Imran Khan: نئی دلی کے فسادات پر عمران خان کے ٹوئٹر پیغامات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کے دارالحکومت نئی دلی میں ہندو مسلم فسادات پر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بدھ کو ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ 'نفرت کی بنیاد پر نسل پرستانہ نظریات کا حامل گروہ جب بھی غالب آتا ہے، قتل و غارت گری اور خونریزی کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔‘

وزیر اعظم پاکستان نے ہمسایہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے سلوک پر ممکنہ پاکستان کے اندر ممکنہ رد عمل کی پیش بندی کرتے ہوئے ایک اور پیغام میں خبردار کیا ہے ملک کے اندر موجود اقلیتوں کی طرف کوئی بری نظر ڈالنے کی کوشش نہ کرے۔

اس پیغام میں عمران خان نے کہا کہ 'آگاہ رہو! پاکستان میں اگر کسی نے بھی غیر مسلم شہریوں پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی یا کسی عبادت گاہ کی جانب بری نظر سے دیکھا تو نہایت سختی سے پیش آئیں گے۔ ہماری اقلیتیں اس ملک کی برابر کی شہری ہیں۔

یاد رہے کہ انڈیا میں سنہ 1992 میں بابری مسجد کے ردعمل میں پاکستان کے متعدد شہروں بشمول راولپنڈی اور لاہور میں کئی مندرو کو مسمار کر دیا گیا تھا۔

عمران خان نے ایک مرتبہ پھر انڈیا کی سخت گیر نظریات کی حامل حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو 'نازی ازم' کی وارث قرار دیا۔ 'آج ہم جوہری صلاحیت کی حامل ایک ارب سے زیادہ انسانوں پر مشتمل ریاست بھارت کو نازی ازم کی وارث آر ایس ایس کے ہاتھوں میں گرتا دیکھ رہے ہیں۔'

انھوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں انھوں نے پیش گوئی کی تھی کہ ایک مرتبہ جن بوتل سے نکل آیا تو خونریزی میں شدت آئے گی۔ کشمیر آغاز تھا۔ 'آج ہندوستان میں مقیم بیس کروڑ مسلمان نشانے پر ہیں۔ عالمی برادری کیلے کچھ کرنے کا بلاشبہ یہی وقت ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عمران خان کے یہ ٹوئٹر پیغامات انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں کئے گئے ہیں اس کے علاوہ صدرِ پاکستان عارف علوی نے بھی نئی دلی میں ایک مسجد کو جلائے جانے کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

گزشتہ تین دن سے دلی میں جاری فسادات پر نریندر مودی نے بدھ کو ایک ٹوئٹر پیغام میں لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'امن اور یگانگت ہماری اقدار کا مرکزی نکتہ رہا ہے۔' انھوں نے کہا کہ وہ اپنے دلی کے بہنوں اور بھائیوں کو امن اور بھائی چار برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہیں۔ 'یہ اہم ہے کہ امن اور معمولات کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔'

نریندر مودی نے اس بیان میں دِلی میں پولیس کے اوپر اٹھنے والے سوالات کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں