#auratmarch2020: لاہور ہائی کورٹ نے عورت مارچ کو روکنے کی درخواست مسترد کر دی

  • عمر دراز ننگیانہ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
عورت مارچ(فائل فوٹو)

پاکستان کی لاہور ہائی کورٹ نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر رواں ماہ ہونے والی عورت مارچ کو روکنے کے خلاف دائر درخواست کو نمٹاتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ قانون اور آئین کے تحت عورت مارچ کو نہیں روکا جا سکتا۔

وکیل اظہر صدیق کے ذریعے منیر احمد نامی شخص کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے منگل کے روز ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مامون الرشید شیخ نے کہا کہ ’آئینِ پاکستان میں ہر شحض کو انجمن سازی کی آزادی حاصل ہے۔‘

عدالت نے پولیس کو عورت مارچ کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے عورت مارچ کے منتظمین کو بھی ’بداخلاقی اور نفرت انگیزی سے باز‘ رہنے کی ہدایت کی۔

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ ’عورت مارچ ایک ریاست مخالف خفیہ ایجنڈا تھا جس کا مقصد بدامنی اور بداخلاقی پھیلانا تھا۔‘

وکیل اظہر صدیق نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ مارچ کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے حالیہ قانون اور پنجاب ریڈ زون ایکٹ کو لاگو کرنے کے لیے حکومت کو ہدایات جاری کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم ان کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرنے کے بعد عدالت نے نشاندہی کی تھی کہ آئین کے تحت عورت مارچ کے انعقاد کو روکا نہیں جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پولیس اور انتظامیہ سے جواب مانگا تھا کہ وہ مارچ کو سکیورٹی کیسے فراہم کر سکتے ہیں۔

منگل کے روز جب سماعت کا آغاز ہوا تو پولیس کی طرف سے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس نے جواب داخل کروایا، جس کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو عورت مارچ کو 'فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایات‘ جاری کر دی گئیں تھیں۔

پولیس کی سکیورٹی کی یقین دہانی

پولیس کی جانب سے جہاں ایک طرف سکیورٹی کی یقین دہانی کروائی گئی وہیں پولیس نے ’دہشت گردی کے ممکنہ خطرے‘ کا اظہار بھی کیا۔ پولیس کی طرف سے عدالت میں داخل جواب میں عدالت کو بتایا گیا کہ ضلعی انتطامیہ کی انٹیلیجنس کمیٹی کی ملاقات میں عورت مارچ کے منتظمین کو آگاہ کیا گیا تھا کہ گذشتہ برس کے عورت مارچ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کئی مذہبی اور سماجی گروپوں نے پولیس کو درخواستیں دے رکھی ہیں۔

’ان درخواستوں میں انتظامیہ سے کہا گیا تھا کہ وہ عورت مارچ کی اجازت دینے سے پہلے مارچ کے لیے ضابطہ اخلاق کا تعین کریں۔ تاہم عورت مارچ کے منتظمین کی طرف سے مارچ کے شرکا کے حوالے سے کوئی ضمانت دینے سے گریز کیا گیا ہے۔‘

پولیس نے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں یقین دہانی کروائی کہ عورت مارچ کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی، ’تاہم مارچ کے شرکا کو چاہیے کہ وہ کسی قسم کے متنازع اقدام سے گریز کریں تا کہ مارچ کے پرامن انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

’کچھ غیر قانونی نہیں ہو گا‘

تاہم دورانِ سماعت عورت مارچ کی نمائندگی کرتے ہوئے وکیل نگہت داد نے یقین دہانی کروائی کہ ’عورت مارچ کے شرکا پہلے بھی پر امن رہے تھے اور اب بھی یقین کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عورت مارچ میں کچھ بھی غیر قانونی نہیں ہو گا۔‘

عدالت میں درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے اپنے گذشتہ بیان کو دہرایا کہ ’انھیں عورت مارچ کے انعقاد پر اعتراض نہیں ہے اور وہ کبھی اس کو رکوانا نہیں چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس امر کی یقین دہانی چاہتے تھے کہ مارچ کے شرکا غیراخلاقی نعرے بازی نہ کریں اور بینر نہ اٹھائیں۔

عدالت نے اظہر صدیق کی درخواست کو نمٹاتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ’عورت مارچ کو نہیں روکا جا سکتا اور یہ شرکا کی ذمہ داری ہے کہ مارچ کے دوران کوئی غیر اخلاقی نعرے بازی نہ ہو۔‘

انسانی حقوق کے کارکنان کی فریق بننے کی درخواست

یاد رہے کہ اس سے قبل عدالت کی طرف سے پولیس اور حکومت سے جواب طلب کرنے کے بعد عورت مارچ کے شرکا، منتظمین اور رضاکاروں کی طرف سے مقدمہ میں فریق بننے کی باقاعدہ درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی تھی۔

معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن حنا جیلانی کی طرف سے دائر اس درخواست میں انسانی حقوق اور بالخصوص عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے اور آواز بلند کرنے والی تنظیمیں اور شخصیات شامل تھیں۔

گذشتہ سماعت پر حنا جیلانی نے عدالت کو بتایا تھا کہ آئین اور قانون پاکستان کے ہر شہری کو اظہارِ رائے اور انجمن سازی کی آزادی دیتا ہے جس کو روکا نہیں جا سکتا۔ انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ درخواست گزار وکیل عورت مارچ کے حوالے کیسے متاثرہ فریق ہو سکتے ہیں؟

عورت مارچ کے خلاف بنیادی درخواست کیا تھی؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

منیر احمد نامی شخص کی جانب سے دائر درخواست میں عدالت سے جو استدعا کی گئی تھی اس کے دو حصے ہیں۔

اس درخواست میں عدالت سے کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے کو سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے حال ہی میں ترتیب دیے جانے والے قانون ’سٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) 2020‘ کو باضابطہ لاگو کرنے کا حکم دیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’ایسا طریقہ کار وضح کیا جائے جس کے ذریعے اس قانون پر موزوں اور فوری عملدرآمد ممکن بنایا جائے۔‘

ساتھ ہی عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ وہ پنجاب حکومت کو ’پنجاب ریڈ زون ایکٹ 2018‘ نافذ کرنے کی ہدایت دے جس کے ذریعے عورت مارچ جیسے مظاہروں پر قابو پایا جا سکے گا۔‘

عدالت سے کہا گیا تھا کہ 8 مارچ کو عورتوں کے عالمی دن یا 'عورت مارچ' کے موقع پر سینکڑوں خواتین ایک مرتبہ پھر مارچ کریں گی۔ ’انھوں نے ایسے بینر اٹھا رکھے ہوں گے جن پر درج پیغامات سے انتشار اور فحاشی عیاں ہوتی ہے۔‘

انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر سوشل میڈیا کو ریگولیٹ نہ کیا گیا تو اس سے 'ریاست مخالف دن کی تشہیر کے لیے' سوشل میڈیا کو بھر پور طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔