محمد حنیف کا کالم: بنگالی کی بیٹی

  • محمد حنیف
  • صحافی و تجزیہ کار
بنگالی خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

(تیس سالہ روبینہ مچھر کالونی کی رہائشی ہیں اور ہاؤس وائف ہیں۔)

جب سے پیدا ہوئی ہوں یہیں پر رہتی ہوں۔ والد پہلے کیکڑا پکڑنے کا کام کرتے تھے۔ اب بہت بیمار ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔ میرے والدین کے پاس پرانے شناختی کارڈ تھے۔ میں اختر کالونی میں نادرا کے دفتر گئی میرے پاس برتھ سرٹیفکیٹ اور والد کا شناختی کارڈ تھا۔

انھوں نے میرا شناختی کارڈ بنانے سے انکار کیا اور ساتھ میں والد صاحب کا بھی (شناختی کارڈ) بلاک کر دیا۔

میں دوبارہ گئی کاغذ جمع کروانے، ٹوکن نمبر بھی مل گیا مگر دو سال تک چکر لگائے۔ پھر انھوں نے کہا کہ یہ فارم لے کر صدر میں آئی بی کے دفتر جاؤ۔ میں ڈیڑھ سال تک اس دفتر کے چکر لگاتی رہی۔ انھوں نے کہا کہ آپ ایسے نہیں آ سکتیں۔ جب بلائیں تب آنا ورنہ دفتر کے احاطے میں نہیں آنے دیں گے۔

میرے شوہر فشریز کا کام کرتے ہیں۔ اس کا کارڈ بھی نہیں بنا۔ میرے سسر پنجابی ہیں ان کا کارڈ بنا ہوا ہے جبکہ ساس بنگالی ہے۔ ان کے پاس کارڈ نہیں ہے۔

کراچی کے بنگالیوں پر محمد حنیف کے خصوصی سلسلہ وار کالم

میرے پانچ بھائی ہیں۔ بڑا مدرسے میں پڑھاتا ہے۔ باقی تین فشریز میں کام کرتے ہیں۔ لیکن ان کا کام بھی سیٹ نہیں ہو سکتا۔ کارڈ نہیں ہے تو نوکری نہیں کر سکتے۔ صرف دیہاڑی لگاتے ہیں۔ یہ گھر ہمارا اپنا ہے۔ لیکن ہمارے پاس کوئی کاغذ نہیں ہے ملکیت کا۔ نہ کسی کمپیوٹر پر ریکارڈ ہے۔ گیس بجلی سب پرانے مالک کے نام ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

کارڈ کے بغیر کوئی زندگی نہیں ہے۔ میری بڑی بیٹی آٹھویں جماعت میں ہے ابھی نویں میں جا رہی ہے۔ ب فارم کے بغیر میٹرک کے امتحان میں نہیں بیٹھ سکتی۔ روتی رہتی ہے کہ امی آپ کیوں کچھ نہیں کرتی۔ میری بیٹی آمنہ مجھے الزام دیتی ہے کہ میں نے کارڈ نہیں بنوایا اس لیے وہ امتحان میں نہیں بیٹھ سکتی۔ کاش میرا کارڈ بن جائے۔ میری چھوٹی بہن میری بیٹی کے برابر ہے۔ وہ ٹی سی ایف کے سکول میں آٹھویں میں پڑھتی ہے۔

وہ بھی بورڈ کا امتحان نہیں دے سکتی۔ سکول والے بھی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔

پچھلے مہینے میرے ابو بہت بیمار تھے۔ سول ہسپتال گئے تو انھوں نے کہا کارڈ لے کر آؤ تو پرچی ملے گی۔ کوئی ہمیں کارڈ دے گا تو ہم کسی کو دکھائیں گے۔ کبھی کوئی رحم کھا کر ہسپتال کی پرچی دے دیتا ہے۔ ورنہ نہیں دیتے۔

کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے کیا کیا پریشانی ہے بتا نہیں سکتے۔ میری شادی 15 برس قبل ہوئی تھی تب حالات پھر بھی بہتر تھے، اب لوگ رشتہ دیکھنے آتے ہیں تو پہلے پوچھتے ہیں کہ بیٹی کا کارڈ بنا ہے یا بیٹے کے پاس کارڈ ہے۔ اگر نہ ہو تو رشتہ واپس لے کر چلے جاتے ہیں۔ اگر لڑکے یا لڑکی میں سے کسی ایک کے پاس بھی کارڈ نہیں ہے اور دونوں کی شادی ہو جائے تو بچوں کا کارڈ نہیں بن سکتا۔ تو لوگ یہ سوچ کر رشتہ نہیں دیتے۔

کاش میرا اور میری بچی کا کارڈ بن جائے تو پورے محلے کو مٹھائی کھلاؤں گی۔