پاکستان کے زیر انتظم کشمیر میں اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کی وجہ کیا؟

گردوں کی پیوند کاری تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI

رواں ہفتے پاکستان کے مشہور کامیڈین عمر شریف کی بیٹی حرا عمر کی ہلاکت سے ملک میں اعضا کی غیرقانونی پیوند کاری کا معاملہ ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے۔

حرا عمر گردے کی غیرقانونی پیوندکاری کے بعد پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے منگل کی شب لاہور میں وفات پا گئی تھیں۔

ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی جواد شریف کی جانب سے ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) میں ایک درخواست دی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھوں نے اپنی بہن کی سرجری کے لیے لاہور میں فواد ممتاز نامی ڈاکٹر کو 34 لاکھ روپے دیے۔ جس کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ان کی بہن کا آپریشن کیا لیکن ایک ہفتے بعد ہی ان کی صحت بگڑ گئی۔

پنجاب میں اعضا کی پیوند کاری کے ادارے ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کے نگران سیل کے سربراہ عدنان احمد بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تین دن پہلے کاؤنٹر چیک کے دوران معلوم ہوا کہ حرا عمر نامی مریضہ لاہور کے بحریہ ہسپتال میں داخل ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 34 سالہ حرا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے غیر قانونی طور پر اپنے گردے کا ٹرانسپلانٹ کروایا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’گردہ نکالیں گے تین لاکھ روپے دیں گے‘

جس کا دنیا میں کوئی نہیں اس کا ٹرانسپلانٹ کیسے ہوگا؟

گردے حاصل کرنے میں مددگار ماہرِ معاشیات کی کہانی

عدنان بھٹی نے مزید بتایا کہ جس ڈاکٹر پر حرا شریف کے گردے کی غیر قانونی پیوند کاری کا الزام ہے وہ پہلے ہی اس قسم کے چار مقدمات میں حکام کو مطلوب ہیں۔

اعضا کی پیوندکاری کروانے کا قانونی طریقہ

عدنان احمد بھٹی نے اعضا کی پیوند کاری کا قانونی طریقہ کار بتاتے ہوئے بتایا کہ پنجاب بھر میں سرکاری اور نجی تقریباً 50 ہسپتالوں کو ٹرانسپلانٹ کی اجازت ہے۔

’جب بھی کوئی مریض ان ہسپتالوں میں جاتا ہے تو وہاں جا کر اپنا کیس رجسٹر کرواتا ہے۔ جس کے بعد ہسپتال کی کمیٹی مریض اور ڈونر کا انٹرویو کرتی ہے اور پھر فائل مکمل کر کے ہمیں بھجوائی جاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Human Organs Transplant Authority, Pakistan

’ہم ایک دن بعد دونوں پارٹیوں کو بلا لیتے ہیں اور ان کا انٹرویو کرتے ہیں۔ جس میں ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیس میں غیر قانونی طور پر اعضا عطیہ تو نہیں کیے جا رہے۔ ہم اسی وقت انھیں اجازت نامہ دے دیتے ہیں۔ یہ انتہائی آسان طریقہ کار ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں یہ علاج تقریبا مفت کیا جاتا ہے۔‘

تاہم اگر کوئی بھی اس کام کو غیر قانونی طور پر کرتا ہے تو اسے سیکشن 9 اور 10 کے تحت سزا دی جاتی ہے۔

ہوٹا کے قانون کے سیکشن 9 اور 10 کے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر اعضا کی سرجری کروانے والا، کرنے والا اور اس میں معاونت کرنے والے تمام لوگ مجرم ہوتے ہیں۔

’قانونی طور پر ایسے شخص کو دس سال کی قید اور ایک کروڑ جرمانہ کیا جاتا ہے۔‘

ہوٹا کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مرتضی حیدر نے بتایا کہ اگر دوران آپریشن یا بعد میں اس کے وجہ سے مریض کی موت ہو جائے تو اسے قتل تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری

ڈاکٹر مرتضیٰ نے مزید بتایا کہ ان کے ادارے نے کافی حد تک پنجاب کے بڑے شہروں میں اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری پر قابو پا لیا ہے۔

’لیکن میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ یہ کام بالکل ختم ہو گیا ہے۔ پنجاب میں سختی کے بعد ایسے لوگوں نے یہ کیا ہے کہ اب وہ یہ غیر قانونی کام یا تو چھوٹے شہروں میں کرتے ہیں یا پھر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جا کر کر لیتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس وقت اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری کشمیر میں جا کر اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ وہاں ہوٹا جیسا کوئی محکمہ نہیں جو اس غیر قانونی کام کی روک تھام کر سکے۔

انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر فواد ممتاز جیسے افراد مکانات کرائے پر لے کر یہ کام کرتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا طبی عملہ یا ڈاکٹر اس میں ملوث ہیں یا نہیں۔

’ہماری حکومت کی اب یہ خواہش ہے کہ ہم اپنے سب آفس دوسرے شہروں میں بھی بنائیں۔ جس سے ہمیں امید ہے کہ مزید بہتری آئے گی اور یہ غیر قانونی کام روکا جا سکے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NICOLAS ASFOURI

انھوں نے بتایا کہ جب بھی کوئی مریض ان کے ادارے سے پیوند کاری کی اجازت لے کر جاتا ہے تو ادارہ ہسپتال میں چیک کرتا ہے کہ کیا یہ وہی مریض اور ڈونر ہے، جس کی اجازت لی گئی ہے۔

عدنان احمد بھٹی کے مطابق جس دن عمر شریف کی بیٹی کا کیس ان کے ادارے کے سامنے آیا تو ان کا عملہ لاہور کے بحریہ ہسپتال گیا۔

’ہسپتال انتظامیہ نے ہم سے پوچھا کہ کیا وہ اس مریضہ کا علاج کر سکتے ہیں جس پر ہم نے انھیں اجازت دے دی لیکن حرا عمر کو اس وقت ہسپتال لایا گیا، جب انھوں نے اپنی غیر قانونی پیوند کاری کروا لی تھی اور ان کا کیس خراب ہو چکا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کے مطابق حرا کو جو گردہ لگایا گیا وہ انفیکٹڈ تھا جس کی وجہ سے انفیکشن ان کے سارے جسم میں پھیل گیا اور ان کی موت کا سبب بنا۔

عدنان احمد بھٹی نے بتایا کہ ان کا ادارہ پنجاب کے اندر ہی کارروائی کر سکتا ہے اور حرا کا آپریشن کشمیر کے علاقے میں ہوا ہے۔

’حرا لاہور کی رہائشی تھیں اور ان کا انتقال بھی لاہور میں ہی ہوا ہے اس لیے ایف آئی اے کو کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔ ہمارے ڈی جی ڈاکٹر مرتضی نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس نے ڈاکٹر فواد کے گھر پر چھاپہ مارا تھا لیکن وہ موجود نہیں تھے۔‘

ڈاکٹر فواد ممتاز کون ہیں؟

عمر شریف کے بیٹے جواد شریف کا کہنا ہے کہ ’ہم نیشنل ہسپتال میں اپنی بہن کا ڈائلیسس کروانے جاتے تھے۔ وہاں ہمیں ساتھ والے بستر پر علاج کروانے والے مریض کے ایک ساتھی نے محمد افضل نامی شخص کا نمبر دیا تھا۔ اس کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا اور اس نے ہماری ملاقات ڈاکٹر فواد ممتاز سے کروائی۔‘

جواد عمر کی جانب سے ہوٹا کو دی جانے والی درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر فواد ممتاز سے 34 لاکھ روپے کی رقم واپس دلوائی جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

عدنان احمد بھٹی نے بتایا کہ انھوں نے اس ڈاکٹر کے خلاف فروری 2017 میں ایف آئی آر کروائی تھی۔

’ہم نے انھیں لاہور کی ایک نجی سوسائٹی میں غیر قانونی طور پر ایک غیر ملکی باشندے کے اعضا کی پیوند کاری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ جس کے بعد وہ دو سال جیل میں رہے تاہم دو سال کی سزا کاٹنے کے بعد انھیں طبی بنیادوں پر ضمانت ملی۔‘

عدنان احمد بھٹی نے بتایا کہ 'ہم نے میو ہسپتال کے قریب سے گیارہ افراد کو حراست میں لیا تھا جو اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کا کام کرتے تھے۔ وہ سب ابھی بھی جیل میں ہیں اور ان کا مقدمہ جاری ہے۔ جن مریضوں کی موت سرجری کے دوران ہوئی ان کے لواحقین ڈاکٹر فواد ممتاز کا نام لیتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ فواد ممتاز کے خلاف کیس فیصل آباد، ملتان اور لاہور میں زیرِ سماعت ہیں اور انھوں نے دو عدالتوں سے قبل از گرفتاری ضمانت لے رکھی ہے جبکہ دو مقدمات میں انھیں اشتہاری بھی قرار دیا جا چکا ہے۔

ڈی جی پنجاب ہوٹا ڈاکٹر مرتضی حیدر کے مطابق ڈاکٹر فواد ممتاز کا لائسنس معطل کر دیا گیا ہے اور امید ہے کہ انھیں نوکری سے بھی جلد ہی برخاست کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ڈاکٹر فواد ممتاز لاہور جنرل ہسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں آرگن ٹریڈ نیٹ ورک چلانے کے لیے مشہور تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں