#FATF: منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے عالمی ادارے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا پاکستان کو اگلے چار ماہ تک ’گرے لسٹ‘ میں رکھنے کا اعلان

ایف اے ٹی ایف اجلاس تصویر کے کاپی رائٹ FATF

منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے عالمی ادارے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ’ایف اے ٹی ایف‘ کے پیرس کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے سے متعلق غور کے بعد اسے فی الحال گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈیا اور اسے اتحادیوں کی کوشش تھی کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے دیئے گئے اہداف کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے لہذا اسے گرے سے بلیک لسٹ میں ڈالا جائے۔ پیرس میں ہونے والے اس اجلاس میں انڈیا کا موقف رہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے کی روک تھام اور اس کی مالی اعانت کو روکنے کے اقدامات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا۔

پاکستان کی کوشش تھی کہ اسے گرے لسٹ سے نکال دیا جائے لیکن اس کی یہ کوششیں وقتی طور پر کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

لیکن چین، ترکی اور ملائشیا سمیت پاکستان کے بعض اتحادیوں کا موقف رہا ہے کہ پاکستان اپنے محدود وسائل میں جتنے اقدامات کر رہا ہے ان سے یہ واضح ہے کہ ملک شدت پسندی کی مالی اعانت پر کاری ضرب لگا رہا ہے۔

مزید پڑھیے

کیا پاکستانی انٹیلیجنس اداروں میں تعاون کا فقدان ہے؟

ایف اے ٹی ایف: امریکہ پاکستان کی کیا مدد کر سکتا ہے؟

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس، پاکستان کے امتحان کی گھڑی

اس ضمن میں پاکستان لشکر طیبہ اور جماعت دعویٰ کے سابق سربراہ حافظ محمد سعید کو حالیہ دنوں میں سنائی گئی سزا کی مثال پیش کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ حافظ سعید کو لاہور کی ایک عدالت نے دہشت گردی کی مالی اعانت کرنے کے دو الگ الگ الزامات میں سے ہر الزام میں ساڑھے پانچ برس کی سزا سنائی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حافظ سعید کو لاہور کی ایک عدالت نے دہشت گردی کی مالی اعانت کرنے کے دو الگ الگ الزامات میں سے ہر الزام میں ساڑھے پانچ برس کی سزا سنائی ہے

کسی ملک کو ’زیر نگرانی‘ یعنی گرے لسٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ ایف اے ٹی ایف کا ایک ذیلی ادارہ ’انٹرنیشل کوآپریشن رویو گروپ‘ یعنی آئی ی آر جی کرتا ہے۔

پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے 39 ارکان میں سے 12 کی حمایت درکار تھی جو اس وقت اس کے پاس نہیں ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ نے گذشتہ برس نومبر میں بیجنگ میں ہونے والے اپنے اجلاس میں بتایا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کی مالی مدد کی روک تھام اور کالے دھن کو صاف کرنے کے سلسلے میں جو 27 نکاتی ایکشن پلان دیا گیا تھا ان میں سے 14 پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔

تاہم انڈیا ایف اے ٹی ایف کے اتوار سے شروع ہونے والے حالیہ اجلاس میں یہ نکتہ اٹھاتا رہا کہ پاکستان بقیہ تیرہ نکات پر عملدرآمد کرنے سے اجتناب برت رہا ہے اس لیے اسے بلیک لسٹ کیا جائے۔

انڈیا نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے جانے والے مبینہ ماسٹر مائینڈ مسعود اظہر کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ تمام شدت پسند گروہوں کے سربراہان کے خلاف بھرپور کارروائی کرے اور خاص طور پر سزائیں سنانے کی شرح کو بہتر بنائے۔

تاہم پاکستان کے وزیر برائے اقتصادی امور، حماد اظہر کی قیادت میں ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والا وفد پر اعتماد ہے کہ پاکستان کے اقدامات کی بدولت اسے گرے لسٹ سے جلد نکال دیا جائے گا، اور فی الحال بلیک لسٹ سے بچنے کو ہی وہ اپنی کامیابی تصور کر رہا ہے۔

اسی بارے میں