Marvi Sirmed and Khalil ur Rehman Qamar: میڈیا ضابطہ اخلاق، متنازع شخصیات ٹی وی مہمان کیسے بن جاتی ہیں؟

  • اعظم خان
  • بی بی سی اردو، اسلام آباد
قمر، سرمد

،تصویر کا ذریعہYouTube/Getty Images

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نیو ٹی وی کو قابل اعتراض ٹاک شو کرنے پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے۔ جبکہ اس ٹاک شو کا قابل اعتراض حصہ دکھانے پر پیمرا نے جیو ٹی وی کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کو سمجھنے سے قبل خاص طور پر رات 8 سے 12 بجے تک چلنے والے ٹی وی ٹاک شوز کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات حاصل کرنا ضروری ہیں۔

ریٹنگ کی دوڑ

ٹی آر پی یعنی ٹیلی وژن ریٹنگ پوائنٹ ایک ایسا نظام ہے جس سے ٹی وی ٹاک شوز کے بارے میں پتا چلایا جاتا ہے کہ وہ کتنا دیکھا جاتا ہے۔ مقابلے کی اس دوڑ میں ہر ٹی وی مالک، پروگرام پروڈیوسر اور اینکر پرسن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی طور پر سب سے آگے نکل جائے۔

ٹی وی پروڈیوسر کے پاس ایسے مہمانوں کی فہرست موجود ہوتی ہے جو اگر پروگرام میں آ جائیں تو ریٹنگ کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو جاتا ہے یعنی اسے زیادہ لوگ دیکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ٹی وی سکرین پر آگ بھگولے مزاج والے مہمان بھی اہتمام سے ڈھونڈ کر لائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایسا ہی کچھ معاملہ ہے ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کا ہے جو آج کل تواتر سے مختلف ٹی وی ٹاک شوز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے نظر آتے ہیں۔

چند دن قبل نجی ٹی وی چینل نیو کے ایک ٹاک شو میں معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر اور امریکہ سے سکائپ کے ذریعے شریک مہمان ماروی سرمد میں دوران بحث تکرار ہوتی ہے۔

خلیل الرحمن قمر کی جانب سے کچھ نازیبا جملوں کا استعمال بھی ہوا جن کا ذکر یہاں نہیں کیا جا سکتا۔

،تصویر کا ذریعہAry News

،تصویر کا کیپشن

چند ہفتے قبل پاکستانی ٹیلی ویژن چینل اے آر وائے کے اس پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے براہِ راست نشر ہونے والے پروگرام کے دوران دیگر مہمانوں اور میزبان کاشف عباسی کی موجودگی میں میز کے نیچے سے ایک جوتا نکال کر میز پر رکھا تھا

ٹاک شو کے لیے مہمان کیسے چنے جاتے ہیں؟

متعدد ٹاک شوز کے پروڈیوسر کرامت مغل کا کہنا ہے کہ ٹاک شو کے لیے زیادہ تر ترجیح یہ ہوتی ہے کہ حقائق بتانے کے ساتھ ساتھ ہر صورت ریٹنگ لی جائے۔

ان کے مطابق ایسے مہمانوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو تنازعات کی زد میں ہوں۔

خیال رہے کہ خلیل الرحمان قمر اپنے ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کے بعد میں موضوع بحث بن گئے تھے اور انھیں اکثر سماجی ایشوز پر بات کرنے کے لیے ٹاک شوز میں مہمان کے طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔

خلیل الرحمن قمر نے جس پروگرام میں نازیبا جملوں کا استعمال کیا، اس ٹاک شو کی اینکرپرسن عائشہ احتشام کا کہنا کہ اکثر آخری وقت میں اس وجہ سے مہمان بلانے پڑتے ہیں کیونکہ جن سے پہلے رابطہ کیا ہوتا ہے وہ آنے سے معذرت کر لیتے ہیں۔

ان کے مطابق جس پروگرام میں خلیل الرحمان قمر شریک ہوئے تھے اس میں انھوں نے پہلے سینیٹر شیری رحمان، سماجی کارکنوں حنا جیلانی اور نگہت داد سے رابط کیا تھا لیکن کسی نے بھی آمادگی ظاہر نہیں کی۔ ’جب کوئی تیار نہ ہوا تو پھر آخری وقت میں ماروی سرمد سمیت دیگر مہمانوں کو مدعو کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہYoutube/Neo TV

،تصویر کا کیپشن

عائشہ احتشام کے مطابق خلیل الرحمان قمر کے منیجر نے سٹوڈیو میں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ماروی سرمد کے ساتھ پینل میں انھیں نہ بٹھایا جائے تو بہتر ہوگا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

کرامت مغل کے مطابق جب مہمان کے انتخاب میں جلدی کرنی پڑ جائے تو پھر ایسے میں بات بگڑنے کا خطرہ بھی ہر وقت موجود رہتا ہے۔

ان کے خیال میں پروگرام کے مہمانوں کو پہلے سے یہ ضرور بتا دینا چاہیے کہ اس پروگرام میں کون کون شریک ہوگا تاکہ اگر کوئی کسی پینل کے ساتھ شریک نہیں ہونا چاہتا تو اسے فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جائے۔

عائشہ احتشام کے مطابق انھوں نے پہلے سے مہمانوں کو نہیں بتایا کہ ان کے ساتھ پینل میں کون کون ہوگا اور نہ ہی کسی نے ان سے اس متعلق کوئی اعتراض کیا۔ تاہم خلیل الرحمان قمر کے منیجر نے سٹوڈیو میں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ماروی سرمد کے ساتھ پینل میں انھیں نہ بٹھایا جائے تو بہتر ہوگا۔

عائشہ احتشام کے مطابق وہ پہلے سے اس بات سے آگاہ نہیں تھیں کہ وہ ایک دوسرے سے متعلق اچھی رائے نہیں رکھتے۔

کرامت مغل کے مطابق یہ اینکر پرسن کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ جب کچھ گڑ بڑ ہو جائے تو وہ پروگرام روک دے اور صورتحال کو کنٹرول کرے۔ اگر کسی وجہ سے اینکر ایسا نہ کرسکے تو پھر پروڈیوسر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اینکر کو وقفہ لینے کا کہے جو مسلسل ایک لائن پر اس سے رابطے میں ہوتا ہے۔

عائشہ احتشام اس بات سے متفق ہیں کہ انھیں یہ پروگرام فوراً روک دینا چاہیے تھا تاہم وہ شور کی وجہ سے جلدی ایسا نہ کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

’پیمرا کے ضابطہ اخلاق کو چھوڑیں آئین پاکستان کا آرٹیکل بھی 19 آزادیِ اظہار اور رائے کی آزادی کو اخلاقیات سے مشروط کرتا ہے‘

’بنیادی اخلاقیات سے آگاہی کے لیے کسی ضابطہ اخلاق کی ضرورت نہیں‘

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر کے مطابق بنیادی اخلاقیات سے آگاہی اور ان پر عملدرآمد کے لیے کسی ادارے (پیمرا) کے ضابطہ اخلاق کی ضرورت نہیں ہوتی۔

انھوں نے کہا کہ ایک پروگرام کے دوران جب آپ کے سامنے تین ایسے افراد بیٹھے ہوں جن کے سیاسی خیالات مختلف ہیں تو یہ اینکر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ سوالات کے ذریعے سب کا نقطہ نظر عوام تک پہنچایا جائے کیونکہ اینکر عوامی مفاد میں کام کر رہا ہوتا ہے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ آپ کو بعض اوقات معلوم نہیں ہوتا کہ کوئی مہمان کیا کرے گا۔ مگر ایسا ہونے کی صورت میں میزبان کا فرض بنتا ہے کہ وہ فی الفور مہمان کو ٹوکے۔

’اگر مہمان بات نہیں مانتا تو میزبان فوراً پروگرام میں وقفہ لے اور وقفے کے دوران یا تو مہمان کو مجبور کرے کہ وہ اس نوعیت کی حرکت نہ کرے یا خود اٹھ کر یہ کام کرے اور پھر بھی کوئی نہیں مانتا تو انھیں پروگرام سے اٹھا دیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کے ایک پروگرام کے دوران ایک مہمان نے دوسرے کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تو انھوں نے انھیں فوراً ٹوکتے ہوئے درخواست کی وہ اپنے الفاظ واپس لیں مگر انھوں نے انکار کر دیا جس پر حامد میر نے پروگرام میں وقفہ لیا۔ اس مہمان سے بات کی اور بریک سے واپس آ کر نہ صرف اس مہمان نے اپنے الفاظ واپس لیے بلکہ معذرت بھی کی۔

،تصویر کا ذریعہYOUTUBE/@ENTERTAINMENT PAKISTAN

،تصویر کا کیپشن

خلیل الرحمان قمر کا کہنا ہے کہ جب تک عورت مارچ کے نعرے نہیں بدلتے وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اور وہ ٹاک شوز میں شریک ہوتے رہیں گے اور اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے رہیں گے

خیال رہے کہ نیو ٹی وی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور صحافی نصراللہ ملک نے ماروی سرمد سے ٹاک شو کے دوران رونما ہونے والے واقعے پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’بطور سربراہ نیو نیوز میں انتہائی معذرت خواہ ہوں اور اس حوالے سے سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

تاہم ٹاک شو کی میزبان عائشہ احتشام نے بی بی سی کو بتایا کہ پروگرام کے ایک محدود حصے کے وائرل ہونے کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوئی تھی کہ جیسے یہ سب جان بوجھ کر کیا گیا۔ ان کے مطابق دوران شو تینوں مہمانوں کے ایک ساتھ بولنے کی وجہ سے وہ ابتدائی طور پر یہ نہیں سن سکیں کہ خلیل الرحمان قمر نے نازیبا الفاظ استعمال کیے لیکن جب انھوں نے یہ سن لیا تو پھر اس کے بعد پروگرام میں وقفے کا اعلان کردیا۔

ان کے مطابق انھوں نے خلیل الرحمان کے اس رویے پر ان کی مذمت بھی کی۔

’معافی نہیں مانگوں گا‘

خلیل الرحمان قمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے رویے کے دفاع میں مزید نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ تاہم انھوں نے فون پر اپنے الفاظ کے چناؤ پر معافی مانگی۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ ٹی وی پر اپنے نازیبا الفاظ پر بھی معافی مانگیں گے تو اس پر انھوں نے صاف انکار کردیا۔

خلیل الرحمان قمر کا کہنا ہے کہ جب تک عورت مارچ کے نعرے نہیں بدلتے وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹاک شوز میں شریک ہوتے رہیں گے اور اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے رہیں گے۔