جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی حکومت کی نمائندگی سے معذرت

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپریم کورٹ نے اب اس معاملے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو عدالت کی معاونت کے لیے کہا ہے

پاکستان کے نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں حکومت کی نمائندگی سے معذرت کر لی ہے۔

پیر کو جب سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے معاملے میں انھیں ’مفادات کے ٹکراؤ‘ کا سامنا ہے جس کی بنا پر وہ اس معاملے سے علیحدہ ہو رہے ہیں لہٰذا اگر کوئی اور اس کیس میں دلائل دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔

اس پر سپریم کورٹ میں بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس معاملے پر کوئی دلائل نہیں دیتا تو یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت کی معاونت کریں تاکہ اس معاملے کو کسی نتیجے تک پہنچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

’میرے فیصلوں سے حکومت، ایجنسیاں سخت ناراض تھیں‘

’ابھی ہم آپ کو کھیلنے کے لیے آسان اوور دے رہے ہیں‘

خالد جاوید خان کو پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل بنانے کا فیصلہ

اُنھوں نے کہا کہ وہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود رہے اور جس تناظر میں یہ درخواستیں دائر کی گئی ہیں انھیں اس بارے میں بھی علم ہے، لہذا اگر وہ چاہیں تو اس بارے میں دلائل دے سکتے ہیں۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل کی طرف سے ان درخواستوں میں وفاق کی نمائندگی کرنے سے معذوری کے بعد عدالت کی نظر میں ایڈشنل اٹارنی جنرل ہی سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اُنھیں تیاری کے لیے وقت دینے کو تیار ہے اور ان کی طرف سے ان درخواستوں کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کرنے سے متعلق استدعا منظور کی گئی ہے۔

تاہم موقع پر موجود وزیرِ قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اگر عدالت اجازت دے تو وہ خود اس معاملے میں وفاق کا مؤقف عدالت کے سامنے پیش کریں گے۔

اس پر جسٹس قاضی امین نے وزیرِ قانون سے استفسار کیا کہ کیا وہ دلائل دینے سے قبل اپنے عہدے سے مستعفی ہوں تو بیرسٹر فروغ نسیم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

سماعت کے دوران پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی روسٹرم پر آئے اور عدالت کو بتایا کہ پاکستان بار کونسل کے قواعد و ضوابط کے مطابق کوئی بھی وکیل اگر وہ وزیر ہے تو اس وقت تک عدالت میں بطور وکیل پیش نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی وزارت سے مستعفی نہ ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Linkdin
Image caption اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے معاملے میں انھیں 'مفادات کے ٹکراؤ' کا سامنا ہے

’مفادات کے ٹکراؤ‘

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے عدالت سے استدعا کی کہ انھوں نے دو روز قبل سپریم کورٹ میں جو درخواست دائر کی تھی اس کو بھی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ اس درخواست سے متعلق پاکستان بار کونسل کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر ہونے والے صدارتی ریفرنس میں اُن کا کردار مشکوک ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں ملزم کی وکالت کرنا اور اس کے علاوہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں عدالت میں پیش ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وزیر قانون عدلیہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کے ’ماسٹر مائنڈ‘ ہیں۔

اس درخواست میں ان الزامات کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت نے اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ کوئی مقدس گائے نہیں ہے اور عدالتوں کو بھی دنیا بھر میں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سماعت کے دوران سابق اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور کی طرف سے اپنے متنازع بیان پر غیر مشروط معافی کے بارے میں عدالت نے یہ نہیں بتایا کہ اس معافی کو قبول کیا گیا ہے یا نہیں۔ تاہم بینچ کے سربراہ نے گذشتہ سماعت پر اونچی آواز میں بات کرنے کو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں اونچی آواز میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا ہے کہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے معاملے میں انھیں ’مفادات کے ٹکراؤ‘ کا سامنا ہے

خیال رہے کہ فروغ نسیم ماضی میں بھی عہدہ چھوڑ کر سپریم کورٹ میں وفاق کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ انھوں نے فوج کے سربراہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے میں ایسا کیا تھا۔

واضح رہے کہ اٹارنی جنرل خالد جاوید کی تعیناتی کے بعد جب ان سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل میں کارروائی روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس ضمن میں 24 فروری کو عدالت میں ایک بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

ان درخواستوں کی سماعت سے قبل وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم اور اثاثہ جات کی برآمدگی یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر اٹارنی جنرل آفس میں اکھٹے ہوئے اور ان درخواستوں کے حوالے سے مشاورت کی۔

اس دوران میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر قانون نے سابق اٹارنی جنرل کے خلاف ایک مقامی نجی چینل پر کی گئی گفتگو پر مغذرت کی۔ وزیر قانون نے اپنے بیان میں انور منصور کو جھوٹا قرار دیا تھا۔

میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو میں وزیر قانون نے اپنا یہ بیان واپس نہیں لیا جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ سابق ’اٹارنی جنرل نے استعفیٰ دیا نہیں بلکہ لیا گیا ہے۔‘

انور منصور کے مستعفی ہونے کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ استعفیٰ لینے کے لیے ان سے کسی حکومتی شخصیت نے رابطہ نہیں کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اس کیس کی مزید سماعت 30 مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اٹارنی جنرل نے استعفیٰ دیا یا ان سے استعفی لیا گیا؟

’ایف بی آر جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سے تعاون کرے‘

’صدر کا کردار ربڑ سٹمپ ہے تو یہ خطرناک بات ہے‘

یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران حال ہی میں مستعفی ہونے والے اٹارنی جنرل انور منصور وفاق کی نمائندگی کر رہے تھے تاہم بینچ میں شامل ججوں کے بارے میں ایک متنازع بیان دینے پر ان سے استعفیٰ لے لیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فروغ نسیم ماضی میں بھی عہدہ چھوڑ کر سپریم کورٹ میں وفاق کی نمائندگی کر چکے ہیں

عدالت نے انور منصور خان سے اس بیان پر تحریری معافی بھی طلب کی تھی جس کے بعد انھوں نے عدالت کو دی گئی ایک درخواست میں معافی مانگ لی تھی۔

جسٹس فائز عیسیٰ کا جواب

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اس معاملے میں سنیچر کو سپریم کورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف صدارتی ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر، وزیر اعظم، وزیر اعظم کے معاون خصوصی، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سمیت غیر قانونی جاسوسی کے عمل میں ملوث افراد کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے جواب میں کہا کہ انھوں نے کوئٹہ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے 75 افراد سے متعلق رپورٹ لکھی تو صوبے میں متحرک ایجنسیاں سیخ پا ہو گئیں اور اس وقت اور بہت ہنگامہ آرائی ہوئی۔

ان کے مطابق جب انھوں نے فیض آباد دھرنا کیس سے متعلق فیصلہ دیا تو اس سے بھی جہاں حکومت اور اس کے اتحادیوں میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی وہیں مختلف ایجنسیاں بھی اس سے سخت نالاں ہوئیں۔ ان کے مطابق یہ وہ موقع تھا جس کے بعد ان کے خلاف ایک محاذ کھڑا کیا گیا۔

اپنے جواب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ اثاثہ جات ریکوری سے متعلق بنائے گئے یونٹ کے سربراہ نے ٹیکس جمع کرنے والے وفاقی ادارے ایف بی آر اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے اور قومی شناخت سے متعلق ادارے نادرا سے میرے کوائف اکھٹے کرنا شروع کردیے۔

سپریم کورٹ کے جج کے مطابق ’ان اداروں نے بلا چوں چراں میرے اور میرے خاندان کے افراد سے متعلق معلومات حکومت کے ساتھ شیئر کر دیں۔

ان کے مطابق یہ ادارے اس طرح ذاتی معلومات دینے کے روادار نہیں تھے تاہم انھوں نے ایسا کر کے ایک غیر قانونی کام کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں