#Coronavirus: ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کے بعد مقامی سطح پر پاکستانی زائرین کے ایران میں داخل ہونے پر عارضی پابندی

پاکستان، ایران تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کے باعث بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان سے زائرین سمیت دیگر پاکستانی شہریوں کے ایران میں داخل ہونے پر عارضی طور پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

ضلع چاغی میں تفتان، ایران سے پاکستان کی قانونی تجارت اور زیارتوں کے لیے پاکستان اور ایران کے درمیان آمدورفت کے لیے سب سے بڑی گزرگاہ ہے جسے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بند کر دیا گیا ہے۔

رخشاں ڈویژن میں انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ایران میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کے بعد سرحدی علاقوں سے ایران میں داخلے پر مقامی سطح پر پابندی لگائی گئی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ تاحال وفاقی حکومت کی جانب سے آمد و رفت پر باقاعدہ ایسی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے ۔

سینئر اہلکار کے مطابق احتیاطی تدابیر کے طور پر سرحدی علاقوں سے لوگوں کی ایران میں داخلے پر پابندیوں کے باعث ان زائرین کو واپس ان کے علاقوں کی جانب بھیج دیا گیا ہے جو کہ ایران جانے کے لیے پہلے سے تفتان میں موجود تھے۔

تفتان میں انتظامیہ کے ایک اور اہلکار نے بتایا کہ زائرین کو واپس بھیجنے کا سلسلہ سینیچر کے روز سے شروع کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سینچر کے روز سے اب تک کوئٹہ کی جانب واپس بھیجے جانے والے زائرین کی تعداد سو سے زائد تھی۔

سڑک کے راستے ایران جانے والے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے زائرین کا زیادہ تر تعلق پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخوا سے ہوتا ہے۔

یہ زائرین سب سے پہلے کوئٹہ پہنچتے ہیں اور اس کے بعد ان کو قافلوں کی شکل میں کوئٹہ سے سرحدی شہر تفتان پہنچایا جاتا ہے اور اسی طرح ایران سے قافلوں کی شکل میں واپس لایا جاتا ہے۔

تفتان کوئٹہ سے مغرب میں اندازاً ساڑھے چھ کلومیٹر سے زائد کے فاصلے پر ہے ۔

قافلوں کی شکل میں ان زائرین کو ایران لانے اور لے جانے کا سلسلہ ان پر بلوچستان میں ہونے والے حملوں کی پیش نظر شروع کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس: پاکستان اس سے بچاؤ کے لیے کتنا تیار ہے؟

پاکستانیوں کی چین سے واپسی پر ممانعت تنقید کی زد میں

چین سے پاکستان آنے والوں کی نگرانی کیسے کی جا رہی ہے؟

سرکاری حکام کے مطابق بلوچستان کے ایران سے متصل دیگر سرحدی علاقوں سے لوگوں کی آمدورفت کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے ۔

قبل ازیں ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کے بعد صوبہ بلوچستان کے بعض اضلاع میں اتوار کو طبی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔

گذشتہ روز ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد چار جبکہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 18 ہو گئی تھی جس میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بلوچستان کی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق احتیاطی تدابیر میں مقامی سطح پر پاکستانی زائرین کی ایران داخلے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

سرحدی شہر تفتان سے زائرین سمیت دیگر پاکستانی شہریوں کو ایران میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا ہے تاہم چیف سیکرٹری بلوچستان نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

’مقامی سطح پر پابندی‘

رخشاں ڈویژن کے کمشنر ایاز خان مندوخیل نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ایران میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کے بعد مقامی سطح پر سرحدی علاقوں سے پاکستانی زائرین کی ایران داخلے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تاحال وفاقی حکومت کی جانب سے آمدورفت پرباقاعدہ ایسی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔

چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن (ر) فضیل اصغر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس پابندی سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ رابطہ کرنے پر بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور حافظ باسط نے بتایا کہ تاحال بلوچستان یا وقاقی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے ایران آمدورفت پر کوئی باضابطہ پابندی نہیں لگائی گئی۔

تفتان میں انتظامیہ کے ایک اور اہلکار نے بتایا کہ زائرین کو واپس بھیجنے کا سلسلہ سنیچر کے روز سے شروع کردیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Government of Balochistan

سرکاری حکام کے مطابق بلوچستان کے ایران سے متصل دیگر سرحدی علاقوں سے لوگوں کی آمد و رفت کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔

بلوچستان میں ’طبی ایمرجنسی‘

صوبے میں محکمہ صحت نے گذشتہ ماہ سے اب تک ایران سے واپس آنے والے پاکستانی زائرین سے کہا ہے کہ وہ کھانسی اور بخار کی صورت میں فوری طور پر قریبی ہسپتال میں اپنا طبی معائنہ کرائیں۔

بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی معاونت سے تفتان شہر میں 100 بستروں پر مشتمل خیمہ ہسپتال قائم کیا جارہا ہے۔

اعلامیے کے مطابق تفتان بارڈر پر پہلے سے دو ڈاکٹر تعینات تھے جبکہ مزید سات ڈاکٹر آٹھ ’تھرمل گنز‘ کے ساتھ تفتان پہنچ گئے ہیں جو ایران سے آنے والے زائرین اور دیگر مسافروں کی سکریننگ کریں گے جبکہ اسلام آباد سے این آئی ایچ کی ٹیمیں بھی تفتان پہنچ رہی ہیں جو طبی عملے کو تربیت دیں گی۔

بلوچستان کی ایران سے متصل سرحد پر کتنے اضلاع ہیں؟

کوئٹہ میں ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق صوبہ بلوچستان کی ایران سے متصل اضلاع کی تعداد پانچ ہے۔ ان اضلاع میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تاہم ان تمام اضلاع میں سے ایران اور صوبہ بلوچستان کے درمیان سب سے زیادہ آمد ورفت ضلع چاغی کے سرحدی شہر تفتان سے ہوتی ہے۔

تفتان جہاں قانونی طور پر ایران سے تجارت کا سب سے بڑا مرکز ہے وہیں ایران جانے والے پاکستانی زائرین کی آمد ورفت بھی اسی راستے سے ہوتی ہے۔

ایران کی صورتحال ’انتہائی تشویشناک‘

ایران میں ہونے والی ان ہلاکتوں کے بعد گذشتہ روز عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم کا ایک اہم بیان سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’یہ امکان کہ اس وائرس پر قابو پا لیا جائے گا ’کم‘ ہوتا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں تشویش اس بات پر ہے کہ بہت سے کیسز کا براہ راست اس مرض سے کوئی واضح تعلق نظر نہیں آتا جیسا کہ ٹریول ہسٹری یا تصدیق شدہ کیسز کی تاریخ۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ہونے والی اموات اور انفیکشن کی صورتحال ’انتہائی تشویشناک‘ ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں سامنے آنے والے کیسز کا مرکز مقدس شہر قم ہے۔ یہ دارالحکومت تہران کے جنوب میں واقع ہے جو کہ خطے میں شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے۔

ایران نے جمعہ کو قم میں مزید دو ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی اس سے قبل جمعرات کو بھی دو ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

ادھر ایرانی محکمہ صحت کو خدشہ ہے کہ یہ وائرس ایران کے تمام شہروں میں پہلے سے موجود تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Government of Balochistan
Image caption ایران سے منسلک سرحدی علاقوں میں طبی ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد کورونا وائرس کی روک تھام کے اقدامات اور احتیاطی تدابیر کا آغاز کردیا گیا ہے

بلوچستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے اقدامات

ایران سے منسلک سرحدی علاقوں میں طبی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے کورونا وائرس کی روک تھام کے اقدامات اور احتیاطی تدابیر کا آغاز کردیا گیا ہے۔

سرکاری اعلامیہ کے مطابق کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تفتان میں ایمرجنسی سینٹر قائم کر دیا گیا ہے۔

اس تناظر میں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جس پر انھوں نے وائرس کی روک تھام اور سکریننگ کی سہولیات کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اس سے قبل صوبہ بلوچستان میں چینی باشندوں کی موجودگی کے باعث متعدد شہروں میں کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Government of Balochistan
Image caption گوادر میں کورونا وائرس کے حوالے سے تین مراکز قائم کیے گئے جبکہ صحت کے بین الاقوامی ادارے ڈبلیو ایچ او نے خصوصی کٹس بھی فراہم کیں

صوبائی محکمہ صحت کے مطابق بلوچستان میں کورونا وائرس کی مجموعی طور پر مانیٹرنگ اور اس کی روک تھام کے لیے 14 رکنی تکنیکی کمیٹی بنائی گئی تھی اور ان علاقوں کی جانب خصوصی توجہ مرکوز کی گئی تھی جہاں چینی باشندے موجود ہیں۔

ان علاقوں میں گوادر کے علاوہ ضلع چاغی میں سیندک اور کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کا علاقہ دودڑھ شامل ہیں۔

گوادر میں کورونا وائرس کے حوالے سے تین مراکز قائم کیے گئے جبکہ صحت کے بین الاقوامی ادارے ڈبلیو ایچ او نے خصوصی کٹس بھی فراہم کیں۔

خیال رہے کہ گوادر سمیت بلوچستان میں تاحال کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

اسی بارے میں