تحفے میں ملی گاڑیاں سستے داموں خریدنے پر زرداری، نواز شریف، یوسف رضا گیلانی کے خلاف ریفرنس دائر

  • اعظم خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
نیب ریفرنس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دو وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں ’توشہ خانے‘ سے بیرون ملک سے تحائف کی صورت ملنے والی قیمتی کاریں خریدنے کا نیا ریفرنس دائر کر دیا ہے۔

نیب کے مطابق ان عوامی عہدیداروں نے خلاف ضابطہ توشہ خانے سے قیمتی گاڑیاں خریدی ہیں۔ توشہ خانے میں صدور اور وزرائے اعظم کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کو رکھا جاتا ہے اور کوئی بھی اسے گھر نہیں لے جا سکتا۔

نیب کے ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی پر سنہ 2004 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بنائی جانے والی پالیسی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ نیب نے اس سے پہلے بھی تینوں ملزمان کے خلاف متعدد ریفرنسز بنا رکھے ہیں۔

خیال رہے کہ نیب کا قیام بھی پرویز مشرف کے دور میں ہی عمل میں لایا گیا تھا اور اس ادارے پر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے جیسے الزامات لگائے جاتے ہیں، جس کی نیب تردید کرتا آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تینوں ملزمان نیب کو متعدد مقدمات میں مطلوب

سابق صدر اور دونوں وزرائے اعظم کے خلاف نیب نے متعدد مقدمات قائم کر رکھے ہیں۔ تینوں ملزمان متعدد عدالتوں میں پیش ہوتے آ رہے ہیں۔

سابق صدر آصف زرداری کو کچھ عرصہ قبل جعلی بینک اکاؤنٹس ریفرنس میں ضمانت پر رہائی نصیب ہوئی جبکہ نواز شریف نیب کے العزیزیہ ریفرنس میں سزا ملنے کے بعد علاج کی غرض سے ضمانت حاصل کرنے کے بعد اس وقت لندن میں موجود ہیں جبکہ یوسف رضا گیلانی اختیارات کے ناجائز استعمال اور مبینہ بدعنوانی کے مقدمات میں نیب کی احتساب عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔

نیب نے یہ ریفرنس جعلی بینک اکاؤنٹس میں مزید شواہد ملنے کے دعوے کے بعد دائر کیا ہے۔ اس ریفرنس میں جعلی بینک اکاؤنٹس کے دو ملزمان خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی مجید کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

نیب کا وہ ریفرنس جس میں دونوں جماعتوں کے سربراہان ملزم نامزد

توشہ خانے سے قیمتی کاروں سے متعلق خلاف ضابطہ خریداری نیب کو وہ خاص ریفرنس بن گیا ہے جس میں ملک کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت پر ملی بھگت، گٹھ جوڑ اور پارٹنرشپ کے الزامات عائد کرتے ہوئے انھیں ایک ہی ریفرنس میں ملزم نامزد کر دیا ہے۔

نیب کے ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم تھے تو انھوں نے قوانین میں نرمی پیدا کر کے سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو توشہ خانے سے گاڑیاں خریدنے کی اجازت دی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نیب کے ریفرنس کے مطابق آصف زرداری نے بطور صدر متحدہ عرب امارات سے تحفے میں ملنے والی آرمڈ کار بی ایم ڈبلیو 750 ’ Li‘ 2005، لیکس جیپ 2007 اور لیبیا سے تحفے ملنے والی بی ایم ڈبلیو 760 Li 2008 توشہ خانہ سے خریدی ہیں۔

نیب نے دعویٰ کیا ہے کہ آصف زرداری نے ان قیمتی گاڑیوں کی قیمت منی لانڈرنگ والے جعلی بینک اکاؤنٹس سے ادا کی ہے۔ ریفرنس میں ان بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جن سے مبینہ طور پر آصف زرداری نے ادائیگیاں کی ہیں۔

ریفرنس کے مطابق آصف زرداری نے گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کر رہے ہیں، انھوں نے عوامی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔

،تصویر کا ذریعہپی آئی ڈی

پیپلز پارٹی کے ریفرنس میں نواز شریف کیسے؟

ریفرنس کے مطابق اگرچہ نواز شریف نے جب یہ خریداری کی وہ عوامی عہدیدار نہیں تھے تاہم انھوں نے اس وقت کے وزیر اعظم سے ملی بھگت کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے لہٰذا وہ بھی بدعنوانی کے مرتکب قرار پائے ہیں۔

نوازشریف کو 2008 میں بغیر کوئی درخواست دیئے توشہ خانے سے گاڑی دی گئی۔

ریفرنس کے مطابق نواز شریف نے یوسف رضا گیلانی کی ملی بھگت سے اپنے لیے 15 فیصد ادائیگیاں کر کے توشہ خانے سے گاڑیاں خریدیں۔ نیب نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی مرکزی قیادت پر بددیانتی اور بدعنوانی جیسے الزامات عائد کرتے ہوئے موقف اختیار کہ ملزمان کا قانون کے مطابق ٹرائل کر کے سخت سزا سنائی جائے۔

چیئرمین نیب ’جسٹس جاوید اقبال` کے دستخطوں کے ساتھ ہی یہ ریفرنس سماعت کے لیے احتساب عدالت کے سامنے دائر کر دیا گیا ہے۔