عدنان شنواری: خاصہ دار فورس کے سابق اہلکار کے قتل کے خلاف خیبر میں دس روز سے دھرنا جاری، عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

  • محمد زبیر خان
  • صحافی
عدنان شنواری کی ہلاکت کے خلاف دھرنا

،تصویر کا ذریعہMehrab Afridi

،تصویر کا کیپشن

دھرنے کے دوران پاکستان اور افغانستان کو ملانے والی شاہراہ کو صبح نو بجے سے لے کر شام پانچ بجے تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کیا جا رہا ہے

’عدنان شنواری نے اگر کوئی غلط کام کیا تھا تو اس کو عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا۔ اس کے خلاف مقدمہ چلایا جاتا اور پھر سزا دی جاتی تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوتا مگر اب میرے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا ہے۔ میں خود بھی احتجاج پر بیٹھا ہوں اور میرے ساتھ لوگ بھی احتجاج کر رہے ہیں جو کہ انصاف ملنے تک جاری رہے گا۔‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے والے قبائلی ضلع خیبر میں خاصہ دار فورس کے اہلکار عدنان شنواری کے والد اسماعیل شنواری کا جو اپنے بیٹے کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف پاک افغان سرحدی علاقے لنڈی کوتل کے حمزہ چوک میں دیگر افراد کے ہمراہ دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پیر کو یہ دھرنا دسویں روز میں داخل ہو چکا ہے، جس میں پاکستان اور افغانستان کو ملانے والی شاہراہ کو صبح نو بجے سے لے کر شام پانچ بجے تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔

عدنان شنواری کے حوالے سےانسدادِ دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنے دیگر پانچ ساتھیوں کے ہمراہ پشاور میں سرچ آپریشن کے دوران مزاحمت کرنے پر مبینہ مقابلے میں 21 فروری کو ہلاک ہوئے۔

ضلع خیبر کے ڈسڑکٹ پولیس افسر اقبال خان کے مطابق عدنان شنواری دہشت گردی کے معاملات میں ملوث تھا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ’عدنان شنواری پشاور میں سی ٹی ڈی کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب سی ٹی ڈی نے اطلاعات ملنے پر پشاور کے مضافات میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا تھا جہاں موجود دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی اور جوابی فائرنگ میں عدنان شنواری سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔‘

اقبال خان کے مطابق ’اس چھاپے میں دہشت گردوں سے تین خود کش جیکٹیں، دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہMehrab Afridi

،تصویر کا کیپشن

محمد اسماعیل کا کہنا تھا کہ اگر ان کے بیٹے نے واقعی کوئی غلط کام کیا تھا تو اس پر مقدمہ چلایا جاتا اور پھر اسے سزا دی جاتی

سی ٹی ڈی نے عدنان شنواری کو دہشت گرد قرار دیا ہے جبکہ اس کے والد اسماعیل شنواری سی ٹی ڈی کے موقف کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ برس نومبر میں رات کے وقت سکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور عدنان شنواری کو یہ کہہ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے کہ ان سے کچھ تفتیش کرنی ہے اور تین، چار روز بعد انھیں واپس بھیج دیا گیا تھا۔

اسماعیل کے مطابقہ ’چند روز بعد پھر عدنان کو اپنے ساتھ لے گئے اور اس کے بعد ہمیں میڈیا کے ذریعے علم ہوا کہ سی ٹی ڈی نے اسے دہشت گرد قرار دے کر مقابلہ میں مار دیا ہے۔‘

محمد اسماعیل کا کہنا تھا کہ ’اگر عدنان نے واقعی کوئی غلط کام کیا تھا تو اس پر مقدمہ چلایا جاتا اس کو سزا دی جاتی اور ہم کبھی بھی اس کے حق میں بات نہ کرتے مگر اب یہ واقعات بڑھتے جارہے ہیں جس پر چپ نہیں رہ سکتے۔‘

مظاہرین کے مطالبات کیا ہیں؟

عوامی نیشنل پارٹی ضلع خیبر کے صدر شاہ حسین کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر میں عدنان شنواری کے ماورائے عدالت قتل کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے چند ماہ قبل خاطر شنواری کو بھی اسی طرح قتل کیا گیا تھا۔

’ہم نے خاطر شنواری کے قتل پر بھی اسی طرح احتجاج کیا تھا جس کے بعد ہمارے ساتھ جرگے ہوئے اور ہمیں دوبارہ ایسا نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی گئی مگر اب دوبارہ ہمیں عدنان شنواری کی لاش بھجوائی گئی ہے۔ جس پر لوگ پریشان ہیں اور اب احتجاج نہیں فریاد کر رہے ہیں کہ اب ہمارے ساتھ یہ سب کچھ بند کیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے واقعات بڑھ رہے ہیں، ہمارے لوگ محب وطن، امن پسند اور انصاف پسند ہیں۔ ان لوگوں کو جب بھی حکام بلاتے ہیں تو سب لائن بنا کر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ کسی بھی دہشت گردی اور قانون شکنی میں ملوث نہیں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہMehran Afridi

،تصویر کا کیپشن

اس دھرنے میں قبائلی اضلاعی سے رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر نے بھی شرکت کی ہے

انھوں نے بتایا کہ احتجاج میں جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام ف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، قومی وطن پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر تمام سیاسی جماعتیں شریک ہیں۔

شاہ حسین کے مطابق مظاہرین کے درج ذیل مطالبات ہیں:

  • حکومت عدنان شنواری اور خاطر شنواری کے خاندان کو زر تلافی ادا کرے۔ ان کے ورثا کو شہداء پیکج دیا جائے اور دونوں واقعات کی جوڈیشل انکوائری کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔
  • آئندہ علاقے میں اگر کسی کی گرفتاری مطلوب ہو تو مقامی مشران اور سول انتظامیہ کے ساتھ رابطہ قائم کیا جائے۔ مشران اور سول انتظامیہ کے ذریعے مطلوبہ گرفتاری عمل میں لائی جائے اور پوچھ گچھ بھی سول انتظامیہ اور پولیس کرے۔
  • لوگوں کے گھروں میں رات کے وقت سکیورٹی اداروں کے اہلکار چھاپے مارنا بند کریں۔
  • اگر کسی پر شک ہے تو اس کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کی بجائے فی الفور مقدمہ درج کیا جائے۔ عدالت میں ثبوت پیش کیے جائیں اور عدالتی فیصلے کا احترام کیا جائے۔
  • ایسا نظام بنایا جائے جس میں قبائلیوں میں احساس محرومی اور ظلم و زیادتی ختم ہو اور علاقے میں امن و امان قائم رہ سکے۔

شاہ حسین کے مطابق حکام سے مذاکرات شروع ہوئے ہیں مگر معاملات ابھی تک آگے نہیں بڑھ سکے۔ انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔‘

بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے مقامی ممبر صوبائی اسمبلی شفیق شیر کا کہنا تھا کہ اس وقت کوشش کی جارہی ہے کہ علاقے میں ایک جرگہ کیا جائے جس میں تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بات چیت کے کچھ دور ہو چکے ہیں اور اس وقت ایک بڑا جرگہ منعقد کرنے کی کوشش آخری مراحل میں ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند دنوں میں افہام و تفہیم اور جرگے کی راہ ہموار ہو جائے گی جس میں تمام معاملات طے کر لیے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہMehran Afridi

،تصویر کا کیپشن

پاکستان اور افغانستان کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر دس روز سے جاری دھرنے کے باعث پاک افغان تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے

ٹرانسپورٹرز اور تاجر مشکلات کا شکار

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پاکستان اور افغانستان کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر دس روز سے جاری دھرنے کے باعث پاک افغان تجارت بھی اس وقت مشکلات کا شکار ہے۔

ٹرانسپورٹر گل خان آفریدی کا کہنا ہے کہ ’سارا دن دھرنے کے باعث ہمارے ٹرک پاکستان کی سرحد پر کھڑے رہتے ہیں اور شام کے وقت سڑک کھلنے پر سفر شروع کرتے ہیں لیکن رات کے افغانستان میں سفر کرنا محفوظ نہیں اس لیے ہمیں دوبارہ طورخم بارڈر کراس کر کے صبح تک وہی انتظار کرنا پڑتا ہے جس سے ہمیں مالی نقصان ہو رہا ہے جبکہ احتجاج کے باعث تاجر بھی اس وقت مال افغانستان بھجوانے اور وہاں سے لانے میں احتیاط کر رہے ہیں۔‘

افغانستان تجارت کرنے والے محمد شہباز کا کہنا تھا کہ احتجاج کے باعث غیر یقنی کی صورتحال ہے جس کے سبب مال افغانستان بھجوانے اور منگوانا کم ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت پہلے ہی ریکارڈ کمی کا شکار ہے، اب احتجاج کے باعث اس میں مزید کمی پیدا ہو چکی ہے۔

سال کے مختلف حصوں میں افغانستان کے ساتھ تجارت میں متعدد اشیا کی تجارت کی جاتی ہیں اور کسٹم حکام کے مطابق اس وقت پاکستان سے افغانستان تازہ پھل، سبزیاں، سیمنٹ، ماربل وغیرہ برآمد کیا جا رہا جبکہ افغانستان سے کوئلہ اور سوب سٹون درآمد کیا جا رہا ہے۔