#Coronavirus:ایران کے سفر پر تاحکم ثانی ممانعت، بلوچستان حکومت کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ صوبے کی سرحدی علاقوں سے تاحکم ثانی کسی کو بھی ایران جانے کی اجازت نہیں دے گی۔

بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے وہ ایرانی حکومت سے رابطہ کرکے ان پانچ ہزار زائرین کو اس وقت تک پاکستان نہیں بھیجے جب تک ان کی 14یوم کی قرنطینہ کی مدت پوری نہیں ہو جاتی۔

یہ بھی پڑھیے

ایران میں کورونا وائرس، تفتان کی سرحد عارضی طور پر بند

کورونا وائرس: پاکستان اس سے بچاؤ کے لیے کتنا تیار ہے؟

پاکستانیوں کی چین سے واپسی پر ممانعت تنقید کی زد میں

تصویر کے کاپی رائٹ Government of Balochistan
Image caption ایران سے منسلک سرحدی علاقوں میں طبی ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد کورونا وائرس کی روک تھام کے اقدامات اور احتیاطی تدابیر کا آغاز کردیا گیا ہے

یہ باتیں حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی ۔

لیاقت شاہوانی نے کہا کہ بلوچستان سے ایران آمدورفت کے پانچ پوائنٹس ہیں ۔ بلوچستان حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تمام پوانٹس کے علاوہ دیگر سرحدی علاقوں سے کسی کو بھی تاحکم ثانی ایران جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے علاوہ دیگر صوبائی حکومتوں کو مراسلہ تحریر کرکے درخواست کی گئی ہے کہ وہ بلوچستان حکومت سے تعاون کریں اور وہاں کے جو شہری ہیں ان کو اس وقت تک ایران جانے سے روکیں جب تک کورونا وائرس کے حوالے سے ایران میں صورتحال ٹھیک نہیں ہوتی ۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان حکومت نے سرحدی حکام کو سختی سے تاکید کی ہے وہ کسی کو بھی ایران جانے کی اجازت نہ دیں۔

لیاقت شاہوانی نے کہا کہ سرحدی شہر تفتان میں ایران جانے کے لیے جو 98 زائرین اور دیگر افراد موجود تھے ان کو بھی روک دیا گیا ہے اور انہیں واپس ان کے علاقوں میں بھیج دیا جائے گا ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان سے پانچ ہزار زائرین بلوچستان کے راستے ایران گئے ہیں۔ انہوں نے ان کے حوالے سے وفاقی حکومت کو درخواست کی گئی وہ ایرانی حکومت سے رابطہ کرکے ان زائرین کو 14یوم تک کوارنٹین کرے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت سے یہ بھی کہا جائے کہ وہ صرف ان لوگوں کو بھیج دے جو کہ کلیئر ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو زائرین ایران سے بلوچستان میں داخل ہوں گے۔ ان کو بھی سرحدی علاقوں میں 14یوم کے لیے کوارنٹین میں رکھا جائے گا۔ اگر کسی میں کرونا وائرس پایا گیا تو ان کو سرحدی علاقوں میں قائم آئیسولیشن مراکز میں رکھا جائے گا ۔ جہاں علاج معالجے اور مکمل صحت مند ہونے کے بعد ان کو ان کے علاقوں کی جانب جانے دیا جائے گا ۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جنوری 2020سے اب تک ایران سے 7ہزار ایک سو 64زائرین واپس آئے ہیں۔ ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں جاکر چیک اپ کروائیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر واپس آنے والا کوئی شخص چیک اپ نہیں کروائے گا تو ان کی تفصیلات ان کی متعلقہ حکومتوں کو فراہم کی جائیں گی ۔

لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ جب خدانخواستہ صورتحال بہت زیادہ خراب ہوئی تو بلوچستان حکومت وفاقی حکومت سے ایران اور افغانستان کے ساتھ مکمل طور پر سرحد کو سیل کرنے کی درخواست کرے گی تاہم ابھی تک بلوچستان حکومت نے اپنے طور پر کسی کو ایران جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ دس ہزار ماسک بھی بھیجوا دیئے گئے ہیں ۔ اسی طرح تفتان سو خیمے بھیجے گئے ہیں جن میں آئیسو لیشن وارڈ بنائے جائیں گے ۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان کے مطابق کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے جو بھی ضروری اقدامات ہیں وہ ایران سے متصل سرحدی علاقوں میں کردیئے گئے ہیں ۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان حکومت سے تعاون کریں اور وہ ایران میں کرونا وائرس کے خاتمے تک ایران جانے کی خواہش ظاہر نہ کریں

اسی بارے میں