی پورٹ کیے جانے کے بعد برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز بدھ کو پاکستان میں کیمروں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ میں انھوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی گروپ کو انڈیا اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دورے کی اجازت نہ ملنے کو بدقستمی قرار دیا۔

ڈیبی ابراہمز غیر سرکاری گروپ اے پی پی جی (آل پارٹیز پالیمینٹیرین گروپ فار کشمیر) کی سربراہ ہیں۔ انھوں نے گروپ کو پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دورے کی اجازت ملنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ انڈیا بھی اب مثبت جواب دے گا۔

ڈیبی ابراہمز نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر پاکستان نے کھلے دل کا مظاہرہ کیا ہے اور مناسب طرز عمل اختیار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈیبی ابراہمز انڈیا سے ملک بدری کے بعد دبئی میں

کشمیر: اقوام متحدہ کی قرارداوں کی حیثیت کیا ہے؟

پاکستان نے انڈیا کے ’غلط‘ نقشے مسترد کر دیے

ان کا کہنا تھا کہ ان کے دورے کا مقصد لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف انسانی حقوق کی پامالی کا جائزہ لینا تھا اور یہ اس گروپ کی تیسری جائزہ رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں دورہ تھا۔ ڈیبی ابراہمز کے مطابق وہ برطانوی حکومت کی نہیں بلکہ برطانوی پارلیمنٹ اور برطانوی عوام کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

ڈیبی ابراہمز کے مطابق برطانوی پارلیمنٹیرین گروپ کے دورے کے بعد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ بھی جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔

برطانوی گروپ نے واضح کیا ہے کہ انسانی حقوق کا مسئلہ کبھی بھی دو طرفہ نہیں ہو سکتا۔ گروپ نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھ ماہ کے محاصرے کے دوران کشمیر میں ادویات اور کھانے پینے کی اشیا کی ترسیل میں بھی رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈیبی ابراہمز نے کہا کہ ’ہم برطانوی حکومت کے نمائندہ نہیں ہیں، تاہم ہم برطانوی حکومت پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی طرف توجہ دے۔‘

’دورے کا مقصد ایل او سی کے دونوں اطراف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینا ہے

ڈیبی ابراہمز گذشتہ برس کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے انڈیا کے اس اقدام پر تنقید اور اپنے خدشات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ گذشتہ برس ڈیبی ابراہمز نے برطانوی وزیر خارجہ کو لکھا تھا کہ پارلیمانی گروپ کو شدید خدشات ہیں کہ 'متنازعہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا ہے جو جموں و کشمیر کے لوگوں کے اعتماد کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔'

پیر کو انڈین حکام نے دلی پہنچنے پر لیبر پارٹی کی رکن پارلیمان ڈیبی ابراہم کا ویزا منسوخ کر کے انھیں ملک بدر کر دیا تھا۔

ڈیبی ابراہمز کے مطابق دلی کے اندرا گاندھی ہوائی اڈے پہنچنے پر ان کا ای ویزا منسوخ کر دیا گیا۔ یہ ویزا انھیں گذشتہ اکتوبر میں جاری کیا گیا تھا اور اس کی مدت اکتوبر 2020 تک تھی۔ امیگریشن حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کے اس فیصلے کی وجہ کیا تھی۔

اولڈہم ایسٹ اور سیڈلورتھ کے حلقے سے منتخب ہونے والی رکن پارلیمان ذاتی دورے پر انڈیا گئی تھیں۔ الامارات کی پرواز سے پیر کو دلی پہنچنے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ ان کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا 'میں اپنے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیے جانے کو فراموش کرنے کے لیے تیار ہوں اور امید کرتی ہوں کہ وہ مجھے میرے خاندان اور دوستوں سے ملنے دیں گے۔'

مسئلہ کشمیر: ’پارلیمنٹ اہم ہے‘

ڈیبی ابراہمز کے تبصرے پر پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ آج اس عہدے پر ہیں کل نہیں ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کے لیے پارلیمنٹ کی حمایت انتہائی اہم ہے کیونکہ وہ خود کو بھی وزیر خارجہ سے پہلے ایک پارلیمنٹیرین سمجھتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے دنیا بھر کی پارلیمان کو ’کمشیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں‘ پر آواز بلند کرنے کی درخواست کی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق ’دو سو دن ہو گئے ہیں ابھی بھی (کشمیر کا) محاصرہ جاری ہے۔ گروپ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔‘

ان کے مطابق اقوام متحدہ کے سکیریٹری جنرل نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں واضح طور پر کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی اتنی ہی موثر ہیں جتنی وہ پہلے دن تھیں۔ ’یہ بات انھوں نے اسلام آباد اور کرتارپور میں بھی کہی ہے۔‘

اسی بارے میں