مریض کی جان بچانے کے لیے قیمتی لمحے کیسے ٹریفک کے رش کی نذر ہو جاتے ہیں؟

  • عزیز اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
،ویڈیو کیپشن

ایمبولینس میں موجود مریض یا زخمی کے پاس اکثر چند ’گولڈن منٹس‘ ہوتے ہیں جن میں ایک قیمتی جان بچائی جا سکتی ہے

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ٹریفک میں پھنسی ایمبولینس کا منزل تک پہنچنا کتنا ضروری ہوتا ہے؟

تھوڑی دیر کے لیے تصور کریں کہ اس ایمبولینس میں آپ کا ہی کوئی جاننے والا ہو اور اس کے پاس چند قیمتی لمحے ہوں جن میں اس کی جان بچ بھی سکتی ہو اور دوسری صورت میں ان لمحوں کے بعد وہ جان کی بازی ہار جائے۔

آج ہم صرف اس احساس کو جگانے کی کوشش کرتے ہیں جو ہر انسان میں پایا تو جاتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کر پاتا یا اپنی ذاتی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سڑک پر موجود ان گاڑیوں ایمبولینس، فائر بریگیڈ کی گاڑی اور پولیس کی وہ گاڑی جسے کسی جرم والی جگہ پر پہنچنا ہوتا ہے انھیں راستہ نہیں دیتے۔

پاکستان میں صرف پانچ فیصد لوگ ایسے ہیں جو ٹریفک میں پھنسی ہوئی ایمبولینس کو راستہ دینے کی کوشش کرتے ہیں باقی 95 فیصد لوگوں کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ امدادی ادارے ان چند لمحوں کو جن میں کسی مریض یا زخمی کی جان بچائی جا سکے گولڈن منٹس یا قیمتی لمحے کہتے ہیں اور ان چند لمحوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ریسکیو ورکرز کے مطابق سینکڑوں گاڑیوں میں گھری ہوئی ایمبولینس کے ڈرائیور اور ریسکیو ورکرز کے لیے وہ لمحے کتنے مشکل اور تکلیف دہ ہوتے ہیں جب ایمبولینس میں موجود زخمی یا مریض کے پاس چند گولڈن منٹس ہوتے ہیں۔ امدادی کارکنوں کے مطابق بیشتر ایسے مریضوں یا زخمیوں کے پاس 10 سے 15 گولڈن منٹس ہوتے ہیں جنھیں اگر وقت پر ہسپتال پہنچا دیا جائے تو ان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پشاور میں ریسکیو 1122 سروس میں تعینات میڈیکل ٹیکنیشن نور الامین ایک عرصے سے ان ایمبولینسز میں مریضوں اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

نورالامین نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور کنٹرول روم کو روزانہ تقریباً ایک لاکھ اٹھارہ ہزار کالز موصول ہوتی ہیں جن میں حقیقی ایمرجنسی کالز لگ بھگ تین ہزار تک ہی ہوتی ہیں باقی سب کالزغیر ضروری یا ان سے متعلق نہیں ہوتیں۔ پشاور میں صرف ریسکیو 1122 کی روزانہ کوئی 100 ایمرجنسی گاڑیاں سڑکوں پر نکلتی ہیں اور ان تمام گاڑیوں کو راستے پر شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر امدادی ادارے جیسے ایدھی، چھیپا اور نجی سطح پر کام کرنے والی ایمبولینسز کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

لوگوں میں شعور اور آگہی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ایمرجنسی گاڑیاں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں جس سے انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

نور الامین نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ سڑک کنارے حادثے کے زخمی کی ابتدائی امداد کے لیے پہنچے تو وہاں بڑی تعداد موجود افراد زخمی کو اٹھا رہے تھے، زخمی شخص کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر تھا اور جب تک وہ زخمی کو ہسپتال پہنچاتے وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔

،تصویر کا کیپشن

پشاور کنٹرول روم کو روزانہ تقریباً ایک لاکھ اٹھارہ ہزار کالز موصول ہوتی ہیں جن میں حقیقی ایمرجنسی کالز لگ بھگ تین ہزار تک ہی ہوتی ہیں باقی سب کالزغیر ضروری یا ان سے متعلق نہیں ہوتیں

اگر ہم صرف پشاور کی سڑکوں پر ریسکیو 1122 کی کارکردگی دیکھیں تو صرف جنوری کے مہینے میں 2440 مریضوں یا زحمیوں کو کامیابی سے ریسکیو کیا گیا اور انھیں ہسپتال تک پہنچایا گیا ہے جبکہ 91 افراد ہسپتال تک نہیں پہنچ پائے یا طبّی امداد پہنچنے سے پہلے ہی وہ دم توڑ چکے تھے۔

میڈیکل ٹیکنیشن نورالامین کا کہنا تھا کہ ان کو روزانہ مختلف واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں سے چند ان کے ذہن پر نقش ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ایک ایمرجنسی کال موصول ہوئی اور جب ان کے ساتھی موقع پر پہنچنے تو معلوم ہوا ایک معمر شخص کو دل کا دورہ پڑا ہے جبکہ ان کے رشتہ دار یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ انتقال کر چکے ہیں۔ ریسکیو ورکرز نے موقع پر پہنچتے ہی مریض کو ایمولینس میں منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ طبّی امداد دینا شروع کی جس میں سی پی آر (مصنوعی طریقے سے سانس کو بحال کرنے کا عمل) شروع کیا اور 20 منٹ تک سی پی آر کرنے کے بعد ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی مریض کی دھڑکن اور سانس بحال ہو چکی تھی جس پر ڈاکٹروں نے انھیں شاباش دی۔

ایمبولینس کے ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں زیادہ تر رکشہ ڈرائیور اور موٹر سائیکل سوار ایسے طلبا جو دو سے زیادہ ایک ہی موٹر سائیکل پر سفر کر رہے ہوتے ہیں ایمبولینس کو راستہ نہیں دیتے جس سے انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شیر خان ایک سرکاری افسر ہیں ان کا کہنا تھا کہ وہ اکثر ایسی ٹریفک میں پھنس جاتے ہیں جہاں وہ چاہیں بھی تو ایمبولینس کو راستہ نہیں دے سکتے لیکن اپنی سی کوشش کر کے وہ سڑک کے ایک طرف ہو جاتے ہیں جس کا مقصد لوگوں کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ ایمبولینس کو راستہ دینا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان عروج شیرازی نے بی بی کو بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے 14 شہروں میں ان کی سروسز مہیا کر دی گئی ہیں لیکن پشاور، مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت متعدد شہروں میں انھیں ٹریفک کے مسائل کا سامنا ہے۔ جہاں ایمرجنسی گاڑیاں جن میں ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور پولیس کی گاڑیاں شامل ہیں کچھ لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے ٹریفک میں پھنس جاتی ہیں۔

عروج شیرازی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ریسکیو کے ادارے کو گذشتہ دس برس میں وسعت دی گئی ہے اور اب لوگ ایمرجنسی کی صورت میں ان کی مدد طلب کرتے ہیں۔

اسی طرح پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی سرکاری ریسکیو سروسز کے علاوہ دیگر امدادی ادارے اور تنظیمیں اس طرح کے فلاحی کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

عوامی رائے میں ایمبولینس سمیت دیگر ہنگامی صورت میں مدد پہنچانے والی گاڑیوں کو سڑکوں پر راستہ دینے کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کے لیے سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایسے تمام اداروں اور تنظیموں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ لوگوں میں یہ احساس زمہ داری ہونا چاہیے اور اس کا عملی مظاہرہ کریں کہ جب کوئی ایمرجنسی کی گاڑی آئے تو اس کے لیے راستہ دینا ان کا اخلاقی اور انسانی فرض بن جاتا ہے۔