#Coronavirus: بلوچستان میں حکومت کا 250 زائرین کو قرنطینہ میں منتقل کرنے کا فیصلہ

پاکستان، ایران تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان میں ڈھائی سو کے قریب افراد کو قرنطینہ کے مخصوص مرکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں قرنطینہ کے لیے ایک مرکز میں آج تک اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو کبھی نہیں رکھا گیا تھا۔

تفتان کے مرکز میں رکھے جانے والے افراد میں ایران سے آنے والے زائرین کے علاوہ وہ زائرین بھی شامل ہیں جو ابھی تک ایران میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن وہاں جانے کے لیے تفتان میں موجود تھے۔

ایسے زائرین کی تعداد 98 ہے اور اس سے پہلے حکام کی جانب سے یہ کہا جارہا تھا کہ ان افراد کو واپس کوئٹہ کی جانب بھیج دیا جائے گا لیکن اب ایسا نہیں کیا جارہا ہے۔

تفتان انتظامیہ کے ایک سینئیر اہلکار کا کہنا ہے کہ اب ان افراد کو اس لیے نہیں بھیجا جا رہا کیونکہ یہ لوگ ایران سے آنے والے زائرین کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔

حکام نے بتایا کہ قرنطینہ کی شرائط پوری کرنے کے بعد ان تمام افراد کو ان کے آبائی علاقوں میں منتقل کیا جائے گا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

ایران میں کورونا وائرس، تفتان کی سرحد عارضی طور پر بند

چین میں مقیم پاکستانی طلبا وطن واپسی کے خواہشمند

چین سے پاکستان آنے والوں کی نگرانی کیسے کی جا رہی ہے؟

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں تیزی سے اضافے اور اس کے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلاؤ سے ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ بیماری وبائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

کورونا وائرس یعنی کووڈ-19 سے متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد چین میں ہے لیکن اس کے علاوہ اب جنوبی کوریا، اٹلی اور ایران میں بھی یہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور اسے روکنے کے لیے جدوجہد کی جا رہی ہے۔

کسی بھی بیماری کو وبا اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب بیک وقت اس بیماری کا دنیا بھر کے مختلف ممالک میں پھیلنے کا خدشہ ہو۔ طبی ماہرین ابھی تک کووڈ-19 کا توڑ ایجاد نہیں کر پائے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Government of Balochistan
Image caption ایران سے منسلک سرحدی علاقوں میں طبی ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد کورونا وائرس کی روک تھام کے اقدامات اور احتیاطی تدابیر کا آغاز کردیا گیا ہے

بلوچستان حکومت کے اقدامات

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ صوبے کی سرحدی علاقوں سے تاحکم ثانی کسی کو بھی ایران جانے کی اجازت نہیں دے گی۔

بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے وہ ایرانی حکومت سے رابطہ کرکے ان پانچ ہزار زائرین کو اس وقت تک پاکستان نہیں بھیجے جب تک ان کی 14 روز کی قرنطینہ کی مدت پوری نہیں ہو جاتی۔

ادھر حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ بلوچستان سے ایران آمدورفت کے پانچ پوائنٹس ہیں اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تمام پوانٹس کے علاوہ دیگر سرحدی علاقوں سے کسی کو بھی تاحکم ثانی ایران جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے علاوہ دیگر صوبائی حکومتوں کو مراسلہ تحریر کرکے درخواست کی گئی ہے کہ وہ بلوچستان حکومت سے تعاون کریں اور وہاں کے جو شہری ہیں ان کو اس وقت تک ایران جانے سے روکیں جب تک کورونا وائرس کے حوالے سے ایران میں صورتحال ٹھیک نہیں ہوتی ۔

انھوں نے بتایا کہ بلوچستان حکومت نے سرحدی حکام کو سختی سے ہدایت کی ہے وہ کسی کو بھی ایران جانے کی اجازت نہ دیں۔

لیاقت شاہوانی نے مزید کہا کہ اگر خدانخواستہ صورتحال بہت زیادہ خراب ہوئی تو بلوچستان حکومت وفاقی حکومت سے ایران اور افغانستان کے ساتھ مکمل طور پر سرحد کو سیل کرنے کی درخواست کرے گی تاہم ابھی تک بلوچستان حکومت نے اپنے طور پر کسی کو ایران جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ دس ہزار ماسک بھی بھیجوا دیے گئے ہیں۔ اسی طرح تفتان سو خیمے بھیجے گئے ہیں جن میں آئیسو لیشن وارڈ بنائے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین کے بعد جنوبی کوریا میں کووڈ-19 سے سب سے زیادہ متاثرہ افراد کی تعداد سامنے آئی ہے

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

چین کے صوبے ہوبائی سے شروع ہونے والی اس بیماری سے وہاں اب تک 77000 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 2600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق چین کے علاوہ دنیا بھر سے 26 ممالک میں کووڈ-19 کے 1200 کیسز سامنے آئے ہیں اور آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پیر کو افغانستان، کویت اور بحرین سے بھی کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تشخیص ہوئی ہے۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے مریض کی تعداد چین کے بعد جنوبی کوریا میں سب سے زیادہ سامنے آئی ہے جہاں اب تک سات افراد ہلاک اور 750 سے زیادہ متاثرہ کیسز کی اطلاع ہے۔

جنوبی کوریا کے 7700 فوجیوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جبکہ 11 فوجی اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں۔

یورپی ممالک میں اٹلی سے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں جہاں اب تک 150 متاثرہ افراد اور تین اموات واقع ہوئی ہیں۔

البتہ حکام ابھی تک تصدیق نہیں کر سکے ہیں کہ یہ وائرس وہاں پہنچا کیسے۔

ایران سے بھی اب تک 43 کیسز کی تشخیص ہو چکی ہے۔ ایران میں وائرس مقدس شہر قُم سے پھیلا ہے۔ اب تک وہاں 12 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے اور چین کے بعد کسی ایک ملک میں سب سے زیادہ اموات وہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں