مناسب رشتے کی تلاش: ’شادی سے پہلے مجھے 40 خاندان دیکھنے آئے‘

کیا کبھی آپ نے ’ٹرالی والے مہمانوں‘ کا ذکر سُنا ہے؟ جنوبی ایشیا کے قدامت پسند معاشرے میں لڑکوں کی شادی کے لیے لڑکیوں کو اُن کے گھر جا کر دیکھنے کا رواج عام ہے۔

جہاں یہ نظام لڑکیوں میں احساسِ کمتری پیدا کرتا ہے وہیں معاشرے میں پدرسری رویے کو فروغ دینے کا باعث بھی بنتا ہے۔ لیکن اب ایک عورت نے اِس متعصبانہ رویے کے خلاف آواز اُٹھائی ہے۔ ملیے راحت رضا سے بی بی سی کے نامہ نگار کریم الاسلام کی اِس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔