درگاہ امروٹ شریف کے گدی نشین پر نو عمر لڑکی مہک کماری کا نکاح کرانے پر مقدمہ درج

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ہندو شادی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

سندھ میں رہنے والی ہندو کمیونٹی کی شکایت رہی ہے کہ ان کی نو عمر لڑکیوں کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد جبری مذہب تبدیل کیا جاتا ہے (فائل فوٹو)

سندھ کی مشہور خانقاہ اور جمعیت العلما الہند کے مرکز خانقاہ امروٹ شریف کے گدی نشین کے خلاف نوعمر ہندو لڑکی کا نکاح کرانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

جیکب آباد کی عدالت نے پولیس کو مہک کماری عرف علیزہ سے شادی کے دعویدار نوجوان اور اس کے مددگاروں پر چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھگ۔

خانقاہ امروٹ شریف کے گدی نشین سراج شاہ، لال محمد اور گل محمد کے خلاف چائلڈ میریج ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مہک کماری نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ علی رضا اور وہ درگاہ امروٹ شریف گئے جہاں انھوں نے مذہب تبدیل کیا اور بعد میں اس کا علی رضا کے ساتھ نکاح ہوا۔

دریں اثنا خانقاہ امروٹ شریف کے گدی نشین سراج شاہ، لال محمد اور گل محمد نے جیکب آباد کی عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کرلی ہے۔ عدالت نے انھیں دوران تفتیش پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا کیپشن

وجے کمار نے 10 جنوری کو مقدمہ درج کرایا تھا کہ ان کی نابالغ لڑکی کو علی رضا سولنگی نامی نوجوان نے اغوا کر لیا ہے اور اس کا مذہب تبدیل کر کے جبری شادی کرلی ہے

مہک کماری کیس کیا ہے؟

جیکب آباد کے رہائشی وجے کمار نے 10 جنوری کو مقدمہ درج کرایا تھا کہ ان کی نابالغ بیٹی مہک کماری کو علی رضا سولنگی نامی نوجوان نے اغوا کر لیا ہے اور اس کا مذہب تبدیل کر کے جبری شادی کرلی ہے۔ پولیس نے دونوں کو حراست میں لے کر عدالت میں پیش کیا تھا۔

مہک کماری نے عدالت میں بیان دیا کہ انھوں نے شکارپور میں درگاہ امروٹ شریف میں مذہب تبدیل کر کے علی رضا سے شادی کرلی ہے اور یہ کہ ان کے والد کے الزامات غلط ہیں۔

مہک کماری کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ لڑکی نو عمر ہے جس کے بعد عدالت نے چانڈکا میڈیکل یونیورسٹی کو حکم جاری کیا کہ لڑکی کا طبی معائنہ کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ بورڈ نے تصدیق کی کہ لڑکی کی عمر 15 سے 16 سال کے درمیان ہے۔ اس طرح یہ شادی سندھ چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

مہک کماری عرف علیزہ کو بکتربند گاڑی میں لاڑکانہ سے پولیس کے حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا، وہ تین گھنٹے عدالت میں رہیں اور کسی کو بھی ان کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی

والدین اور مذہب سے متعلق بیان

مہک کماری سے عدالت کے حکم پر علی رضا اور والدین کی ملاقات کرائی گئی اور عدالت نے ان کا دوبارہ بیان ریکارڈ کیا۔ مہک کماری نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا پہلا بیان جذبات پر مبنی تھا اور یہ کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہیں۔

اس موقع پر چانڈکا میڈیکل یونیورسٹی کا سرٹیفیکیٹ بھی پیش کیا گیا تھا جس کے تحت وہ 18 سال سے کم عمر ہیں۔ عدالت نے مہک کے بیان کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور انھیں دارالامان لاڑکانہ بھیج دیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس شادی کو چائلڈ میریج قرار دیا اور علی رضا، سمیت نکاح خواں اور مددگاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا تھا اور مہک کو تحفظ اطفال بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔

خانقاہ امروٹ شریف

خانقاہ امروٹ شریف سندھ کے ضلع شکارپور کی تحصیل گڑہی یاسین میں واقع ہے۔ سندھ میں انگریز حکومت کے خلاف جہادی اور سیاسی تحریک میں خانقاہ امروٹ شریف کا اہم کردار رہا ہے۔

سندھیانہ انسائکلو پیڈیا کے مطابق مولانا تاج محمود امروٹی نے یہاں 1890 میں دینی درس گاہ قائم کی تھی۔ ریشمی رومال تحریک کے بانی مولانا عبیداللہ سندھی بھی اس مدرسے کے مہتمم رہے۔ یہاں سندھ، بلوچستان اور پنجاب سے طالب علم زیر تعلیم تھے جن میں ’حب الوطنی کے علاوہ جذبہ جہاد پیدا کیا جاتا تھا۔‘

مولانا تاج محمود امروٹی کی درسگاہ میں ان دنوں میں اپنا پرنٹنگ پریس تھا، جہاں ادبی، سیاسی اور مذہبی مواد کی اشاعت کی جاتی تھی۔ مولانا امروٹی شاعر بھی تھے اور سندھی میں پہلی بار قرآن کا ترجمہ انھوں نے ہی کیا تھا۔

جمعیت العلما الہند کے روح رواں مولانا محمود الحسن مدنی بھی امروٹ آتے تھے۔ وہ مولانا امروٹی کو اپنا مرشد مانتے تھے۔

سندھ میں امروٹی خاندان کسانوں کے حقوق کی تحریک کے علاوہ جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں بحالی جمہوریت تحریک میں بھی سرگرم رہا ہے۔