AuratMarch2020: پنجاب یونیورسٹی میں طلبا کو عورت مارچ میں شمولیت پر مبینہ دھمکیاں، یونیورسٹی انتظامیہ کی تردید

  • کاشان اکمل
  • صحافی
مارچ
،تصویر کا کیپشن

فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں مختلف شعبہ جات میں زیر تعلیم طلبہ نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ انھیں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے پر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔

طلبہ کے بقول انھیں یہ پیغامات دیے جا رہے ہیں کہ 'عورت مارچ‘ یا اپنی ’ڈگری‘ دونوں میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کر لیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزام حقیقت پر مبنی نہیں اور انتظامیہ نے زبانی یا تحریری طور پر ایسے کوئی احکامات جاری نہیں کیے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈپارٹمنٹ کی بندش کی وارننگ

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات میں زیر تعلیم طالب علم اور’طلبا یکجہتی مارچ‘ کے منتظمین میں شامل رائے علی آفتاب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی میں ’پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو‘ نامی طلبہ تنظیم میں شامل مختلف شعبہ جات میں زیر تعلیم طلبا و طالبات نے عورت مارچ سے متعلق 5 مارچ کو مباحثے کے انعقاد کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد انھیں یونیورسٹی کے رجسٹرار اور چیف سکیورٹی آفیسر کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔

علی آفتاب کہتے ہیں ’یونیورسٹی لائبریری میں اس مباحثے کا مقصد عورت مارچ کے منشور میں شامل نکات پر بحث کرنا تھا جن سے پنجاب یونیورسٹی کی طالبات خود کو درپیش حالات کا موازنہ کر سکتی ہیں۔‘

علی آفتاب کہتے ہیں کہ گذشتہ روز انھیں شعبہ عمرانیات کی خاتون سربراہ کی جانب سے طلب کر کے یہ کہا گیا ہے کہ ’(تعلیمی اداروں کی) بین الاقوامی درجہ بندی آ رہی ہیں، آپ لوگ یہ نہ کریں، ہم پر دباؤ ہے، رجسٹرار کہہ رہے ہیں کہ ہم شعبہ عمرانیات کو بند کر دیں گے کیونکہ آپ یہاں پر اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت دیتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہArooj Aurangzeb

،تصویر کا کیپشن

پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو نامی طلبہ تنظیم مختلف موضوعات پر تقریبات اور مباحثوں کا انعقاد کرتی رہتی ہے

’عورت مارچ جیسی ریاست مخالف سرگرمیوں سے دور رہیں‘

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کی ایک کارکن طالبہ نے بتایا ’وہ عورت مارچ کے حوالے سے طالبات کو فعال کرنے پر کام کر رہی تھیں، تو گذشتہ روز انھیں طالب علموں اور انتظامیہ کے درمیان رابطوں کی ذمہ دار شخصیت (جن کا وہ وہ نام نہیں بتانا چاہتیں) نے ایک تنبیہی پیغام دیا۔

انھوں نے کہا ’میں خود کو یونیورسٹی میں عورت مارچ جیسی ریاست مخالف سرگرمیوں سے دور رکھوں، ورنہ انتظامیہ میری تعلیمی اسناد جاری نہیں کرے گی۔ اور واضح انداز میں کہا گیا کہ یا تو ڈگری لے لو یا عورت مارچ کر لو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے نام سے ان کی تنظیم نے پنجاب یونیورسٹی میں طالبات کو درپیش مسائل خصوصاً جنسی اور ذہنی ہراسانی، معاشی اور ماحولیاتی ناانصافیوں کے خلاف کام کرتی ہے۔ ہر جمعرات کو ان مسائل کا حل نکالنے کے لیے مباحثے کا انعقاد کرتے ہیں۔

’سختی تو تھی ہی اب صاف الفاظ میں روکا گیا‘

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ زراعت کے طالب علم محسن ابدالی کا کہنا تھا ’مجھے سٹوڈنٹس افیئرز کے ڈائریکٹر نے گذشتہ روز بلا کر یہ کہا ہے کہ رجسٹرار آفس سے ہدایت ہے کہ ان سٹوڈنٹس سے پوچھ لیا جائے انھیں ڈگریاں چاہیے یا انھوں نے عورت مارچ کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے گذشتہ برس بھی عورت مارچ کے حوالے یونیورسٹی میں سختی کا ماحول تھا تاہم رواں برس طلبا و طالبات کو کھلے الفاظ میں دھمکایا جا رہا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ زراعت کے ایک اور طالب علم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں ایک تنظیمی عہدیدار نے کہا ہے بہت اعلیٰ سطح سے یہ کہا گیا ہے کہ طلبا و طالبات کو عورت مارچ جیسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکا جائے۔

انھوں نے کہا ’ابھی تو کال آئی ہے، ممکن ہے کہ اس سے متعلق (تحریری حکم نامہ) لیٹر بھی آ جائے، لہٰذا آپ محتاط رہیں ورنہ آپ کی ڈگری منسوخ کر دی جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہPunjab University Lahore

،تصویر کا کیپشن

ترجمان پنجاب یونیورسٹی خرم شھزاد کا کہنا ہے کہ طالب علموں کے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں اور نہ ہی انتظامیہ نے زبانی یا تحریری طور پر ایسے احکامات دیے گئے ہیں

’عورت مارچ سے یونیورسٹی کو کوئی خطرہ نہیں‘

طالب علموں کے جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد کیے جانے والے الزامات کے جواب میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان پنجاب یونیورسٹی خرم شھزاد کا کہنا ہے کہ طالب علموں کے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں اور نہ ہی انتظامیہ نے زبانی یا تحریری طور پر ایسے احکامات دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی مخصوص طالب علموں کی جانب سے مختلف دعوے کیے جاتے رہے ہیں، جو تحقیقات میں جھوٹے ثابت ہوئے۔

ترجمان پنجاب یونیورسٹی کا کہنا تھا ’عورت مارچ سے یونیورسٹی میں کسی بھی قسم کا کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ یہ ادارے سے باہر منعقد ہونے والا ایونٹ ہے۔‘

خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ بحث و مباحثے کے لیے یونیورسٹی لائبریری کا ایک حصہ مخصوص ہے تاہم ادارہ قوائد و ضوابط پر عملدرآمد کرانا چاہتا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ ’قوائد وضوابط میں رہتے ہوئے کی جانے والی کسی بھی سرگرمی پر پابندی نہیں ہے۔ ان قوائد میں نقص امن، حاضری، امتحانی کارکردگی وغیرہ شامل ہے بصورت دیگر انتظامیہ کسی صورت بھی طالب علم کی تعلیمی اسناد کی منسوخی یا اس کے اجرا کو نہیں روک سکتی ہے۔‘