Nawaz Sharif: نواز شریف کا شاید دل کا ایک اور آپریشن ہو: ڈاکٹر مصدق ملک

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف گذشتہ سال نومبر میں عدالتی حکم پر آٹھ ہفتے کے لیے علاج کی غرض سے بیرونِ ملک علاج جانے کی اجازت ملنے کے بعد سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کا علاج ہو رہا ہے

پاکستان مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کو شاید ایک اور بائی پاس سے گزرنا پڑے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما ڈاکٹر مصدق ملک نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ نواز شریف کی ضمانت سے پہلے ان کا معائنہ کرنے کے لیے حکومت نے ڈاکٹروں کو منتخب کیا تھا، جس کے نتیجے میں پتہ چلا کہ نواز شریف کی صحت کی صورتحال سنگین ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی کابینہ نے ان رپورٹوں کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ان کا باہر جانا کتنا ضروری ہے۔

'ان کے پلیٹلیٹس ساڑھے 16 ہزار پر آچکے تھے یہ حکومت کی رپورٹ تھی ڈاکٹر عدنان کی نہیں تھی۔'

ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اگر ابھی حکومت کہتی ہے کہ یہ سب غلط تھا تو یہ غلط بیانی کس نے کی تھی؟

انھوں نے کہا کہ امریکہ اور سویٹزرلینڈ سے آکر ان ڈاکٹروں نے نوازشریف کا معائنہ کیا ہے اس کے علاوہ وہ برطانیہ کے تین ہسپتالوں میں علاج کے لیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

مسلم لیگ ن کے رہنما نے مزید بتایا کہ ’نواز شریف کو دل کا سنگین عارضہ ہے۔ انھیں دو مرتبہ ہارٹ اٹیک ہو چکے ہیں اور دل میں سات سٹنٹ ڈل چکے ہیں۔ 22 فیصد بلڈ سپلائی ہو رہی ہے۔ گردن کی شریانیں جو دماغ کو خون سپلائی کرتی ہیں اس میں اسے ایک تقریباً بند ہے۔ ان کو سٹیج تھری کی گردے کی تکلیف ہے۔ ‘

انھوں نے کہا کہ عدالت میں پیٹ کے جس سکین کی رپورٹ جمع کروائی ہے وہ پاکستان میں نہیں ہوئی اور یہ دیکھنا ہے کہ نواز شریف کو خدانخواستہ کہیں کینسر تو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لمفنوڈ بڑے ہیں اور ان میں سوزش ہے اس کے لیے بائیوپسی ضروری ہے۔

ڈاکٹر مصدق کے مطابق نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کو فوری طور پر مستحکم کرنا بہت ضروری ہے اور شاید نواز شریف کا ایک بائی پاس کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی بار چار شریانوں کا بائی پاس کیا تھا اور اس بار بھی ڈاکٹروں کو خطرہ ہے شاید ان کا بائی پاس کرنا پڑے۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی رپورٹیں لاہور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور پنجاب حکومت کو دی گئی ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ والی صمانت ابھی بھی موجود ہے۔ حکومت عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔ انھوں نے وضاحت کی کہ وفاقی حکومت نواز شریف کے خلاف کسی بھی درخواست میں پارٹی نہیں تھی اور وفاقی حکومت جو بھی اقدامات کر رہی ہے وہ غیر قانونی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔ یہ خط پنجاب حکومت کی سفارش پر وفاقی حکومت نے وزارت خارجہ کے ذریعے برطانوی حکومت کو لکھ کر بھیجا۔

اس خط کی خبریں ترجمان کے ذریعے نہیں بلکہ ذرائع سے میڈیا پر چلنا شروع ہوئیں تو ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں نہیں معلوم میڈیا کو یہ خط کس نے لیک کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس کی تردید کرتی ہیں۔

تاہم کچھ دیر بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس خط کی تصدیق کردی۔

منگل کو فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نوازشریف کی واپسی سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف 19 نومبر 2019 سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں۔ پنجاب حکومت نے گذشتہ ماہ 25 فروری کو نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی تھی، جس کے بعد صوبائی حکومت نے وفاق کو کارروائی کے لیے خط لکھا تھا۔

حکومت نے خط میں کیا لکھا ہے؟

معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ نواز شریف کی پاکستان واپسی کی چٹھی لکھ دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف کے سہولت کار شہباز شریف سے درخواست کی گئی ہے کہ اپنے وعدے کے مطابق واپس لائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’چٹھی میں پردیسیوں کی وطن واپسی کا کہا گیا ہے۔‘

حکومت کی طرف سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر چلائے جانے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ خط میں یہ بات لکھ دی گئی ہے کہ نواز شریف کی ضمانت ختم ہو چکی ہے, اب وہ ایک مجرم ہیں۔ ذرائع سے میڈیا کو لیک کیے گئے خط کے مطابق نواز شریف ضمانت پر نہیں ہیں، انھیں پاکستان بھیجا جائے تاکہ وہ باقی سزا مکمل کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سیاسی ردعمل

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ حکومت سو خط لکھ دے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ان کے مطابق نواز شریف کی صحت سے متعلق عدالتی فیصلے موجود ہیں اور وہ عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد علاج کی غرض سے باہر گئے اور اب وہ علاج کے بعد ہی واپس آئیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان نے خود این آر او دے کر نواز شریف کو باہر بھیجا ہے اور اب وہ انجان بن رہے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ 105 دن اگر کوئی شخص اسپتال میں داخل نہیں ہوتا اور اپنی صحت سے متعلق رپورٹ نہیں بھیجتا تو کیا کیا جائے، ریسٹورنٹ کی تصاویر آنے سے ہی واضح ہوگیا تھا آپ کس لیے باہر گئے۔ آپ کے حوصلے بلند رہنے چاہیئں آپ نے واپس آکر کیسز کا مقابلہ کرنا ہے۔ آپ اپنی پارٹی کو ایک بار پھر تنہا اور لاوارث چھوڑ کر چلے گئے۔

انھوں نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میڈیا سے میرا گلہ ہے کہ آپ نے نواز شریف کے پلیٹ لیٹس سٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی طرح دکھائے، اب نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی خبر کوئی میڈیا نہیں دکھا رہا۔‘

ان کا کہنا ہے تھا کہ چٹھی لکھتے ہی لندن سے آہ و بکا شروع ہو چکی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے یہ لمبے دورے پر گئے ہیں۔ ان کے مطابق عدالت نے نواز شریف کی صحت سے متعلق میڈیکل بورڈ کو اختیار دیا تھا۔

ان کے مطابق جس میڈیکل بورڈ کی سفارش پر آپ باہر گئے وہی بورڈ کہہ رہا ہے آپکی رپورٹس حوصلہ افزا ہیں۔ شریف برادران کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’آپ نے ہمیشہ اپنی سہولت کے مطابق قانون کو استعمال کیا ہے اور عدالتی سہولت کو غلط استعمال کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہPML (N)

،تصویر کا کیپشن

نواز شریف کو علاج کی غرض سے ضمانت اور پھر بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی

قانونی ماہرین کی رائے

ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ کیونکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان حوالگی کے قانون کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے اس لیے برطانوی حکومت اس بات کی پابند نہیں ہے کہ وہ پاکستانی حکومت کی طرف سے نواز شریف کی حوالگی کی درخواست پر عمل بھی کرے۔

برطانوی وکیل مزمل مختار نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور برطانیہ میں حوالگی سے متعلق کوئی معاہدہ ہو بھی جائے تو نواز شریف کی واپسی آسان نہیں ہے کیونکہ ایک تو محض ایک خط کی بنیاد پر کسی کے خلاف ملک بدری کی کارروائی شروع نہیں کی جاتی اور دوسرا یورپی قوانین کے تحت کوئی بھی حق زندگی اور حق علاج کے قوانین کے تحت ایسے فیصلے کو چیلنج کر سکتا ہے۔

کسی شخص کی حوالگی سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل ہاشم احمد خان نے بتایا کہ نواز شریف کو پاکستان لانے کے لیے حکومت کو ایک مخصوص طریقہ کار اپنانا پڑے گا۔

ان کے مطابق ’اگر حکومت پاکستان برطانوی حکومت سے درخواست کرتی ہے کہ میاں محمد نواز شریف کو پاکستان بھیجا جائے تو اس کے لیے سب سے پہلے انھیں برطانوی ہوم سیکریٹری کی رضامندی درکار ہوگی جس کے بعد ہی برطانیہ میں نواز شریف کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔ جبکہ اس کے بعد بھی برطانوی حکومت اپنے قانون کے مطابق اس بات کا جائزہ لے گی کہ اس شخص کو وہ نکالیں یا نہیں۔‘