جنسی ہراس: اسلامیات کے پروفیسر کے استعفے کے بعد گومل یونیورسٹی کے یونیورسٹی کے مزید چار ملازم برخاست

خواتین

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے گورنر شاہ فرمان کی ہدایت پر گومل یونیورسٹی میں مالی بے ضابطگیوں اور جنسی ہراسگی سے متعلق قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر جنسی ہراسگی میں ملوث گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان کے 4 مزید ملازمین کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق جنسی ہراسگی کے الزام میں ملازمت سے برخاست کیے جانے والے ملازمین میں پروفیسر ڈاکٹر بختیار خان، اسسٹنٹ پروفیسر عمران قریشی، حکمت اللہ گیم سپروائزر اور حفیظ اللہ لیبارٹری اٹینڈنٹ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ولاگر کا ساتھی فنکار کے خلاف ہراسانی کا مقدمہ

جنسی ہراس: الزامات کی شفاف تحقیقات کیسے ممکن؟

’80 طالبات‘ سے جنسی ہراس: ’خاموش رہو‘

’یہ سب عورت سے نفرت والی ذہنیت کا حصہ ہے‘

واضح رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا کی ہدایت پر ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن دلنواز خان کی معطلی کا اعلامیہ پہلے ہی جاری کر دیا گیا تھا کہ جبکہ نجی ٹی وی پر حالیہ ایک رپورٹ نشر ہونے کے بعد چیئرمین شعبہ اسلامیات پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین سے بھی استعفی لے لیا گیا تھا۔

گورنر خیبر پختونخوا نے تمام یونیورسٹیوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ ’وہ اپنا نظام ٹھیک کریں، کسی کو نوکری سے نکالنا پڑے یا جیل بھیجنا پڑے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن طلبا کے مستقبل پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا‘

’اعلی تعلیمی ادارے میں جنسی ہراسگی اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا‘

مزید پڑھیے

اب مردوں کا بچ پانا آسان نہیں ہوگا

ٹائم میگزین: وہ جنہوں نے جنسی ہراس پر چُپ توڑی

سٹنگ آپریشن کے بعد پروفیسر سے استعفی لے لیا گیا

اس سے پہلے گومل یونیورسٹی کے شعبہ عربی اور اسلامیات کے پروفیسر کو خاتون کو جنسی ہراس کرنے پر یونیورسٹی انتظامیہ استعفی لے لیا گیا تھا لیکن ان کے خلاف کسی قانونی کارروائی کی اب تک تصدیق نہیں ہو سکی۔

پروفیسر صلاح الدین پر یہ الزامات پہلے بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں جس سے وہ انکار کرتے رہے لیکن گذشتہ روز انھیں ایک ویڈیو میں ریکارڈ کر لیا گیا جب وہ ایک خاتون کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہاں ایسی اطلاعات ہیں کہ پروفیسر صلاح الدین کے خلاف یونیورسٹی کی طالبات اور خواتین اساتذہ کی جانب سے شکایات سامنے آئی تھیں لیکن انتظامیہ نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔

گذشتہ روز ایک نجی ٹیلیویژن کے پروگرام میں پروفیسر صلاح الدین کی ایسی ویڈیو ریکارڈ کیں جس میں وہ جنسی ہراسانی میں ملوث پائے گئے، جس پر انتظامیہ نے ان سے زبردستی استعفیٰ لے لیا ہے لیکن ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

کیا قانونی کارروائی ممکن ہے ؟

گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سرور نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں شکایات پہلے بھی موصول ہوئی تھیں لیکن وہ ثابت نہیں ہو سکی تھیں لیکن جب یہ ثابت ہوگیا تو ان سے استعفی لے لیا گیا ہے۔

ان سے جب پوچھا کہ وہ یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی میں ملوث پائے گئے ہیں تو ان کے خلاف کیا کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’کسی سے استعفی لے لینا بڑی کارروائی ہے۔‘

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پروفیسر صلاح الدین کے حلاف کوئی مدعی نہیں ہے اس لیے وہ ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کر سکتے اور نہ ہی وہ خود کسی ادارے سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی جائے۔

ان سے جب کہا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ خود وفاقی تحقیقاتی اداروں سے کہہ کر ان واقعات کی تحقیقات کرا سکتی ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت ایسا کریں گے جب مدعی کوئی آئے گا اور وہ اس کو مزید دیکھیں گے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ پروفیسر صلاح الدین سٹی کیمپس کے کوآرڈینیٹر کے طور پر بھی کام کر رہے تھے۔

ان کے مستعفی ہونے کے بعد شکیب اللہ کو سٹی کوآرڈینیٹر کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ یونیورسٹی ذرائع نے بتایا کہ شکیب اللہ پر بھی 2010 میں اس طرح کے الزامات عاید کیے جا چکے ہیں۔

اس بارے میں وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر محمد سرور نے بتایا کہ اگر یہ سب دیکھا جائے تو کسی نہ کسی پر کوئی الزامات ہیں تو وہ پھر کسے تعینات کریں۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع گومل یونیورسٹی میں مالی اور انتظامی بے قاعدگیوں اور جنسی ہراسگی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں اور اس بارے میں اعلیٰ پیمانے پر انکوائریاں بھی کی گئی ہیں لیکن ان انکوائریوں میں تجاویز پر کچھ خاص عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ تحقیقاتی اداروں نے پروفیسر کے خلاف کارروائی کی ہے لیکن اس بارے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پروفیسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

یاد رہے چند ماہ پہلے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کے وائس چانسلر کی کسی لڑکی کے ساتھ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔ تحقیقاتی ادرے کے مطابق اس بارے میں تحقیقات کی جارہی ہیں جس کی رپورٹ جلد مکمل کر لی جائے گی۔

انکوائری کمیٹی نے کیا کہا تھا؟

گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے گومل یونیورسٹی کے اساتذہ اور دیگر عملے کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر مکمل تحقیقات کا حکم دیا تھا جس کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔

اس کمیٹی نے ذیلی کمیٹیوں کی رپورٹس کی بھی جانچ پڑتال کی اور تحقیقات کے لیے مالی، انتظامی بے قاعدگیوں کے علاوہ جنسی ہراسانی جیسے واقعات، غیر قانونی تعیناتیوں اور دیگر شکایات کی جانچ پڑتال کی گئی۔

اس کمیٹی کو پروفیسر صلاح الدین کے بارے میں شکایات سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ پروفیسر صلاح الدین کو تنبیہ کی جائے کہ طالبات کے معاملے میں محتاط رہیں اور یہ کہ انھیں انتظامی عہدے سے علیحدہ یا ہٹایا جائے۔ اس کے علاوہ انکوائری کمیٹی نے کہا تھا کہ انھیں کسی طالبہ کی ریسرچ پیپر کی نگرانی نہ دی جائے۔

یہ بھی کہا گیا کہ شکایت کنندہ مسز طیبہ کی تسلی کے لیے ان کے پیپرز کسی اور جگہ سے چیک کرائے جائیں۔ مسز طیبہ بھی پروفیسر صلاح الدین کے خلاف شکایت کرنے والوں میں شامل تھیں۔ گومل یونیورسٹی میں ایک ایسی ویڈیو بھی کچھ عرصہ قبل سامنے آئی تھی جس میں ایک خاتون شکایت کرتے سنی جا سکتی ہیں۔

پروفیسر صلاح الدین نے اگرچہ اپنے خلاف ان الزامات سے تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ بنیادی طور پر سخت مارکنگ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اس لیے ان کے خلاف شکایات کی جا رہی ہیں۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سرور سے جب انکوائری رپورٹ کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں کچھ ثابت نہیں ہوا تھا اور ایسے ہی کسی شخص کے خلاف وہ کیسے کارروائی کر سکتے تھے۔

یونیورسٹی اساتذہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یونیورسٹی کے معاملات ایک عرصے سے خراب چلے آ رہے ہیں جس کے خلاف انھوں نے مختلف فورمز پر احتجاج بھی کیے اور اعلیٰ حکام کو اس بارے میں آگاہ بھی کیا تھا لیکن بات صرف انکوائریوں تک ہی محدود رہی۔

انھوں نے کہا کہ احتجاج کرنے پر متعدد اساتذہ اور دیگر عملے کے خلاف سخت کارروائیاں کرتے ہوئے انھیں نوکریوں سے برخاست کیا گیا جبکہ اب انتظامیہ کے حمایت یافتہ کوآرڈینیٹر پروفیسر صلاح الدین کو صرف مستعفی کر دیا گیا ہے۔

گومل یویورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر شعیب گنگوہی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے گورنر کے اقدامات کو سراہتے ہیں جنھوں نے ڈائریکٹر ایڈمنٹسریشن دل نواز کو نوے روز کے لیے معطل کردیا ہے اور نجی ٹی وی کی کارروائی سے جنسی ہراسانی کے واقعات میں ملوث پروفیسر کو بے نقاب کرنے کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پر عمل کردیا جاتا تو حالات اس نہج تک نہ آتے۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی میں ان عناصر کی پشت پناہی کرنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

اسی بارے میں