ڈرون حملے میں مارے جانے والے افعان طالبان ملا منصور کی جائیداد نیلام کرنے کا عدالتی فیصلہ

سنہ 2016 میں 21 مئی کو ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کے پاس سے پاکستانی قومی شناختی کارڈ برآمد ہوا تھا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2016 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کے پاس سے پاکستانی قومی شناختی کارڈ برآمد ہوا تھا

چار برس قبل بلوچستان میں ڈرون حملے میں مارے جانے والے افغان طالبان کے کمانڈر ملا منصور کی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تقریباً نو کروڑ روپے مالیت کی املاک نیلام کر کے رقم پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملا منصور اور ان کے ساتھیوں کو اشتہاری قرار دینے کے بعد ان کی املاک ضبط کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

خیال رہے کہ کئی افعان طالبان کی طرح افغانستان پر امریکی اور اتحادی افواج کے حملے کے بعد ملا منصور پاکستان آ گئے تھے اور وہ کامیابی سے کراچی میں اپنا کاروبار بھی چلا رہے تھے۔

ملا منصور کی ہلاکت اور پاکستان کا شناختی کارڈ

افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور بلوچستان کے علاقے دالبندین میں 2016 میں ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ وہ ایک ٹیکسی میں مقامی ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھا کر جیسے ہی روانہ ہوئے تو چند کلومیٹر دور ڈرون نے ان پر حملہ کیا جس میں وہ ڈرائیور سمیت ہلاک ہو گئے۔

ملا منصور سے پاکستان کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا تھا جس میں محمد ولی سکنہ بسم اللہ ٹیرس سہراب گوٹھ تحریر تھا، جس پر وفاقی حکومت نے تحقیقات کا حکم جاری کیا تھا۔

جعلی شناخت پر کاروباری دھندہ

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ محمد ولی ولد شاہ محمد اور گل محمد ولد سعید امیر علی کے شناختی کارڈز پر جو کوائف دیئے گئے وہ وہی تھے جو ملا منصور کے شناختی کارڈ پر موجود تھے۔

ایف آئی اے کی ایف آئی آر کے مطابق ملا منصور نے محمد ولی اور گل محمد کے نام سے جعلی شناختی کارڈ حاصل کیے تھے اور جعلی کوائف پر مالی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیے گئے چالان میں ایف آئی اے نے بتایا کہ ملا منصور کے مختلف بینکوں میں کھاتے بھی موجود تھے۔

ان کھاتوں کے لیے انھوں نے اقرا سٹیٹ ایجنسی کا نام استعمال کیا تھا لیکن بعد کی تحقیقات کے مطابق ان کا اس ایجنسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ملا منصور اپنے فرنٹ مین عمار ولد محمد یاسر کے ذریعے یہ کاروبار کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کروڑ پتی جہادی کمانڈر کی منفرد کاروباری حکمت عملی

ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق ملا منصور کی املاک افغان آبادی یا پشتون علاقے میں نہیں بلکہ شہر کے پوش یعنی اہم رہائشی اور تجارتی علاقوں میں تھیں۔

ملا منصور کی املاک کا ریکارڈ عدالت میں بھی پیش کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت کا تعین کیا گیا۔

ایف آئی اے نے ملا منصور کے فلیٹس سمیت تمام املاک کو سیل کردیا تھا۔ زمین ڈاٹ کام پر موجودہ پراپرٹی کی قدر و قیمت کے مطابق ان املاک کی مالیت کم از کم نو کروڑ سے دس کروڑ روپے تک کی بنتی ہے۔

املاک میں مکان نمبر اے 56 سیکٹر 5 کے ڈی اے اسیکمیم نمبر 45 ، فلیٹ نمبر 102 صنوبر ہائٹس، گلشن معمار کے ڈی اے اسکیم 45۔ 441 مربع گز پلاٹ نمبر 65 بی سیکٹر ڈبلیو سب سیکٹر3 گلشن معمار کے ڈی اے اسکیم نمبر 45 ، فلیٹ نمبر 3 بی چھٹی منزل عمار ٹاور شہید ملت روڈ، فلیٹ نمبر بی 16 بسم اللہ ٹیرس گلزار ہجری، اپارٹمنٹ نمر 108 بارہویں منزل سمیہ ریذیڈنسی دہلی مرکنٹائل سوسائٹی شامل ہے۔

عدالتی احکامات

ایف آئی اے نے عدالت سے ملا منصور کے علاوہ ان کے ساتھیوں عمار یاسر اور اختر محمد کو بھی اشتہاری قرار دے کر ان کی املاک نیلام کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔

مفرور قرار دیے گئے عمار یاسر ولد محمد یاسر مشہور افغان کمانڈر استاد یاسر کے فرزند ہیں۔ استاد یاسر نے خیبر پختونخوا اور فاٹا میں تحریک طالبان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا، ذرائع کے مطابق عمار ملا منصور کے قریبی رشتے دار بھی ہیں۔

عدالت نے متعلقہ سب رجسٹرار، ہاؤسنگ سوسائٹی کے نمائندوں کو بھی طلب کیا جس کے بعد عدالت کی جانب سے اخبارات میں ایک اشتہار شائع ہوا جس میں 13 فروری تک اعتراض یا دعویٰ کرنے کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔

مقررہ وقت گذرنے کے بعد عدالت نے ملا منصور کی املاک نیلام کرکے رقم حکومت پاکستان کے خزانے میں جمع کرانے کا حکم جاری کیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق اس فیصلے پر عملدرآمد میں کچھ ہفتے یا ماہ لگ جائیں گے کیونکہ نیلامی کا عمل قدرے وقت طلب ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’طالبان کے امیر ملا منصور کا کراچی میں کاروبار‘

طالبان کے سینیئر کمانڈر امریکی فضائی حملے میں ہلاک

ملا منصور کا شناختی کارڈ: تحقیقات نچلی سطح کے ملازمین تک محدود

ایف اے ٹی ایف اور عدالتی فیصلہ

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جب یہ فیصلہ دیا ان دنوں پیرس میں فانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس بھی جاری تھا، جس میں پاکستان نے منٹی لانڈرنگ، ٹیرر فناسنگ کی روک تھام اور ان مقدمات میں پیش رفت سے فورس کو آگاہ کرنا تھا۔ ایف اے ٹی ایف اپنی جائزہ رپورٹ میں پاکستان میں سزاؤں کی کم شرح پر تشویش کااظہار کرچکی ہے۔

سندھ میں انسداد دہشت گردی کی دو عدالتوں کو ٹیرر فناسنگ کے مقدمات کے لیے مختص کیا گیا تھا تاکہ ان کو نمٹانے میں تیزی لائی جاسکے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 1267 کے تحت اسامہ بن لادن ان کے ساتھیوں اور طالبان کو دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔ ان پابندیوں کے باوجود ملا منصور کراچی میں جائیدار کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے رہے اور چھ غیر منقولہ املاک کے مالک تھے۔

افغان طالبان نے ملا منصور پر ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی اپنے بیان میں افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملا منصور کے پاس نہ اتنا وقت تھا اور نہ وہ یہ کاروبار کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Afghan Taliban

افغان طالبان اور کاروبار

افغان طالبان اور عسکریت پسندی پر نظر رکھنے والے صحافی احمد ولی مجیب کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اپنے اصل نام پر کاروباری سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے، وہ عرفیت استعمال کرتے ہیں یا پھر اپنے قریبی رشتے داروں اور پارٹنرز کے نام فرنٹ مین کے طور پر رکھتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ افغان شہری جو پاکستان میں گذشتہ تیس سالوں سے موجودہ ہیں وہ افغانستان میں ایک نام سے اور پاکستان میں دوسرے نام سے کاروبار کرتے ہیں۔ پاکستان میں انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے پہلے شناختی کارڈ بنوانا اتنا مشکل بھی نہیں تھا۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض افغان طالبان ماربل، گاڑیوں کے پارٹس، غیر ملکی گاڑیوں کی اسمگلنگ، اور قیمتی پتھروں کے کاربار میں بھی ملوث ہیں۔ ان کے مطابق ہلمند سے کوئٹہ اور کراچی تک ایک نیٹ ورک کے تحت یہ نظام چلتا ہے۔

اسی بارے میں