ارینج میرج: بہترین رشتے ڈھونڈنے کا ذریعہ یا ذہنی دباؤ کا باعث، سوشل میڈیا صارفین کی رائے کیا ہے؟

جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں کئی والدین ارینج میرج سسٹم کے تحت پہلے اپنے بچوں کے رشتے دیکھتے ہیں اور پھر ان کی شادیاں کرتے ہیں جس میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ لڑکوں یا لڑکیوں کو رشتے کی آفر سے انکار سننے کو ملے۔

کبھی کسی لڑکے کا چھوٹا قد تو کبھی لڑکی کی ملازمت کی خواہش یا کوئی اور وجہ اس رشتے سے انکار کی وجہ بن جاتی ہے۔

بی بی سی نے پیر کو اپنے فیس بک پیج پر لوگوں سے پوچھا کہ آیا انھیں کبھی ایسی صورتحال سے گزرنا پڑا کہ جب لڑکی یا لڑکے والوں نے دیکھنے اور ملنے کے بعد رشتے سے انکار کر دیا ہو۔

اس موضوع پر جہاں ایک طرف لوگوں نے کہا کہ وہ ارینج میرج سسٹم سے خوش ہیں اور یہ نظام پاکستانی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔ تو وہیں ایسے صارفین بھی تھے جنھوں نے اس نظام سے جڑے منفی رحجانات کی طرف اشارہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

’ابو سے کہا، میرا مُجرا بند کروا دیں‘

پاکستان میں شادیوں کا بجٹ کتنا ہوتا ہے؟

’کم عمری‘ میں شادی کرنے والے جوڑے کی دھوم

اس موضوع پر سوشل میڈیا صارفین ایک پیج پر دکھائی نہیں دیے اور مختلف رائے کا اظہار کیا گیا۔

’ارینج میرج، پائیدار رشتہ‘

ارشد اقبال نامی ایک صارف کا کہنا تھا کہ ارینج میرج پائیدار ہوتی ہے جس میں بہت ساری چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔

لبنا شیخ نے ان سے اتفاق کیا اور مزید کہا کہ رشتہ طے کیے جانے سے قبل دونوں خاندانوں کی سوچ اور خیالات کا ہم آہنگ ہونا بے حد ضروری ہوتا ہے۔

’انکار کی صورت صرف تبھی پیدا ہوتی ہے کہ جب سوچ یا رہن سہن کے طور طریقے دونوں گھرانوں کے مختلف ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/BBC

رشتے سے انکار کرنے کا حق

صارف فواد خان نے فیس بک کمنٹس میں اپنے رشتے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں انھیں ریجیکشن (انکار) کا سامنا کرنا پڑا ’مگر اب وہ شادی شدہ ہیں اور خوش ہیں۔‘

فواد کی رائے میں لڑکی والوں کو انھیں انکار کرنے کا پورا حق تھا ’چاہے ان کے انکار کرنے کی وجہ کوئی بھی ہو۔‘

دوسری جانب نجم خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ پاکستان جیسے پدرشاہی نظام میں ارینج میرج کے نظام میں کافی نقص ہیں اور اسے فروغ نہیں دینا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’قد ناپنا، کتاب پڑھوانا اور عمر پوچھنا‘

چند صارفین نے ہمیں پیغام بھجوا کر کے ان مسائل پر روشنی ڈالی جن کا انکار کی صورت میں لڑکوں یا لڑکیوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک خاتون نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو اپنی بہن کے ساتھ پیش آئے ریجیکشن (انکار) کا واقعہ شیئر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اُن کی بہن کو متعدد بار انکار کا سامنا کرنا پڑا جہاں ایک مرتبہ رشتہ دیکھنے والوں نے لڑکی سے کتاب پڑھوا کر یہ جانچنے کی کوشش کی کہ آیا لڑکی پڑھی لکھی ہے بھی کہ نہیں۔

’لڑکی کا قد بھی ایک بار ناپا گیا، اور حیران کُن طور پر ایک دفعہ تو لڑکی کے چہرے کی جلد کو بھی اس غرض سے محسوس کیا گیا کہ یہ معلوم ہوسکے کہ آخر جلد قدرتی ہے بھی کہ نہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان تمام واقعات کے بعد بھی اُن کی بہن کو ریجیکشن کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد وہ کافی عرصے تک ذہنی دباؤ کا شکار رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/BBC

تعلیم کے علاوہ سوشل میڈیا صارفین نے لڑکیوں کی عمر کو رشتے سے انکار کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

محمد فاروق نے لکھا کہ: ’ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی زیادہ عمر ان کے رشتے قبول ہونے میں رکاوٹ کی وجہ ہے۔‘

لڑکے بھی رشتوں سے انکار سنتے ہیں؟

رشتہ مسترد ہونے کے بہت سے واقعات ہمارے ساتھ لڑکوں نے بھی شیئر کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

محمد جواد نامی ایک صارف نے بتایا کہ لوگوں کی طرف سے ان کے رشتے کو متعدد بار مسترد کیا گیا جہاں ایک بار یہ کہہ کر کہ ’میری ملکیت میں اپنا گھر نہیں‘ جبکہ انھیں ایک مرتبہ موقع پر یہ کہا گیا کہ ’برادری وہ نہیں جو دوسرے گھرانے کو درکار ہے۔‘

ملک نواز نامی ایک صارف نے اپنے تجربات کی بات کی اور پیغام میں لکھا کہ ’خاندان سے باہر پڑھے لکھے رشتے کے چکر میں تعلیم اور روزگار کے باوجود 15 جگہ سے انکار ہوا اور اسی چکر میں عُمر بھی نکلتی جا رہی تھی۔‘

ملک نواز کے مطابق ارینج میرج ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ’اتنے نخرے اور اتنی ڈیمانڈز ہوتی تھیں۔ میں کافی عرصے تک ذہنی دباؤ کا شکار رہا اور یہ نظام دیکھ کر حیران ہوتا رہا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/BBC

ارینج میرج میں انکار کے حوالے سے بشرہ زبیر نے اپنے کمنٹ میں لکھا کہ ’اس سے ذہنی صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’معاشرے میں رائج رشتہ دیکھنے کے طریقہ کار پر نظرثانی ہونی چاہیے۔‘

اسی بارے میں