پشتون تحفظ موومنٹ: عمران خان کی ہدایت پر وزارت داخلہ نے محسن داوڑ اور علی وزیر کو کابل جانے کے لیے خصوصی اجازت دے دی

محسن داوڑ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر وفاقی وزارتِ داخلہ نے پشتون تحفظ موومنٹ سے ہمدردی رکھنے والے دو آزاد اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو افغانستان جانے کی اجازت دے دی ہے۔

محسن داوڑ اور علی وزیر افغانستان کے صدر اشرف غنی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے کابل جانا چاہتے تھے مگر اتوار کی روز جب وہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تو وفاقی تحقیقاتی ادارے، ایف آئی اے، انھیں باہر جانے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ ان کا نام بلیک لسٹ میں ہے۔

تاہم اتوار کی شب وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب اور داخلہ امور مرزا شہزاد اکبر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے آگاہ کیا کہ دونوں اراکین اسمبلی کو ’صرف ایک مرتبہ‘ ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’(وزیر اعظم) عمران خان نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ دونوں اراکین اسمبلی کو صدر اشرف غنی کی تقریب حلف برداری میں شمولیت کے لیے کابل تک کا سفر کرنے کی (صرف ایک مرتبہ) اجازت دیں۔ وزارت داخلہ نے یہ اجازت دے دی ہے۔‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس سے قبل نمائندہ بی بی سی اعظم خان سے فون پر بات کرتے ہوئے محسن داوڑ نے بتایا تھا کہ وہ دیگر ارکانِ پارلیمان کی طرح افغانستان کے صدر اشرف غنی کی تقریبِ حلف برداری میں شریک ہونے کابل جا رہے تھے۔ ان کے مطابق ایف آئی اے نے انھیں یہ کہہ کر روک دیا کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر ہے۔

بعد ازاں ایف آئی اے نے واضح کیا کہ دونوں اراکین اسمبلی کا نام ای سی ایل پر نہیں بلکہ بلیک لسٹ پر ہے جس کے باعث انھیں باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یاد رہے کہ ڈیڑھ سال قبل محسن داوڑ کو اس وقت باہر جانے سے روک دیا گیا تھا جب وہ پشاور کے باچا خان ایئرپورٹ سے دبئی کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ اس وقت بھی ایف آئی اے نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کا نام بلیک لسٹ میں ہے۔ اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم عمران کی مداخلت پر ان کا نام بلیک لسٹ سے نکال کر انھیں باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

محسن داوڑ نے بتایا کہ وہ اے این پی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کچھ اراکینِ کی طرح کابل میں جا کر اشرف غنی کی صدارتی تقریب میں شرکت کرنا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق ایئرپورٹ پر انھیں ایف آئی اے کے سینیئر اہلکار نے پیغام دیا کہ ان کے بارے میں یہ حکم ملا ہے کہ انھیں باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے۔

محسن داوڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ انھیں فوج کے ایما پر باہر جانے سے روکا گیا ہے۔

’ہم (ایئرپورٹ سے) واپس جا رہے ہیں کیونکہ ہمیں کابل جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایف آئی اے نے ہمیں واضح طور پر بتایا کہ فوج نے ہمیں ملک چھوڑنے سے روک دیا ہے۔ پاکستان میں منتخب پشتون ایم این ایز کو ایس صورتحال سے گزرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں منتخب پشتون عوامی نمائندوں کی قسمت یہی ہے۔‘

محسن داوڑ کے مطابق انھیں بہت عرصہ قبل متعلقہ حکام کی طرف سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ ان کا نام ای سی ایل پر ہے۔ ان کے مطابق بنوں جلسے کے بعد یہ مقدمہ قائم ہوا تھا جو بعد میں ختم بھی ہو گیا تھا لیکن نام ابھی تک ای سی ایل سے نہیں ہٹایا گیا۔

ائیرپورٹ سے محسن داوڑ نے اپنے ساتھی ایم این اے علی وزیر کے ساتھ کھڑے ہو کر پشتو زبان میں ایک ویڈیو پیغام بھی ریکارڈ کرایا تھا۔ اس ویڈیو میں وہ یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری کے طور پر سلوک کیا جا رہا ہے۔

سفری پابندیوں پر ایوان بالا کی رپورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

قانون سے متعلق پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے لوگوں کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے ملک میں رائج بلیک لسٹ کے نظام کو ماورائے آئین قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے قانون کا اطلاق لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہیں۔

قانون اور انصاف سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بلیک لسٹ کے نظام سے متعلق اپنی سفارشات کو ایوان میں پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ انسانی حقوق سے متصادم قوانین کے اطلاق سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوتی ہے۔

انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے بلیک لسٹ نظام کے بارے میں کہا ہے کہ اس طرح کا اقدام جمہوریت میں ناقابل قبول ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بلیک لسٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور ایسا اقدام بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کے اراکین اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو یہ کہہ کر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا کہ ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہے بعدازاں حکومت نے ان کا نام ای سی ایل میں شامل کر دیا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلیک لسٹ کے نظام کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہ نظام لوگوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔