ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ: کیا پاکستانی انٹیلیجنس اداروں میں تعاون کا فقدان ہے؟

ایف اے ٹی ایف تصویر کے کاپی رائٹ FATF

کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مذہبی اجتماع کے باہر دو افراد میگا فون پر اعلان کے ساتھ ساتھ چندہ وصول کر رہے تھے کہ پولیس نے دونوں کو گرفتار کرکے میگا فون، الجہاد کی تحریر والے دو پرچم اور سات ہزار روپے برآمد کر لیے۔

یہ واقعہ گذشتہ برس 2 فروری کو پیش آیا تھا۔ پولیس نے دونوں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا اور ان کی شناخت نام معین الدین اور محمد یونس ظاہر کی اور دعویٰ کیا کہ کہ دونوں کا تعلق کالعدم جہادی تنظیم جیش محمد سے ہے۔

یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلا اور دونوں کو دس دس سال سزا سنا دی گئی، جس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی۔ سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ جیش محمد کالعدم جماعت ہے اور یہ چندہ دہشت گردی کے لیے استعمال ہونا تھا، ہائی کورٹ نے سزا کم کر کے پانچ سال کردی اور یوں اس مقدمے کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر ہو گیا۔

مزید پڑھیے

ایف اے ٹی ایف: پاکستان پر لٹکتی بدنامی کی تلوار

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اور پاکستان کی مشکلات

ایف اے ٹی ایف:’پاکستان کو تین ماہ کی مہلت مل گئی‘

حکومت سندھ نے اس مقدمے سمیت دہشت گردوں کی مالی معاونت کے چار مقدمات کے فیصلے وفاقی حکومت کو بھیجے ہیں جو وفاقی حکومت فنانشل ٹاسک فورس کو جمع کرائے گی جو رواں ہفتے پاکستان کے گرے لسٹ میں رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں فیصلہ کرنے والی ہے۔

سزائیں سنانے کی کم شرح

فنانشل ٹاسک فورس نے اکتوبر 2019 میں جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں پاکستان میں منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے مقدمات میں سزاؤں کی شرح کم ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

جائزہ رپورٹ کے مطابق 2015 سے لے کر اکتوبر 2018 تک پاکستان میں اس مد میں 228 مقدمات درج ہوئے جن میں 337 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ صرف 58 افراد کو سزائیں سنائی گئیں جبکہ ایف آئی اے کے پاس شکایت ابھی تک تحقیقات کی سطح ہر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں 66 ادارے اور 7600 افراد کالعدم ہیں جن میں جماعت الدعوۃ اور اس کے سربراہ حافظ سیعد بھی شامل ہیں جنہیں گذشتہ دنوں سزا سنائی گئی

پاکستان میں اس وقت حکومت کی جانب سے 66 اداروں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے جبکہ 7600 افراد ایسے ہیں جو دہشت گردی سے متعلق معاملات میں زیرِ نگرانی ہیں یا ان پر مقدمات چل رہے ہیں۔

حال ہی میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس کے سربراہ حافظ سعید کو بھی ایسے ہی ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی تاہم نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم تھارٹی یعنی نیکٹا کے سابق سربراہ خواجہ خالد فاروق اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان میں سزاؤں کی شرح کم ہے۔

’کئی مقدمات میں براہ راست شواہد ملتے ہیں اور کن مقدمات میں نہیں ملتے تاہم بلواسطہ ادارک ضرور ہوتا ہے، جب آپ ٹھوس شواہد جمع کرنے جائیں تو وہ سزا دلوانے میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔ زیادہ سے زیادہ فارنزک شواہد ہوتے ہیں جبکہ پاکستان کے عدالتی نظام میں اس کو دوسرے درجے کی شہادت کے طور پر لیا جاتا ہے اور پرائمری شواہد اکٹھا کرنا اس قسم کے کسیز میں دشوار ہوتا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان میں بھی گواہوں کے تحفظ کا قانون بنانے پر زور دیا گیا تھا جس کے بعد پنجاب اور سندھ میں قانون سازی کی گئی لیکن یہ قانون ابھی تک کارگر ثابت نہیں ہوسکا ہے۔

خواجہ خالد فاروق کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے مقدمات کی زیادہ تر پولیس پیروی کرتی ہے اس میں گواہ ہوتے ہیں لیکن وہ گواہی دینے سے گھبراتے ہیں کیونکہ ان کو خطرات ہوتے ہیں اس وجہ سے سزائیں کم ہوتی ہیں لیکن اب حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت جماعتوں کو کالعدم بھی کیا ہے، ان کے فنڈز بھی روکے ہیں اور قوانین میں ترامیم بھی ہو رہی ہیں۔

صوبائی کاؤنٹر ٹیرر ازم محکموں کی قابلیت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان پر الاًمام لگایا جاتا ہے کہ وہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔

صوبائی سطح پر ٹیرر فنانسنگ کی شناخت اور تحقیقات کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ یعنی سی ٹی ڈی کرتا ہے، ایف اے ٹی ایف نے اس کی قابلیت پر بھی سوال اٹھائے ہیں رپورٹ میں پنجاب کی تعریف کی کئی ہے جبکہ بلوچستان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر بیان کی گئی ہے۔

خواجہ خالد فاروق کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف سے پہلے جو چیز نظر انداز ہو رہی تھی وہ مالی جرائم تھے ان کو پولیس محسوس نہیں کرتی تھی لیکن اب کاؤنٹر ٹیرر ازم محکمے نے ہر صوبے میں اس کے ماہر بٹھا دیے ہیں اب جب کوئی ملزم پکڑا جاتا ہے تو اس کی اس حوالے سے بھی تفتیش ہوتی ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے سربراہ عامر رانا کا کہنا ہے کہ کاؤنٹر ٹیرر ازم کے محکمے کی اہلیت اور قابلیت اتنی ہے کہ اس کے لیے ایک بھرپور کوشش کی ضرورت پڑے گی اس میں قانون سازی سے لے کر ان کی بنیادی تربیت کی ضرورت ہے۔

’کاؤنٹر ٹیرر ازم محکموں کے جتنے بھی آپریشن ہیں وہ دہشت گردی کے خلاف ہیں، حالیہ تحقیقات وہ ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے ہیں اس میں کافی قابلیت کی اشوز ہیں جو ان کے ایریا میں نہیں آتے تھے اور کافی پیچدہ معاملہ ہے، اس لیے یہ ادارے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ شعبہ کافی سائنسی پہلوؤں پر تحقیقات کے متقاصی ہے جس میں وہ دشواری محسوس کرتے ہیں۔

اداروں میں اشتراک

پاکستان میں انٹیلیجنس اداروں میں اشتراک اور تعاون کے فقدان کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں، نیشنل ایکشن پلان میں بھی انہیں ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی گئی اور اس کے بعد موجودہ حکومت کے مجوزہ پلان میں بھی اس بات پر زور دیا گیا کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان کا کوئی مرکزی ڈیٹا بیس ہونا چاہیے جس میں مشترکہ اسیسمنٹ فریم ورک ڈیٹا کی چھان بین کی جائے کیونکہ ایک ہی معاملے پر متعدد ایجنسیوں کی اطلاعات کی وجہ سے دوہراپن آجاتا ہے۔

فنانشل ٹاسک فورس کی جائزہ رپورٹ نے پاکستان میں اداروں کے اشتراک کے فقدان کی نشاندہی کی ہے۔ ٹاسک فورس نے تجویز دی ہے کہ ہر صوبائی سی ٹی ڈی میں ایک ریسرچ اور تجزیاتی ونگ قائم کی جائے جس کو متعلقہ ایجنسیاں رپورٹس فراہم کریں موجود وقت یہ سہولت صرف پنجاب کے پاس ہے۔

عامر رانا کا کہنا ہے کہ کاؤنٹر ٹیرر ازم میں عدم تعاون یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، نہ صرف ٹیرر فناسنگ بلکہ دہشت گردی کی روک تھام میں جو کوششیں ہیں جو چیلینجز ہیں ان میں اداروں میں تعاون کا فقدان رہتا ہے اور ایف ٹی اے ایف میں یہ ایکسپوز ہوا۔

’موجودہ حکومت نے کوشش کی تھی کہ کوئی میکنزم بنائے اور پاکستان کے جو سیکیورٹی ادارے ہیں ان کی خدمات لی جائیں تا کہ کوئی کوآرڈینشن ہوسکے لیکن اس میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔‘

عامر رانا کے مطابق نیکٹا کے زیر اثر ایک جوائنٹ انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ بنا ہے جو مکمل طور پر فعال نہیں ہے، وزارت داخلہ نے سارا کام نیکٹا کو آؤٹ سورس کیا ہوا ہے جبکہ نیکٹا کی صلاحیت پر کئی آزاد مبصرین تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ کیا اس کے پاس اتنی افراد اور مہارت ہے بھی نہیں۔

’بنیادی ذمہ داری محکمہ داخلہ کی ہے جس کو وزارت خزانہ، وزارت تجارت اور وزارت قانون کے ساتھ ایف اے ٹی ایف کے ٹاسک کو لے کر چلنا ہے لیکن وزارت سطح پر ایسا کوئی تعاون نظر نہیں آتا جو ہونا چاہیے۔‘

مالی معاملات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فنانشل ٹاسک فورس کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فناسنگ نہ پاکستان میں اندرونی، خطے اور بین الاقوامی سطح پر خطرات سے دوچار ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں 8 سنگین جرائم کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں کرپشن، سمگلنگ، منشیات کی اسمگلنگ، دھوکہ دہی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، غیر قانونی اسلحے کی فروخت، حوالہ ہنٹڈی شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے 2015 سے لیکر اکتوبر 2018 تک دو ارب 65 کروڑ سے زائد کی رقومات ضبط کیں جبکہ ہوائی اڈوں سے 58 کروڑ سے زائد رقم کی منتقلی کو روکا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کی روشنی میں متعدد قانون سازی کی جاری رہیں جن میں حال ہی میں قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کے مطابق ایئرپورٹ سے بیرون ملک 10 ہزار ڈالر سے زائد رقم لے جانے پر پابندی ہوگی، اس کے علاوہ ائنٹی منی لانڈرنگ بل قومی اسمبلی میں پیش ہوچکا ہے اس بل کے ایکٹ بننے کے بعد منی لانڈرنگ کے مرتکب افراد کو ایک سے 10 سال تک قید کی سزا ہوگی جبکہ جرمانہ بھی 10 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک بڑھ جائے گا۔

سٹیٹ بینک نے بینکوں کو مشورہ دیا ہے کہ معاون، شراکت دار، ڈائریکٹرز، صدر سمیت ایگزیکیٹو کو نااہل قرار دیا جائے گا اگر وہ بلواسط یا بلاواسطہ طور پر کالعدم تنظیموں یا اشخاص سے رابطے میں رہے۔

غیر منافع اور خیراتی اداروں کی ریگولیشن کو سخت کیا گیا ہے اور ان سے سہ ماہی رپورٹ طلب کی گئی ہیں جن میں ان سے آمدنی اور چندے کے ذرائع معلوم کیے جائیں۔

ماہر مالی امور مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ بروکرز پر بھی چیک لگائے گئے ہیں، پہلے با آسانی پیسے باہر چلے جاتے تھے اب ایسا نہیں ہوگا، سرحدوں پر سختی کی گئی ہے اور سمگلنگ کو روکا جارہا ہے۔

’آئی ایم ایف نے یہ نہیں کہا کہ اگر آپ گرے لسٹ سے نہیں نکلے تو پیسے نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کلیئر نہ ہوا تو ہمارے علاوہ جو بیرونی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی کوشش ہے اس میں چیلینجز آئیں گے۔

سفارتی محاذ اور پاکستان

Image caption پاکستان چاہتا ہے کہ اس کا نام تنظیم کی ’گرے لسٹ‘ سے ہٹا دیا جائے

ایف اے ٹی ایف کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ کے علاوہ فرانس، ترکی، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر امید ہیں کہ پاکستان نے سفارشات پر عمل کیا ہے۔

سابق سفیر ظفر ہلالی کا کہنا ہے کہ حافظ سعید کی سزا ایف اے ٹی ایف کے لیے ایک بڑی فتح ہے اور اس کافی وزن پڑیگا، پہلے میرا خیال تھا کہ جو اندورنی کوششیں ہیں اور اداروں کی کارکردگی اس سے ہم گرے لسٹ میں رہتے کیونکہ امریکہ اور کچھ دیگر ممالک ہم پر پریشر ڈالنا چاہتے ہیں لیکن اب پورا امکان ہے کہ شاید ہم گرے لسٹ سے نکل ہی جائیں کیونکہ حافظ سعید کی سزا سونے پر سہاگہ ہے۔

نیکٹا کے سابق سربراہ خواجہ خالد فاروق کا کہنا ہے کہ چین، ترکی اور ملائیشیا پاکستان کی حمایت کر رہے ہیں، اگر تین ممبران مخالفت کریں تو وہ ملک گرے سے بلیک لسٹ میں نہیں جاسکتا ہے۔ پاکستان کو گرے لسٹ نکلنے کے لیے بارہ ووٹ چاہیں۔

’امریکہ کی جانب سے مثبت اشارہ آرہے ہیں وہ غیرمشروط حمایت تو نہیں کر رہے اس کا پس منظر افغانستان میں پاکستان کی کوششیں ہیں۔ اسی طرح یورپی یونین کے اراکین کا رویہ بھی بہتر نظر آرہا ہے۔

افغانستان کیوں نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈیووس میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر سے ملاقات کے دوران ان تمام اقدامات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جو پاکستان نے شدت پسندوں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کیے ہیں

ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں، پاکستان میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ پاکستان کا گرے میں شامل ہونا عالمی سازش ہے۔

نیکٹا کے سابق سربراہ خواجہ خالد فاروق کا کہنا ہے کہ اس ڈاکیومینٹڈ اکاناموی میں پاکستان اکیلا نہیں اس میں بین الاقوامی سیاست بھی ملوث ہے افغانستان گزشتہ دو تین دہایوں سے دہشت گردی کا حب ہے اس کا نام نہ بلیک لسٹ میں نہ گرے لسٹ میں ہے اس میں بین الاقوامی مفادات ہیں۔

سابق سفیر ظفر ہلالی کا بھی یہ موقف ہے ان کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان کو لسٹ میں آنے نہیں دیتا۔

’میں سمجھتا ہوں کے ہمارے اپنے گھر کی صفائی ضروری تھی دباؤ سے یا عالمی رائے سے ہی سہی۔ ‘

اسی بارے میں