انڈیا کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی کو ایک سال: ابھینندن پاکستان میں کوئی میزائل فائر نہ کر سکے تھے، پاکستان فضائیہ

ابھینندن تصویر کے کاپی رائٹ PTV

انڈیا کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی علاقے میں پے لوڈ گرائے جانے اور انڈین جنگی طیارے کی تباہی کے بعد اس کے پائلٹ کے پاکستان میں گرفتار ہونے کے واقعے کو ایک برس ہو گیا۔ اس کارروائی میں پاکستان کا تو کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم انڈیا کے دو جہاز واپسی کے سفر کے دوران تباہ ہوئے تھے۔

پاکستان فضائیہ نے پیر کے روز پی اے ایف ہیڈ کوارٹرز میں ایک میڈیا بریفنگ کا اہتمام کیا جس میں انھوں نے انڈیا کی طرف سے 26 فروری 2019 کے حملے کے بارے میں کیے گئے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی طرف سے بالاکوٹ کے مدرسے پر حملے کی کوشش کے نتیجے میں انڈیا کے دو جہاز گرائے گئے۔ جبکہ انڈیا کی جانب سے جلد بازی میں گرائے گئے پے لوڈ سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ابھینندن کی ڈرامائی گرفتاری کی کہانی

’مونچھیں ہوں تو ابھینندن جیسی ورنہ نہ ہوں۔۔۔‘

ونگ کمانڈر ابھینندن کے جہاز کے ملبے کی تصویری جھلکیاں

’گنتی کی ہے، پاکستانی ایف 16 تعداد میں پورے ہیں‘

پی اے ایف کی طرف سے بریفنگ کا آغاز کرتے ہوئے ایئر کوموڈور سید عمر شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ 26 فروری کو رات دو بج کر پینتالیس منٹ پر انڈین اییر فورس کے 12 جہاز پاکستان کی سرحد کے گرد گھومتے رہے جس پر پاکستان کی طرف سے جلد ردّعمل دکھانے پر چھ واپس چلے گئے جبکہ چھ سرحد کے نزدیک آئے۔

اور ہڑبڑاہٹ میں جابہ کے مقام پر پے لوڈ فائر کرکے چلے گئے۔

اس کے ردّعمل میں پاکستان کی طرف سے 27 فروری کی صبح انڈیا پر پاکستان کی جانب سے جوابی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ’انڈیا کے دو جہاز گرائے گئے۔‘

’ابھینندن پاکستان میں کوئی میزائل فائر نہ سکے تھے‘

ایئر کوموڈور سید عمر شاہ نے سلائیڈ دکھاتے ہوئے بتایا کہ انڈیا کے دونوں جہازوں میں سے ایک لائن آف کنٹرول کی جانب گرا جبکہ دوسرا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گرا۔ ’لیکن پائلٹ اور ونگ کمانڈر کا دعویٰ کے اس نے پاکستان پر گرنے سے پہلے میزائل گرایا ہے سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔‘

ائیر کوموڈور سید عمر شاہ نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ’نہ تو ونگ کمانڈر ابھینندن نے اپنے جہاز سے کوئی میزائل فائر کیا تھا اور نہ ہی پاکستان فضائیہ کے کسی جہاز کو نقصان پہنچایا۔‘

انھوں نے ثبوت کے طور پر ابھینندن کے جہاز سے ملنے والے چاروں میزائل بھی دکھائے۔ اور جہاز کا ملبہ گرنے کی جگہ سے اس کی سیٹ بھی دکھائی۔

سلائیڈ دکھاتے ہوئے سید عمر شاہ نے کہا کہ ابھینندن کا جہاز اُلٹی طرف گِرا جس کی وجہ سے دو میزائل آدھی جلی ہوئی حالت میں ملے جبکہ دو بالکل سالم حالت میں پائے گئے۔

’انڈیا کا یہ دعویٰ کہ پاکستان فضائیہ کے جہاز پر میزائل سے حملہ کیا گیا غلط ہے کیونکہ میزائل کا روکٹ موٹر اپنی جگہ موجود ہے،‘

اس کے بعد پی اے ایف کی جانب سے ایک امریکی ماہر کی طرف سے ویڈیو دکھائی گئی جس نے ابھینندن کے جہاز سے ملنے والے میزائیل کا تجزیہ کرکے یہ ثابت کیا کہ یہ میزائیل استعمال نہیں ہوئے۔ اور نہ ہی کسی ایف 16 کو مار گرایا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستانی فضائیہ کے میوزیم میں ابھینندن کا مجسمہ

اس بریفنگ سے جہاں چند سوالات کے جواب ملے، وہیں بریفنگ سے چند سوالات اور پیدا ہوئے۔

پی اے ایف کو ایک سال کا عرصہ کیوں لگا یہ ساری معلومات دینے کے لیے؟

اس بارے میں پی اے ایف کے ترجمان ایئر کوموڈور احمر رضا نے کہا کہ ’ہم اُس وقت حالتِ جنگ میں تھے۔ ہم ساری معلومات ایک ساتھ نہیں دے سکتے تھے۔ جس کے لیے ہمیں صحیح وقت کا انتظار کرنا پڑا۔ہم موقع محل کا انتظار کررہے تھے۔‘

کیا پاکستان امریکہ کی طرف سے کانٹریکٹ کا پابند ہے اور ایف 16 استعمال کرنے میں کیا کسی رکاوٹ کا سامنا ہے؟

اس بارے میں سید عمر شاہ نے کہا کہ ’پاکستان صرف اپنی سرحدیں سنبھالنے کا پابند ہے۔ ہم جس ملک سے جو بھی خریدتے ہیں اُس کو استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کبھی بھی براہِ راست فوج سے رجوع نہیں کرتا بلکہ وزارتِ خارجہ کے تحت بات چیت کی جاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان اپنے دفاع کے لیے جنگی طیاروں سمیت مختلف قسم کا اسلحہ اور جنگی سازو سامان امریکہ سے خریدتا رہا ہے

کیا پاکستان کے پاس اپنا دفاع کرنے کی فضائی صلاحیت موجود ہے؟

اس بارے میں پی اے ایف کے ترجمان احمر رضا نے کہا کہ ’پی اے ایف کے پاس تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔ ہم ہتھیاروں کی دوڑ میں نہیں لگنا چاہتے۔ ہم انڈیا کی طرف سے استعمال ہونے والے جنگی جہازوں کا بھی موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن موازنہ کرنے کا مقصد کمزوری تلاش کرنا ہے۔ اپنی کمزوری ظاہر کرنا نہیں۔‘

ابھینندن کے جہاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے پی اے ایف کے ترجمان احمر رضا نے کہا کہ ’ابھینندن کا جہاز کوئی معمولی جہاز نہیں تھا۔ اس جہاز کو مار گرانا ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔‘

بریفنگ کے دوران دکھائی گئی ویڈیو میں موجود امریکی ایوی ایشن ماہر کو پاکستان نے بلایا تھا یا وہ خود آئے تھے؟

اس سوال پر پی اے ایف کے ترجمان نے کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ باہمی تعلق برقرار ہیں جس کے تحت اُن کی کمپنیاں تکنیکی مدد فراہم کرتی رہتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اس ایک واقعے کی وجہ سے وہ پاکستان آئے ہوں۔‘

سابق فاٹا میں بمباری کی ویڈیوز اور تصویریں جلد جاری کی جاتی ہیں لیکن 27 فروری کے واقعے کی تصاویر اب تک کیوں منظرِ عام پر نہیں آئیں؟

ایئر کوموڈور سید عمر شاہ نے کہا کہ ’آج کل کومبیٹ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے ریڈار تصویر کے علاوہ ہم زیادہ نہیں دکھا سکتے۔‘

اسی کے ساتھ اییر کوموڈور نے کہا کہ ’26 فروری کو ہم نے ٹارگٹ کو لاک کیا تھا۔ جس کا مطلب ہے کہ وہ ہماری فائرنگ رینج میں تھا۔ لیکن فائر اس لیے نہیں کیا کیونکہ ہمارے یعنی پی اے ایف کے رُولز آف انگیجمنٹ کا ادراک کرنا ہوتا ہے۔ جس کے تحت ہم یہ اجازت لیتے ہیں کہ مارا جائے یا نہیں۔ بات کو مزید نہ بڑھانے کے لیے فائر نہیں کیا۔‘

جب 27 فروری کے روُلز آف انگیجمنٹ کے بارے میں سوال کیا گیا، تو ائیر کوموڈور سید عمر شاہ نے کہا کہ ’یہ روُلز کلاسیفائیڈ ہوتے ہیں۔اور ہر موقع پر نہیں بتائے جاتے۔`

ان سب سوالوں کے برعکس بریفنگ کے آخر تک پی اے ایف کے ترجمان نے ایف 16 جہاز استعمال ہونے کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی اس کی تردید کی۔

اسی بارے میں