مقدمات کے فیصلے میں تاخیر: ’ان کی مدد کریں جن کی عمر جیل میں گزر جاتی ہے‘

  • سحر بلوچ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سزائے موت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رانی بی بی 14 برس کی تھیں جب اپنے شوہر کے قتل کے الزام میں انھیں عمر قید جبکہ ان کے دو بھائیوں اور والد کو دس برس قید کی سزا ملی۔

19 برس جیل میں گزارنے کے بعد 2015 میں رانی بی بی کی درخواست ضمانت لاہور ہائی کورٹ نے اس بنیاد پر رد کر دی کہ چونکہ اس جرم میں ان کے دونوں بھائیوں نے اپنی سزا پوری کی ہے اس لیے وہ بھی سزا مکمل کریں۔ تاہم اپیل کے بعد 2017 میں رانی بی بی کو بری کر دیا گیا۔

رانی جو سزا دیے جانے کے وقت نابالغ تھیں آج ادھیڑ عمر میں جیل سے باہر تو ہیں لیکن ان کے لیے معاشرے میں دوبارہ جگہ بنانا ایک انتہائی مشکل عمل ثابت ہو رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب ان کو کوئی کام نہیں دینا چاہتا۔ 'میرے لیے سب سے بڑا امتحان اپنے ہی لوگوں میں دوبارہ جگہ بنانا ہے۔ جو کہ نہیں بن پا رہی ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

رانی بی بی کی ہی طرح لاہور سے تعلق رکھنے والے سہیل عمانوئل نے دس برس جیل کاٹی لیکن قتل کے جس الزام میں انھوں نے یہ سزا بھگتی وہ آج تک ثابت نہیں ہو سکا۔ سنہ 2015 میں ملتان کی ایک عدالت نے سہیل کو تمام الزامات سے یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ اتنے برسوں میں پولیس کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سہیل نے کہا کہ 'میری زندگی کے 15 برس کیسے واپس آئیں گے؟ میں اس عرصے میں کیا کچھ کر سکتا تھا لیکن میرا سارا وقت پہلے موت کی سزا اور پھر عمر قید کی سزا سے بچنے میں گزر گیا۔'

سہیل اب ٹرائل کورٹ کے ذریعے ملنے والی غلط سزاؤں کے نتیجے میں قید افراد کی رہائی کے لیے وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اچھا وکیل مل جائے تو صحیح ورنہ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جن کی زندگی جیل میں گزر جاتی ہے اور اکثر رہا ہونے کے انتظار میں موت بھی جیل میں ہی آتی پے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

'عدالت خود تسلیم کرے کہ ناانصافی ہو رہی ہے'

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

رانی بی بی کا مقدمہ ہی وہ کیس ہے جس کی بنیاد پر جمعے کو فاؤنڈیشن فار فنڈامینٹل رائٹس سے منسلک ایڈووکیٹ مِشیل شاہد نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں ایک درخواست برائے مفادِ عامہ دائر کی ہے۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسی فرد پر جرم ثابت نہ ہونے تک اسے قید رکھنا اور اس پر تشدد کرنا آئین کے آرٹیکل 10 اے کے منافی ہے کیونکہ آئین کے مطابق پاکستان کے ہر فرد کو اپنی زندگی آزادی سے گزارنے کا حق حاصل ہے۔

درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ پنجاب حکومت ان تمام مقدمات کا جائزہ لے جن میں نامکمل تفتیش، غلط الزامات اور غلط بیانات کے نتیجے میں سزائیں دی گئی ہیں اور ان قیدیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کیا جائے۔

درخواست گزار ایڈووکیٹ مشِیل شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ رانی اور ان جیسے دیگر قیدیوں کے مقدمات پاکستان کے عدالتی اور تفتیشی نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ان کے ادارے کی رپورٹ 'پاکستان میں سزائے موت پر تحقیق' کے مطابق پاکستان میں سپریم کورٹ میں اپیل کی درخواست کی سماعت تک سزائے موت کے قیدیوں کو تقریباً 10 سال جیل میں گزارنے پڑتے ہیں۔

اسلام آباد میں قائم فاؤنڈیشن فار فنڈامینٹل رائٹس کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق نچلی عدالتوں کی طرف سے عام مقدمات مثلاً چوری، منشیات رکھنے یا بیچتے ہوئے پکڑے جانے کی صورت میں بھی سزائے موت یا عمر قید کی سزا سنا دی جاتی ہے لیکن اسی سروے کے مطابق سپریم کورٹ میں پہنچنے والے 78 فیصد مقدمات یا تو خارج کر دیے جاتے ہیں یا نظر ثانی کے لیے عدالتوں میں واپس بھیج دیے جاتے ہیں۔

اس بارے میں مشِیل نے کہا 'اعلیٰ عدالتیں ان مقدمات کا نوٹس لیتے ہوئے ایسے قیدیوں کی مدد کریں جن کی عمر جیل میں گزر جاتی ہے۔ اس کے لیے پہلے تو عدالتوں کو تسلیم کرنا ہو گا کہ ناانصافی کی جا رہی ہے۔'

مشِیل کا کہنا ہے 'ازالہ اس طرح سے بھی ہو سکتا ہے کہ ایسے مقدمات کی نشاندہی کرنے کا عمل متعارف کیا جائے جس سے پاکستان کی جیلوں میں موجود نامعلوم قیدیوں کی کہانیاں بھی سامنے آئیں اور ان کی معاشی مدد کی جائے۔'

،تصویر کا ذریعہwww.lhc.gov.pk

ٹرائل کورٹ اور غلط بیانات

سپریم کورٹ کے فیصلوں پر کیے گئے فاؤنڈیشن فار فنڈامینٹل رائٹس کے ایک سروے کی رپورٹ کے مطابق 44 فیصد مقدمات میں عدالت نے قتل کے مقدمات میں گواہان کے بیانات اور عدالت میں پیش کیے گئے ثبوتوں میں واضح فرق دیکھتے ہوئے ملزمان کو بری کر دیا۔

رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ 44 فیصد مقدمات ٹرائل کورٹ سے ہوتے ہوئے جب تک سپریم کورٹ پہنچے تب تک ملزمان کو قید میں 10 سے 11 برس کا عرصہ ہو چکا تھا۔

اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی کہ ٹرائل کورٹ میں دیے گئے فیصلوں میں چھوٹے جرائم میں بھی سزائے موت کے فیصلے سنائے جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

وفاقی محتسب کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت چار ہزار قیدی سزائے موت کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

اس بارے میں جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی حالیہ ڈیٹا رپورٹ نے ان تمام مقدمات کا جائزہ لیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پولیس کی تفتیش کے بعد جب معاملہ ٹرائل کورٹ جاتا ہے تو تمام تر مسائل وہیں سے شروع ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ میں غیر سنگین جرائم کے نتیجے میں دی جانے والی سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ اکثر جج اس بات کا تعین نہیں کر پاتے کہ کیا ملزم نے یہ جرم کیا ہے اور اگر ہاں تو اس کی مناسب سزا کیا ہونی چاہیے۔

رپورٹ میں بھی تجویز دی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کے ججوں کو سنگین اور غیرسنگین سزاؤں میں تفریق کرنی چاہیے۔

سپیڈی ٹرائل اور عدالتیں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایسے مقدمات کی پیروی کرنے والے ایڈووکیٹ نثار شاہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے سپیڈی ٹرائل یعنی مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے عدالتیں قائم کی گئیں تھیں تاہم ان میں جلد سماعت ہونے کے باوجود ہزاروں مقدمات اب بھی التوا کا شکار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مقدمات کے التوا کی ایک بنیادی وجہ عدالتوں پر کام کا بوجھ ہے۔

'ہر صبح کال لسٹ میں سو، ڈیڑھ سو مقدمات درج ہوتے ہیں۔ گیارہ سے تین بجے تک اگر عدالت لگتی ہے تو ایک جج سو سے ڈیڑھ سو مقدمات میں سے کتنے مقدمے سن سکتا ہے ۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں وکلا کی عدم دلچسپی بھی تاخیر کا سبب بنتی ہے۔ 'ایک سال کے اندر ٹرائل کی طے شدہ تاریخوں پر اکثر ایک وکیل موجود ہوتا ہے جبکہ دوسرا نہیں۔ جس کے نتیجے میں تاریخ آگے بڑھ جاتی ہے۔'