چک بھارت، جہاں کی یاترا کے لیے کسی ویزے کی ضرورت نہیں

  • کریم الاسلام
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سیالکوٹ
چک بھارت

تاج محل دیکھنے کی خواہش کس کے دل میں نہیں؟ کون ہے جو دلی جانے کی تمنا تو کرے لیکن حضرت نظام الدین اولیا کے مزار پر حاضری کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اور زندگی میں کم از کم ایک بار پِنک سٹی جے پور کی سیر کی آرزو تو ہر آوارہ گرد ہی کرتا ہے۔

اگر میری طرح یہ آپ کی بھی وش لسٹ پر ہے، لیکن ہر بار سفر کا ارادہ کرتے ہی انڈیا پاکستان کے خراب تعلقات، سرحدوں پر جاری کشیدگی یا ویزا کی مشکلات آڑے آ جاتی ہیں تو دل چھوٹا نہ کریں۔ ’بھارت‘ یاترا کا ایک آسان نسخہ ہم بتائے دیتے ہیں۔

لیکن خیال رہے کہ اِس ’بھارت‘ میں نہ تو کسی مغل بادشاہ کی بنوائی گئی یادگار ہے، نہ کسی ولی اللہ کا مزار اور نہ ہی کوئی ہوائی محل۔ یہ تو دو چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں جو پاکستان کے ضلع سیالکوٹ میں واقع ہیں اور ’چک بھارت‘ کہلاتے ہیں۔

آئیے چک بھارت کے اِس سفر میں میرے ساتھ آپ بھی اپنی انڈیا یاترا کی حسرت پوری کر لیں۔

عام سا گاؤں

24، 25 گھروں پر مشتمل ایک ’چک بھارت‘ سیالکوٹ شہر سے 23 کلومیٹر دور علاقہ بجوات میں ورکنگ باؤنڈری کے عین اوپر واقع ہے۔ جبکہ سو، ڈیڑھ سو افراد کی آبادی والا دوسرا گاؤں اسی ضلع میں کوٹلی لوہاراں سے شینی گاؤں کی طرف جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔

جنوری کی اُس سرد صبح میں گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کر کے اُترا تو اردگرد کا منظر کچھ بھی مختلف نہیں لگا۔ پنجاب کے کسی بھی دیہی علاقے کی طرح ’چک بھارت‘ بھی ایک انتہائی خوبصورت گاؤں ہے جس کی تقریباً تمام آبادی کاشت کاری کر کے گزر بسر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہر گاؤں کی طرح یہاں بھی ایک چھوٹی سی مسجد، پرائمری سکول اور قبرستان ہے۔ روزمرہ ضروریات کی اشیا خریدنے کے لیے کریانے کی دکان تو ہر چھوٹے قصبے میں موجود ہوتی ہے۔

یہاں بجلی اور سرکاری پانی کی سہولت موجود ہے لیکن کھانا پکانے کے لیے گیس سیلنڈر یا لکڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ گاؤں والوں کے موبائل فونز پاکستانی اور انڈین دونوں ٹیلی کام کمپنیوں کے سگنلز پکڑتے ہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ سرحدی علاقہ ہونے کے باوجود علاقے میں کوئی بہت زیادہ فوجی موجودگی نظر نہیں آتی۔

بڑوں کے کام

میں ابھی گاؤں میں داخل ہی ہوا تھا کہ نظر بیٹھک میں دھوپ سینکتے بزرگوں پر پڑی۔

محمد اشرف یہاں کے نمبردار اور پاکستان رینجرز کے ریٹائرڈ انسپکٹر ہیں۔ میں نے سلام کے بعد جب اُن سے پوچھا کہ یہ انوکھا نام ’چک بھارت‘ کب اور کیسے پڑا تو اُن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

’یہ قیامِ پاکستان سے بھی پہلے کی بات ہے۔ ہمارے باپ دادا یہی نام لیتے تھے، اب ہم بھی یہی نام استعمال کرتے ہیں اور ہماری اولادوں کی زبان پر بھی یہی چڑھا ہوا ہے۔ یہ تو بڑوں کے کام ہیں، ہمیں کیا پتا اُنھوں نے کیوں یہ نام رکھا۔‘

کیا آپ انڈیا کے ہیں؟

نمبردار صاحب کے ساتھ بیٹھے محمد صدیق کی پیدائش اِسی گاؤں کی ہے۔ اُن کے باپ دادا بھی یہیں دفن ہیں۔ اب وہ یہاں ہارڈ ویئر کی دکان چلاتے ہیں۔ مجھے محمد اشرف سے بات کرتے دیکھ کر وہ بھی گفتگو میں شامل ہو گئے۔

’جب کبھی ہم شناختی کارڈ بنوانے سرکاری دفتروں میں جاتے ہیں تو اہلکار ہمیں عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ بھارت نام کا پِنڈ کہاں سے آ گیا؟ پھر پوچھتے ہیں کہ کیا آپ اب بھی بھارت میں رہتے ہیں۔ تو ہم اُنھیں بتاتے ہیں کہ ہم رہنے والے پاکستان کے ہیں لیکن ہمارے گاؤں کا نام بھارت ہے۔‘

یہاں سے اجازت لے کر میں آگے بڑھا تو گاؤں کی مسجد کے پاس سے گزرتے ہوئے حاجی محمد اسلم پر نظر پڑی۔ وہ نماز کے بعد تلاوت میں مصروف تھے۔ وہ اِس سے فارغ ہوئے تو میں نے اُن کی عمر جاننی چاہی۔

’ہو گی یہی کوئی 90 کے قریب، ایک آدھ سال اوپر نیچے۔‘

’جب پاکستان بنا تو مجھے ہوش تھا۔ اُس وقت یہاں ہندو بھی رہا کرتے تھے جو ہمارے ملازم تھے۔ یہ نام چک بھارت کیسے پڑا خدا بہتر جانتا ہے۔ ہمارے بڑے بوڑھوں کو بھی نہیں پتا تھا جیسے ہمیں نہیں پتا۔‘

نام جس میں اپنا پن ہے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

مسجد سے نکلتے وقت کسی نے ذکر کیا کہ گاؤں میں ایک نوے سالہ بوڑھی عورت بھی ہے، شاید اُسے اِس نام کے بارے میں کچھ پتا ہو۔

ہم غلام فاطمہ سے ملنے اُن کے گھر کے صحن میں داخل ہوئے تو وہ حقہ پی رہی تھیں۔ میں نے آنے کا مقصد بتایا تو ایسا لگا جیسے کسی نے اچانک اُنھیں ایک ٹائم مشین میں ڈال کر ماضی میں پہنچا دیا ہو۔ وہ ٹھیٹھ پنجابی میں شروع ہو گئیں۔

’سنہ سینتالیس میں میری عمر کوئی پندرہ، سولہ سال ہو گی۔ میں ہندو لڑکیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔ وہ بہت سوہنے لوگ تھے۔ جب تقسیم کا شور اُٹھا، اُس کے بعد حالات خراب ہوئے۔ ہندو اور سکھ جاتے ہوئے بہت ظلم کر کے گئے۔ یہاں قتلِ عام ہوا۔‘

تاریخ کا یہ سبق جاری تھا کہ دروازے پر گدھا گاڑی پر تازہ سبزیاں بیچنے والے محمد زاہد نے دستک دی۔ ماں جی تو سبزی خریدنے اور اُن کے ریٹ کم کروانے میں لگ گئیں لیکن ہم نے موقع غنیمت جان کر محمد زاہد کے سامنے بھی اپنا پسندیدہ سوال دہرا دیا۔

’ہمیں تو یہ نام بالکل عجیب نہیں لگتا۔ شاید اِس لیے کیونکہ ہم یہاں رہتے ہیں۔ ہاں کسی دوسرے پنڈ جائیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ چک بھارت ایک منفرد نام ہے۔ لیکن ہمارے لیے اِس نام میں ایک اپنا پن ہے۔‘

ماں کے ہاتھ کی چائے

ہمیں سبزی تو کیا خریدنی تھی، اپنے پن کا یہ احساس لیے فاطمہ بی بی کی گلی سے نکلے ہی تھے کہ سامنے گھر کی چھت سے کسی نے آواز دی۔ پکارنے والے کو میری جینز اور ٹی شرٹ سے اندازہ ہوا کہ ہم مہمان ہیں تو فوراً اوپر بلا لیا۔

یہ انٹر کے پرائیویٹ امتحان کی تیاری کر رہے محمد محسن رضا کا گھر تھا۔ انھوں نے اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی چائے پلائی اور ساتھ ساتھ سرحد پار والوں کے لیے امن کا پیغام بھی دیا۔

’ہمیں تو یہ نام چک بھارت اچھا لگتا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے بھی یہ نام تبدیل نہیں کیا اور ہم بھی اِسے بدلنا نہیں چاہتے۔ یہ باکل ٹھیک نام ہے۔ یہی رہنا چاہیے۔ ہم امن واسطے اس نام کو پسند کرتے ہیں۔‘

نزدیک ہی کھیتوں سے متصل جانوروں کے باڑے پر جمعہ خان اپنی بھینسوں کو چارہ ڈال رہے تھے۔ اُن سے بات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ کم از کم وہ یہ نام ہرگز نہیں بدلنا چاہتے۔

’اگر ہم یہ نام بھارت تبدیل نہ کریں تو شاید انڈیا والے ہمارے گاؤں پر فائرنگ کرنا بند کر دیں۔ کیا پتا اِس طرح حالات بہتر ہو جائیں۔ یہ نام ایسا ہی رہنا چاہیے۔‘

’لوگ ہنستے ہیں‘

لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ چک بھارت میں ہر کوئی اِس منفرد نام سے خوش ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ نام پسند نہیں کرتے۔ 45 سالہ چوہدری اسلم بھی انھی میں سے ہیں۔ ہم اُن سے ملے تو وہ ہاتھ میں درانتی لیے سرسوں کے کھیت سے گھاس کاٹ رہے تھے۔

’یہ نام اب تبدیل ہونا چاہیے اس واسطے کہ یہ انڈیا کے نام پر ہے۔ نام پہچان ہوتا ہے اور یہ پہچان ہمیں نہیں پسند۔ لوگ ہم پر ہنستے ہیں کہ یہ کیا انڈیا کے رہنے والے ہیں؟ آپ کس جگہ کے ہیں یہ کونسا گاؤں ہے؟ پھر شرمساری ہوتی ہے۔‘

’پاکستان‘ کے لیے پیغام

اِسی دوران جب میری ملاقات چک بھارت کے پرانے رہائشی اور چھوٹے کاروباری ملک طیب اعوان سے ہوئی تو انھوں نے گاؤں کا نام تبدیل نہ کرنے کی انوکھی شرط سامنے رکھی۔

’میں نے سُنا ہے کہ انڈیا کی ریاست بہار میں بھی ایک گاؤں پاکستان نام کا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی اپنا نام تبدیل نہ کریں۔ لیکن اگر وہ اپنے گاؤں کا نام بدلتے ہیں تو پھر ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔‘

’دشمن سے کیسی دوستی؟‘

ورکنگ باؤنڈری سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر گولیوں اور گولوں کی بوچھاڑ میں زندگی گزارنے والوں میں جنگ کے خیالات نہ پائے جائیں یہ ممکن نہیں۔ اِس کا اندازہ مجھے محمد جاوید سے بات کر کے ہوا۔ وہ موٹر سائیکل پر کہیں جا رہے تھے لیکن مجھے دیکھ کر رُک گئے۔

’انڈیا سے دوستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دشمن سے کیسی دوستی؟ مکار آدمی سے کیسی دوستی؟ صرف ایک ہی حل ہے اور وہ ہے جنگ۔ ہم انڈیا سے بالکل نہیں ڈرتے۔‘

جب بڑوں میں سرحد پار بسے ہمسائے کے لیے ایسے جذبات ہوں تو بچوں کے ذہن کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ میں نے بستہ کندھے پر ڈالے مدرسے سے گھر واپس جاتی آٹھ سال کی عروج فاطمہ کو روک کر پوچھا کہ انڈیا کے بارے میں جانتی ہو تو اُس نے جھٹ سر ہلا کر کہا کہ ہاں جانتی ہوں۔

’انڈیا ہمارے اوپر فائرنگ کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کشمیر وہ لیں گے، ہم کہتے ہیں کشمیر ہم لیں گے۔ وہ بہت بُرے ہیں۔ وہ پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘

بم، گولی کی مشکلات

لیکن اِن سرحدی دیہات کی اکثریت جنگ کی تباہ کاریوں کو نہ صرف سمجھتی ہے بلکہ اُس سے براہ راست متاثر بھی ہوتی ہے۔ سر پر سوکھی لکڑیوں کا گٹھر اُٹھائے 30 سالہ غلام نبی مجھے ملے تو اپنے تجربات بتانے لگے۔

’یہ ہم ہی جانتے ہیں که سرحد پر فائرنگ سے کیا مشکلات ہوتی ہیں۔ یہاں رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمیں گاؤں خالی کر کے دوسرے دیہات جانا پڑتا ہے۔ ہم نہ اپنی زمینوں پر کاشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی جانور چَرنے کے لیے چھوڑ سکتے ہیں۔ ہم بارڈر پر رہنے والے سب سے زیادہ امن چاہتے ہیں۔‘

چلتے چلتے میں گاؤں کی واحد کریانہ کی دکان پر پہنچا تو دکان کے مالک محمد عاشق سے ملاقات ہوئی۔ وہ کسی بھی تجربہ کار کاروباری شخص کی طرح انڈیا پاکستان تعلقات کو خالص معاشی نقطہِ نظر سے دیکھتے ہیں۔

’دونوں ملکوں میں سلوک ہو جائے تو اِس سے اچھا کیا ہو گا۔ ہمیں بھی کوئی مشکل نہ ہو اُنھیں بھی کوئی پریشانی نہ ہو۔ ہم اپنا کاروبار سکون سے کر سکیں گے۔ جب بم گولی چلتی ہے تو پھر تو مشکل ہی مشکل ہے۔‘

نئی نسل، نئے خیالات

امن کی خواہش دونوں طرف کی نوجوان نسل کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے اِس کا اندازہ مجھے لاہور میں ماسٹرز کر رہے 22 سالہ طالب علم ملک منظور کو دیکھ کر ہوا۔

’جیسے ہم جاتے ہیں کسی دوسرے ملک، اُسی طرح ہم انڈیا بھی جائیں اور وہاں والے اِدھر آئیں۔ یہ ہمیں اچھا لگے گا۔ یہ آنے والی نسل کے لیے بھی اچھا ہو گا۔ آئے دن کی گولا باری سے گاؤں کے بچے سہم جاتے ہیں۔ امن ہو گا تو اُن میں خود اعتمادی آ جائے گی۔‘

دوستی کا نسخہ

اور آنے والی نسل خود کیا سوچ رکھتی ہے، یہ جاننے کے لیے ہم نے اُس جگہ کا رُخ کیا جہاں یہ نسل تیار ہو رہی ہے۔ میں چک بھارت کے پرائمری سکول پہنچا تو چھٹی کا وقت قریب تھا اور لڑکے لڑکیاں صحن میں جمع تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ سب میری طرف متوجہ ہو گئے اور بات چیت شروع ہو گئی۔

جب میں نے پوچھا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ ہونی چاہیے یا دوستی تو سب ایک ساتھ بولے: ’دوستی۔‘

پھر سب سے آگے کھڑی نسبتاً بڑی عمر کی لڑکی نے انڈیا پاکستان دوستی کا انتہائی آسان نسخہ بتا کر کم از کم مجھے تو لاجواب کر دیا۔

’اگر انڈیا والے فائرنگ نہ کریں اور ہمارے فوجی بھی فائرنگ نہ کریں تو پھر دونوں ملکوں میں دوستی ہو سکتی ہے۔‘

چھٹی کی گھنٹی بجی تو ساتھ ہی اِس دس سالہ دیہاتی لڑکی نے انڈیا پاکستان ڈپلومیسی کی پیچیدہ گھتی بھی سلجھا دی۔ کاش کوئی جائے اور دلی، اسلام آباد اور نیویارک میں فائلوں کے صفحے سیاہ کرتے سفارت کاروں کو بھی جنوبی ایشیا میں امن کا یہ فارمولہ بتا دے۔

کیا پتا دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کے لیے آنے والے ستر سال گزرے ستر برسوں سے بہتر ہونے کی کوئی امید ہو جائے۔

۔