#CoronaVirus: چین میں پھنسے پاکستانی طلبا کے والدین کا حکام سے احتجاج

چین میں پاکستانی طلبا کے والدین

بدھ کو چین میں پھنسے پاکستانی طلبا کے بارے میں ہونے والی بریفنگ کے دوران طلبا کے والدین اور حکام کے درمیان بحث چھڑ گئی جس کے نتیجے میں حکام اپنی بات ادھوری چھوڑ کر والدین کی شکایات سننے پر مجبور ہوگئے۔

چین میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد سے پاکستانی طلبا کی چین کے شہر ووہان میں پھنسنے کی خبریں منظرِ عام پر تب آئیں جب وہاں پر موجود پاکستانی طلبا نے اپنے ویڈیو بیانات جاری کرنا شروع کیے۔

نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق بدھ کی بریفنگ کا انعقاد وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے بیرونِ ملک پاکستانی ذوالفقار حسین عرف زلفی بخاری نے وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ کیا۔

بریفنگ کا مقصد چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کے والدین کو حکومتی اقدامات سے متعلق آگاہ کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

چین میں مقیم پاکستانی طلبا وطن واپسی کے خواہشمند

کورونا وائرس: پاکستانی اور انڈین طلبا مشکلات کا شکار

کورونا وائرس: پاکستانیوں کو احتیاط کی ہدایت

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چین میں تقریباً 1200 طلبا پھنسے ہوئے ہیں جن کو پاکستان واپس لانے کے لیے حکومت کوششیں کر رہی ہے۔

لیکن اپنے بچوں کی چین میں موجودہ صورتحال سے ناامید والدین نے بریفنگ کے دوران ہی احتجاج کرنا اور سوالات کرنا شروع کر دیے۔ جس کے بعد شرکا بریفنگ روک کر والدین کے سوالات کے جواب دینے پر مجبور ہوئے۔

بریفنگ کے اس سلسلے نے بحث اور احتجاج کی شکل تب اختیار کی جب زلفی بخاری نے ووہان میں پاکستان کی طرف سے جانے والے دو سفارتکاروں کی طلبا سے ملاقات کے حوالے سے بتایا۔

ہاتھ میں موبائل فون تھامے اور بریفنگ کی ویڈیو بناتے والدین نے شرکا سے جواب طلب کیا کہ اُن کے بچے کب پاکستان پہنچیں گے۔

والدین کی طرف سے ’نو نو اور شیم شیم‘ کی پکار کے دوران ایک حکومتی اہلکار نے کہا کہ ’ہمارے دو سفارتکار ووہان گئے ہوئے ہیں۔ محمد زبیر اور سلمان محصود۔ ہم آپ کو اُن کی نقل و حرکت دکھا سکتے ہیں۔‘

اسی احتجاج کے دوران انھوں نے مزید کہا کہ ’زلفی صاحب خود جانا چاہتے تھے لیکن چینی حکام نے ان کو اجازت نہیں دی۔‘

اس پر والدین نے کہا کہ ’ہمارے بچے واپس لاؤ‘ اور یہ کہتے ہوئے سٹیج کے سامنے موجود ٹیبل کا رُخ کیا۔

معاملہ ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر اس بریفنگ کو درمیان میں ہی روک دیا گیا۔

جبکہ ایک طالبہ کی والدہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمیں روز کہا جاتا ہے کہ آج نہیں کل۔ یہ کرتے کرتے کتنے دن گزر گئے۔ کب آئیں گے ہمارے بچے؟‘

ایک روز پہلے پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چین کی طرف سے اجازت ملنے پر پاکستان کی طرف سے دو پاکستانی سفارتکار بیجنگ سے ووہان کی مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے پاکستانی طلبا سے ملنے گئے ہیں۔

سفارتکاروں نے طلبا سے ملنے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ ’ووہان میں موجود طلبا صحت مند اور محفوظ ہیں‘۔

اسی بارے میں سفارتکاروں نے بتایا کہ پاکستانی طلبا میں سے دو میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی لیکن سفارتکاروں کے بقول وہ اب مکمل طور پر صحت مند ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں