#CoronavirusOutbreak: پاکستان میں کورونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق

پاکستان میں سکرینگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں کرونا وائرس کے دو مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے

‎پاکستان کے وزیر مملکت برائے صحت ظفر مرزا نے پاکستان میں کورونا وائرس کے دو مریضوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے

بدھ کی شب کوئٹہ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس اے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے صحت نے کہا کہ وہ تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے دو مریض ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک مریض کراچی اور دوسرا وفاقی علاقے میں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دونوں مریض گذشتہ 14 دنوں میں ایران کا سفر کر چکے ہیں۔ظفر مرزا کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حال ہی میں چین یا ایران کا سفر کر کے آیا ہے تو وہ کسی ڈاکٹر اور محکمۂ صحت کی ہیلپ لائن سے ضرور رجوع کرے۔

پاکستان انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کورونا وائرس کا ایک مریض جس کا تعلق سکردو سے ہے، اس کے نتائج مثبت ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ مریض کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اس مریض نے ایک ماہ پہلے ایران کا سفر کیا تھا۔ادھر بلوچستان کے وزیر تعلیم نے صوبے بھر میں سرکاری، نجی تعلیمی اداروں اور دینی مدارس کو 15 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

سیکریٹری تعلیم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق میٹرک کے جاری امتحانات کو بھی ملتوی کیا گیا ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق میٹرک کے بقیہ پرچوں کے انعقاد کا اعلان بعد میں کیا جائے گا ۔

اس سے قبل صوبہ سندھ کی وزارت صحت کے ترجمان میران یوسف نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں پہلا کیس کراچی میں رپورٹ ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مریض کی کیس ہسٹری سے معلوم ہوا ہے کہ انھوں نے ایران کا سفر کیا تھا جہاں سے انھیں یہ وائرس منتقل ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے فضائی سفر کر کے پاکستان واپس پہنچے تھے۔

متاثرہ نوجوان اور ان کے خاندان کو آغا خان ہسپتال میں قرنطینہ میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے ہمراہ جن مسافروں نے بھی سفر کیا محکمہ صحت کے حکام ان کا معائنہ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اپنے ہوائی اڈوں اور سرحدی راستوں پر سکریننگ کا عمل مزید سخت کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

افغان سرحد پر سکریننگ

افغانستان میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد پاکستان کے افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں سے پاکستان میں داخل ہونے والے افراد کی سکریننگ کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان فیصل نسیم نے بتایا کہ سکریننگ کا عمل ضلعی انتظامیہ کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔

پاکستان کے افغانستان کے ساتھ 11 سو کلومیٹر سرحد پر چھ اضلاع ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین ۔ قلعہ عبداللہ، نوشکی اور چاغی شامل ہیں۔

فیصل نسیم مطابق ان تمام اضلاع میں انٹری پوائنٹس پر پاکستان میں داخل ہونے والوں کی اسکریننگ کی جارہی ہے۔

ان اضلاع میں سب سے زیادہ آمد و رفت قلعہ عبد اللہ میں چمن سے ہوتی ہے۔

چمن سے نہ صرف سینکڑوں کی تعداد میں لوگ کاروبار کی غرض افغانستان میں داخل ہوتے ہیں جبکہ اسی راستے سے افغان شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد علاج معالجہ سمیت دیگر مقاصد کے لیے بلوچستان آتے ہیں۔

ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق محکمہ صحت کا عملہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے افراد کی سکریننگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ اس سلسلے میں غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے ان کا ساتھ دیاجارہا ہے۔

پاکستان ایران سرحد پر پھنسے زائرین

اس وقت 300 کے قریب پاکستانی پاک ایران سرحد پر موجود پاکستان ہاؤس میں بنائے گئے قرنطینہ سینٹر میں موجود ہیں۔ انھیں کہا گیا ہے کہ وہ 14 دن سے پہلے یہاں سے نہیں نکل سکتے۔

ہزاروں زائرین ایران میں بھی موجود ہیں تاہم سرحد سیل کر دی گئی ہے۔ یوں نہ صرف زائرین بلکہ کاروباری افراد اور ڈرائیور بھی سرحد کے اس پار پھنس کر رہ گئے ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر تفتان مجیب اللہ قمبرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایرانی حکومت نے اپنے شہریوں کی واپسی کی درخواست کی تھی جس کے نتیجے میں 307 ایرانی شہریوں کو سرحد پار جانے دیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس جانب سے کوئی اور پاکستانی ملک نہیں لوٹا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی آئے گا اسے قرنطینہ میں 14 دن گزارنے ہوں گے۔

خیال رہے کہ بہت سے پاکستانی زائرین ایران سے آگے شام، عراق اور سعودی عرب بھی جاتے ہیں۔ یہ زائرین اس وقت کوئٹہ میں سرحد کھلنے کے منتظر ہیں۔

Image caption پاکستان ہاؤس کے احاطے میں موجود زائرین کا کہنا ہے کہ سکریننگ کے بعد کوئی ڈاکٹر کی ٹیم نہیں آئی نہ ہی کوئی ماسک فراہم کیے گئے

یہ پاک ایران سرحد پر زائرین کے لیے موجود پاکستان ہاؤس ہے جسے 2017 میں بنایا گیا تھا۔ اس عمارت میں وسیع ہال ہیں لیکن اس وقت اس کے مرکزی گیٹ کو بند کر دیا گیا ہے اور اسے قرنطینہ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور وہ ٹینٹ بھی اسی کا حصہ ہیں جو حال ہی میں اس عمارت کے باہر نصب ہوئے ہیں۔

پاکستان ہاؤس میں موجود ایک قافلے کے سالار اور ان کے ساتھ موجود زائر نے بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کو اندر کی صورتحال اور مسائل سے آگاہ کیا۔ جسے ان ہی کے الفاظ میں پیش کیا جا رہا ہے۔

Image caption اندر موجود زائرین کا کہنا ہے کہ کسی کو کورونا تو نہیں لیکن مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو ڈاکٹر اور دوا کی ضرورت ہے جسے پورا نہیں کیا جا رہا

ہم اس وقت ایسے ہی ہیں جیسے ایک جیل میں ہیں۔ انھوں نے باہر تالا لگا رکھا ہے ہم باہر نہیں جا سکتے نہ ہی کوئی اندر آتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر آئیں گے آپ کو چیک کریں گے کھانا آپ کو یہیں ملے گا۔

حالانکہ کہ پہلے جب ہماری سکریننگ ہوئی تو انھوں نے کہا تھا کہ آپ میں سے کسی میں بھی کورونا وائرس کی علامات نہیں ہیں۔

ہم 23 جنوری کو گھر سے نکلے تھے پھر تفتان سرحد کراس کر کے قم میں گئے پھر کربلا گئے پھر شام سے واپس مشہد لوٹے۔ ہم 19 فروری کو واپس پاک ایران سرحد پر تفتان پہنچے۔

یہاں تین سو لوگ اکھٹے ہو چکے ہیں جن میں دو بچے اور تقریباً سو کے قریب خواتین ہیں۔ ایران میں تو ہمیں کسی نے کچھ نہیں بتایا ہم یہاں پہنچے تو ہماری تیاری تھی اگلی صبح گھر واپسی کا سوچ رکھا تھا۔

مزید پڑھیے

کورونا وائرس: تفتان میں 250 افراد قرنطینہ منتقل

تفتان کی سرحد بند، ایران سفر کرنے پر تاحکم ثانی پابندی

بلوچستان: ’کسی چینی کارکن میں کورونا وائرس نہیں پایا گیا‘

یہاں سرحدی حکام نے ہمیں کہا کہ آپ کو ایک دو دن میں یہاں سے نکالا جائے گا لیکن پھر انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی ٹیم آئے گی آپ کو چیک کرے گی ابھی وائرس آیا ہوا ہے۔ آپ کو جانے کی اجازت نہیں مل سکی۔

ڈاکٹرز کی ٹیم تو نہیں آئی ایک ڈاکٹر آیا اور اس نے ہماری سکریننگ کی۔ پھر کہا کہ ابھی آپ کو 14 دن ادھر ہی رہنا ہے۔

پھر حکام نے ہمیں کہا کہ پاکستان ہاؤس کے باہر ڈاکٹر موجود ہیں وہ آپ کو دیکھنے آئیں گے۔ مگر پھر منگل کو طبی عملے نے ایک بار پھر ہماری سکریننگ کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PDMA
Image caption پاکستان ہاؤس پاک ایران سرحد پر موجود ان خیموں میں ابھی کوئی مریض نہیں ہے

انھوں نے باہر تمبو(ٹینٹ) لگائے ہیں ان میں دو دو بیڈ بھی لگائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اگر زائرین میں سے کوئی بیمار ہوا تو اسے وہاں شفٹ کیا جائے گا۔

ابھی یہاں ایک خاتون دل کی مریضہ ہیں۔ ایک اور مریض کی ٹانگ سوج رہی تھی انھیں ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو ڈاکٹر نے چھ سات فٹ دور سے انھیں دیکھا اور دوا ان کی جانب دور سے پھینک دی۔ یہ کوئی طریقہ علاج تو نہیں ہے۔

دوسرا مریض ابھی بھی دوا کا منتظر ہے۔

انھوں نے ہم میں سے کسی کو بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر ایک ماسک تک نہیں دیا۔

یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ 100 کے قریب زائرین کو یہاں سے نکال دیا گیا ہے تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

پہلے دو تین دن تو ہم اپنے پیسوں سے کھانا خرید رہے تھے لیکن پھر کل سے انھوں نے مفت میں کھانا دینا شروع کیا ہے۔

یہاں سردی کی شدت تو نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم 14 دن یہاں کیسے رہیں گے؟

یہاں ہال موجود ہیں جن میں کارپٹ بچھی ہوئی ہے اور ہم اس پر بستر لگا کر سوتے ہیں۔ بستر ہم نے 50 روپے روزانہ کرائے پر لیے ہوئے ہیں۔

ہمیں وضو کرنے میں پریشانی ہے اور نہانے کا تو ہم سوچ نہیں سکتے کہ بیمار ہی نہ ہو جائیں۔

ابھی یہاں جتنے بھی لوگ موجود ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ ہاں ایک دن یہاں زائرین نے شور مچایا احتجاج کیا تھا کہ جانے دیا جائے۔

ابھی ہم نے کوئٹہ کا سفر `10 سے بارہ گھنٹے میں طے کرنا ہے۔ ہم سے کہا گیا ہے کہ اگر آپ نے ایران سے اپنے بعد پہنچنے والوں سے بھی میل جول کیا تو پھر آپ کے 14 دن دوبارہ سے شروع ہو جائیں گے۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ 22 کے بعد بھی بائی ائیر آنے والوں کو تو ملک کے مختلف حصوں میں جانے دیا گیا ہمارے لیے پابندی کیوں ہے۔

’ہم تو دیوار سے صرف سو گز کا فاصلہ طے کرتے ہیں‘

Image caption سرحد پر کھڑی گاڑیاں اب نہ ادھر جا سکتی ہیں نہ ادھر سے ادھر آ سکتی ہیں

اس سرحدی بندش سے تجارت کا مسئلہ تو ہوا ہے لیکن دونوں جانب سامان لانے لے جانے والے پاکستانی ٹرک ڈرائیور اور مزدور بھی پھنس کر رہ گئے ہیں۔ سرحد کو الگ کرنے والی دیوار سے چند ہی گز دور موجود پاکستانی ڈرائیور بھی شکایات کرتے دکھائی دیے۔

بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق فون پر بات چیت میں انھوں نے اپنا احوال کچھ یوں بتایا۔

آج تیسرا دن ہے ہم یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم لوگ ایک دن میں ایک پھیرا کرتے ہیں یہ دیوار ہے اس کو کراس کر کے آج جاتے ہیں۔ سو گز کا ہی تو فاصلہ طے کرتے ہیں۔ آگے تو نہیں جاتے ہم۔ سامان اتار کر چلے جاتے ہیں۔ یہ پاکستان اس دیوار سے نظر آرہا ہے۔ انھوں نے گیٹ سیل کر دیا ہے۔ ہمیں تو جانے دیا جائے۔ یہاں نہ روٹی ہے نہ کھانے پینے کا انتظام ہے۔ ہم آتے ہوئے بھی ایران کی جانب سے کلیئر کیا ہوا ہے ہمارا چیک اپ ہوا ہے جو لوگ آگے جاتے ہیں ان کا چیک اپ کیا جائے۔

Image caption ایرانی سرحد پر موجود پاکستانی ڈرائیورز اور مزدور

ایرانی حکام پاکستان کو کہہ رہے ہیں کہ اپنے بندے لے لیں ہمارے دے دیں لیکن پاکستانی کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے بندے نہیں چاہیے۔

ہم لوگ تو اس سرحدی گیٹ سے ایک کلومیٹر بھی آگے نہیں گے۔

’یہ نہیں پتہ کہ کتنا انتظار کرنا ہوگا‘

اس وقت سرحد پار تو ہزاروں زائرین موجود ہیں جوب فی الحال پاکستان نہیں لوٹ سکتے لیکن پاکستان کے مختلف علاقوں سے تفتان کی سرحد تک جانے کا سفر طے کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں۔ یہ لوگ کوئٹہ میں سرحد کھلنے کے منتظر ہیں۔

نامہ نگار محمد کاظم سے کوئٹہ میں موجود کچھ زائرین نے گفتگو کی۔

لاہور کے رہائشی عمران بھی ان زائرین میں شامل ہیں جو اپنے کنبے کی خواتین اور بچوں کے ہمراہ ایران جانے کی منتظر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم ٹرین کے ذریعے ایک لمبا سفر طے کر کے یہاں تک پہنچے ہیں راستے میں پتہ چلا کہ راستہ بند ہے۔ ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وائرس کا مسئلہ تو ہے لیکن ائیر پورٹ پر یا جو گزرگاہ ہے وہاں احتیاطی تدابیر اپنائیں۔ ہم پورا تیار ہو کر آئیں ہیں کہ زیارت کریں۔ فی الحال ہم یہی کہیں گے کہ ہمیں جانے دیا جائے۔ ہم تین چار پانچ دن تک تو انتظآر کریں گے پھر واپس چلے جائیں گے۔

Image caption کوئٹہ میں بہت سے زائرین ایران جانے کے لیے منتظر ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ دو تین دن مزید انتظار کریں گے

راولپنڈی سے آنے والے مجتبیٰ کہتے ہیں کہ ’منگل کی صبح وہ کوئٹہ پہنچے ہیں۔ ہم پانچ لوگ آئے ہیں۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ انتظار کریں اب کتنا انتظار یہ ہمیں نہیں پتہ۔ دیکھتے ہیں ابھی زیادہ انتظار کرنا پڑا تو ہم واپس چلے جاتے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں