خواتین کا عالمی دن: عورت مارچ کی سلسلے میں ملک بھر میں ریلیاں

عورت مارچ

پاکستان کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں اتوار کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ’عورت مارچ‘ کا انعقاد کیا گیا۔

ملک کے مختلف شہروں میں عورت مارچ کا اختتام پرامن انداز میں ہوا تاہم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مارچ کے اختتام پر اس وقت بدمزگی پیدا ہوئی جب مذہبی جماعتوں کی جانب سے منعقد کیے گئے ’حیا مارچ‘ کے شرکا کی جانب سے عورت مارچ کے شرکا پر پتھر، جوتے اور لاٹھیاں پھینکی گئیں۔

پولیس کی مطابق پتھراؤ کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے جنھیں طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ اس واقعے کی ابتدائی رپورٹ اسلام آباد کے کوہسار تھانے میں درج کر لی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ ان تمام افراد کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے جنھوں نے پرامن مظاہرین پر پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا۔

اس ایونٹ کی خصوصی کوریج مختلف شہروں میں موجود بی بی سی کے نمائندوں نے کی ہے جو کہ ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

اسلام آباد میں عورت مارچ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جہاں ایک جانب نیشنل پریس کلب کے مقام پر عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا وہیں اسی مقام پر مذہبی جماعتوں کی جانب سے حیا مارچ کے سلسلے میں ریلی بھی نکالی گئی۔

نمائندہ بی بی سی فرحت جاوید کے مطابق اسلام آباد میں عورت مارچ پر اس وقت حملہ ہوا جب مارچ ڈی چوک کی جانب بڑھا۔

پریس کلب کے باہر میلوڈی سے سپر مارکیٹ کی طرف جاتی سڑک کی گرین بیلٹ میں قناطیں لگائی گئی تھیں۔ ان کی ایک طرف جامعہ حفصہ کی طالبات جمع تھیں جن کے ساتھ ایک بڑی تعداد لال مسجد سے تعلق رکھنے والی منتظمین اور طالب علموں کی بھی تھی۔

سماجی کارکن اور مارچ کی منتظمین میں سے ایک ڈاکٹر فرزانہ باری نے حملے سے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے اچانک انھیں اپنا راستہ تبدیل کرنے کا کہا ہے کیونکہ ’جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے شرکا فی الحال اس مقام سے جانے کو تیار نہیں ہیں۔‘

تاہم عین اس وقت جب عورت مارچ کے شرکا کا ٹرک اُس مقام سے گزرا، جہاں سڑک کی دوسری جانب ٹرک پر حیا مارچ کرنے والے لال مسجد کے شرکا موجود تھے، تو شدید نعرے بازی شروع ہو گئی۔

عورت مارچ کی خواتین نے ’وکٹری‘ کا نشان بنایا۔ یہی وہ موقع تھا جب حیا مارچ میں شامل چند مردوں نے وہ قناطیں توڑنی شروع کر دیں جو پولیس نے کھڑی کی تھیں۔ اس دوران مارچ پر ڈنڈے اور جوتے پھینکے گئے جبکہ چند ہی لمحوں میں پتھراؤ بھی شروع ہو گیا۔

اس وقت پولیس اہلکار پہنچے جبکہ مارچ کی سکیورٹی ٹیموں نے میڈیا سمیت دیگر شرکا کو وہاں سے ہٹانا شروع کر دیا۔ عورت مارچ میں بعض شرکا نے وہی جوتے واپس حملہ کرنے والوں کی طرف پھینکے۔ تاہم زیادہ تر شرکا پتھروں کا جواب نعروں سے دیتے رہے۔

حملے کے وقت سماجی کارکن فرزانہ باری ہاتھ میں جھنڈا اٹھائے ایک طرف اپنے مارچ کے نوجوان شرکا کو ایک طرف ہونے کا کہہ رہی تھیں اور دوسری جانب خود آگے بڑھ کر ان افراد کو جواب دے رہی تھیں جو ڈنڈوں اور جوتوں سے ان پر حملہ کر رہے تھے۔

فرزانہ باری نے اس پورے واقعے کو ’انتظامیہ کی غلطی‘ قرار دیا اور کہا کہ دو متضاد سوچ رکھنے والوں کو ایک ہی مقام پر مارچ کرنے کی اجازت دی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ہماری خواتین کو پہلے ہی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ مگر ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔‘

واضح رہے کہ حملے کے وقت جامعہ حفصہ کی طالبات جا چکی تھیں جبکہ صرف مرد حضرات ہی موجود تھے جو خواتین کے اس مارچ کی مخالفت میں تقاریر کرتے ہوئے اسے ’غیر اسلامی‘ اور ’بے حیائی کا منبع‘ قرار دے رہے تھے۔

ان موقع پر خواتین مارچ کے شرکا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’سڑکوں پر ہونے والے یہ حملے انھیں کمزور نہیں کر سکتے، ہمارا مقصد ان پتھروں اور لاٹھیوں سے بڑا ہے۔‘

خیال رہے کہ اسلام آباد میں دن میں چار مختلف مارچ منعقد کیے گئے۔ ایک جماعت اسلامی کا، دوسرا جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے طلبا و طالبات کا، تیسرا منہاج القرآن کا جبکہ چوتھا عورت آزای مارچ تھا۔ ان سب کے راستے تقریبا ایک سے تھے مگر اوقات کار مختلف رکھے گئے تھے۔

جس وقت جامعہ حفصہ کی طالبات نے بینرز اٹھا کر مارچ کا آغاز کیا عین اسی وقت اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر منہاج القرآن خواتین ونگ کا مارچ شروع ہو چکا تھا۔ ان خواتین میں زیادہ تعداد ان خواتین کی تھی جو منہاج القرآن کی رکن ہیں۔

دو خواتین نے ’تم آزاد ہو، میں آباد ہوں‘ کا پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا مگر جب ان سے اس نعرے کا مطلب پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ انھیں اس کا مطلب معلوم نہیں ہے۔ یہاں موجود شرکا نے تقاریر بھی کیں اور کہا کہ وہ ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسے نعروں کی قائل نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنے حقوق کے لیے نکلی ہیں مگر مردوں کی تحقیر یا تذلیل یا ان کے ساتھ برابری کا مطالبہ نہیں کرتی ہیں۔‘

یہی موجود ایک خاتون جو پیشے کے اعتبار سے درس و تدریس سے منسلک تھیں، مارچ کی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کئی سال تک مردوں کے ساتھ کام کیا ہے اور مجھے کبھی ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔‘

عورت آزادی مارچ کا آغاز بتائے گئے وقت سے تقریبا ایک گھنٹا تاخیر سے شروع ہوا۔ جس کی وجہ پریس کلب کے باہر منہاج القران کی خواتین کا مارچ تھا جبکہ یہیں سڑک کی دوسری جانب جامعہ حفصہ کی خواتین کا مارچ جاری تھا۔

عورت آزادی مارچ کے لیے سیکورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے اور عورت مارچ میں شرکت کے لیے آنے والوں کو سختی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایک موقع پر پولیس نے ان شرکا کو بیریئر کی ایک جانب روک دیا اور کہا کہ ’اوپر سے حکم آیا ہے، آپ اوپر بات کریں تو جانے دیں گے۔‘ اس موقع مارچ کے منتظمین نے مداخلت کی جس کے بعد ان شرکا کو مارچ کے مقام تک رسائی ملی۔

عورت آزادی مارچ میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے۔ اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ڈاکٹر نیر سمیت کئی افراد نے وہیں میدان میں بیٹھ کر بینرز تیار کیے۔ تاہم اس بار زیادہ تر بینرز منتظمین نے خود تیار کروائے تھے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عورت مارچ

بڑے شہروں میں ہونے والے عورت مارچ سے متعلق کچھ لوگ یہ تنقید کرتے ہیں کہ مارچ میں شریک خواتین پاکستان کی تمام عورتوں کی ترجمانی نہیں کرتی ہیں۔

اس بنیادی تنقید کی حقیقت جاننے کے لیے نمائندہ بی بی سی ترہب اصغر نے اس سال کسی بڑے شہر کے بجائے پنجاب کے ایک چھوٹے شہر کا رخ کیا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انھوں نے کیا دیکھا ان ہی کی زبانی جانیے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ پہنچنے کے بعد میں نے اس علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ساجدہ سے رابطہ کیا۔ ساجدہ نے ہمیں ایک دفتر میں بلایا۔ جب میں وہاں پہنچی تو وہ ایک گھر تھا جس کی بالائی منزل کو ہی بھٹہ مزدور اور گھریلو ملازمین کی یونینز کا دفتر بنایا گیا ہے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ایک کمرے میں دس، پندرہ خواتین بیٹھی تھیں جبکہ دوسرے کمرے میں مرد بیٹھے تھے۔ ساجدہ نے میری ملاقات وہاں بیٹھے ایک شخص شبیر سے کروائی جو بھٹہ مزدور یونین پنجاب کے جنرل سیکریٹری ہیں۔

تعارف ہونے کے بعد انھوں نے بتایا کہ ہم نے خاص طور پر خواتین مزدوروں کو کال دی ہے تاکہ وہ اپنے عورت مارچ کے ذریعے اپنے مسائل کو اجاگر کر سکیں۔ ان کے بعد میں خواتین کے کمرے میں چلی آئی۔ اس کمرے میں موجود تمام خواتین سے میں سوال کیا آج آپ یہاں کیوں جمع ہوئی ہیں؟ تو چند نے جواب دیا کہ انھوں (آرگنائزرز) نے بلایا تھا اور کچھ نے کہا کہ ’باجی بڑے مسئلے ہیں ہم تو ہر چار پانچ مہینوں بعد جلوس نکالتے ہیں کہ ہمارے مسئلے حل ہو جائیں۔‘

میں نے پوچھا کہ کیا کیا مسائل ہیں؟ اس پر ساتھ بیٹھی ایک خاتون بولیں کہ سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ اتنی محنت کرتے ہیں اور چار پیسے بھی نہیں ملتے ہیں۔ روز صبح گھر سے نکلتے ہیں کمانے کے لیے اور باہر جا کر بھی ذلیل ہوتے ہیں اور گھر واپس آ کر خاوند سے الگ باتیں سنتے ہیں اور مار بھی کھاتے ہیں۔ ہمارے تو بچے بھی ہمیں باتیں سناتے ہیں کیونکہ گھر کے خرچے ہی پورے نہیں ہوتے ہیں۔

اس بات پر ایک اور خاتون بولیں کہ باجی میں پورا مہینہ کام کرتی ہوں کسی کے گھر اور مجھے صرف 1500 روپے ملتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھر کی مالکن سے الگ باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ اور اگر کسی نے گھر میں چھوٹی بچی یا بچہ کام پر رکھا ہو تو وہ اسے مار بھی لیتے ہیں۔ اس لیے ہم آج اکٹھے ہوئے ہیں کہ کم از کم کچھ اور نہیں تو ہمیں اجرت تو ہماری محنت کے برابر ملے۔

میں نے عورت مارچ کے منتظمین سے پوچھا کہ کتنی دیر تک آپ لوگ مارچ شروع کریں گیں تو انھوں نے جواب دیا کہ بس کچھ بھٹہ مزدور خواتین آ رہی ہیں وہ آ جائیں تو شروع کر دیں گے۔

اسی دوران مجھے ایک زاہدہ نامی خاتون ملیں جو اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ مارچ میں شرکت کے لیے آئی تھی۔

میں اس سے پوچھا کہ آپ بھٹے پر کام کرتی ہیں تو آپ کو کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ زاہدہ نے بتایا کہ حکومت نے ہماری روز کی کم از کم اجرت 1250 روپے مختص کی ہے لیکن ہمیں بھٹہ مالکان کی جانب سے اتنے پیسے نہیں دیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ خواتین سے کام کروایا جاتا ہے لیکن کسی قسم کا کوئی کھاتہ نہیں بنایا جاتا جبکہ مردوں کے رجسٹر بنائے جاتے ہیں۔ ہمارا سوشل سکیورٹی کارڈ بھی نہیں ہے نہ ہمارے لیے بھٹوں پر پینے کا صاف پانی ہوتا ہے اور نہ ہی واش روم ہیں۔ ہم رفع حاجت کے لیے کھیتوں میں جاتے ہیں اور وہاں مرد بھی ہوتے ہیں اور اکثر اوباش لڑکے بھی جو ہمیں وہاں چھیڑتے ہیں۔

تاہم ہم کچھ نہیں کر سکتی ہیں کیونکہ ہمارے علاقوں میں تو اگر کسی بچی یا عورت سے کوئی مرد چھیڑ خانی یا زیادتی کرتا ہے اور اس کی شکایت کر دی جائے تو کہا جاتا ہے کہ ’چپ ہو جاؤ، دفع کرو اس بات کو۔‘

انھوں نے دعوی کیا کہ اگر کبھی ہم علاقے کے چوہدری کے پاس شکایت لے کر جاتے ہیں تو وہاں الٹا عورت کو ہی سب مرد برا بھلا کہتے ہیں اور الزام عائد کرتے ہیں کہ ’تم تم ہو ہی اوچھی اور آوارہ عورت۔‘

زاہدہ کا مزید کہنا تھا کہ ایسے معاملات کو دبا دیا جاتا ہے۔ اس لیے بہت مجبوری کے تحت ہم اپنی بچیوں کو کام پر بھیجتے ہیں کیونکہ پیٹ کی خاطر بڑا کچھ کرنا اور برداشت کرنا پڑتا ہے۔

مختلف خواتین سے بات کرنے کے بعد میں کچھ دیر کے لیے اُس دفتر سے باہر آ گئی۔

آہستہ آہستہ خواتین وہاں پہنچ رہی تھیں۔ اتنی دیر میں ایک خاتون میرے پاس آئیں اور پوچھا کہ ’باجی تسی کیتھوں آئے او۔‘ میں نے جواب دیا کہ میں لاہور سے آئی ہوں۔ انھوں نے مجھے اپنا نام صابری بتایا اور کہنے لگیں کہ باجی ہمارے کچھ مسئلے حل کروا دیں۔

میں اس سے پوچھا کہ آپ کا کیا مسئلہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میری تین بیٹیاں ہیں اور ہم آلو کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ سارا دن مٹی میں سے آلو نکال نکال کر ہاتھ رہ جاتے ہیں اور ہمیں ایک کلے سے آلو نکالنے کے 55 روپے ملتے ہیں۔ جبکہ اردگرد کے گاؤں میں ساٹھ روپے دیے جاتے ہیں۔ ہم نے اتنی بار بات کی ہے مالک سے کہ ہمارے پیسے بڑھا دو، وہ آگے سے کہتا ہے کہ اتنے پیسوں میں کام نہیں کرنا تو چلی جاؤ۔

میں نے اس سے پوچھا کہ آپ سب آج ادھر ایک مارچ کر رہی ہیں تو انھیں مسائل کے لیے آئی ہیں۔ جس پر صابری نے جواب دیا کہ کہاں باجی یہ تو اس لالچ میں آئی ہیں کہ شاید ان کو کچھ راشن مل جائے کیونکہ ہمارے علاقے میں بہت غربت ہے۔

اس نے مزید بتایا کہ ’ہمارے ہاں تو عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے۔ ہم کیسے ایک ساتھ اپنے حقوق کے لیے لڑیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اب میری ہی مثال لے لیں۔ ہم نے جب بھی مالکوں کو کہا کہ ہمارے پانچ روپے بڑھا دو تب ہی ہمارے علاقے کی عورتیں اس سے بھی کم پیسوں میں جا کر وہی کام کرنے کو تیار ہو جاتی ہیں۔

صابری کا کہنا تھا کہ اب ایسی سوچ کے ساتھ کسی بھی عورت کا کیا بھلا ہونا۔ اپنی بے بسی کا تذکرہ کرتے ہوئے صابری کا کہنا تھا کہ ہم تو صرف پیٹ بھرنے کے لیے ہی اپنے حقوق مانگتے ہیں۔ کہ عزت اور تحفظ کے ساتھ ہم اپنا رزق کما لیں لیکن ہمیں تو یہ سہولیات بھی باآسانی نہیں ملتیں باقی باتیں تو بعد کی ہیں۔

کچھ دیر بعد گجرہ چونگی روڈ سے مارچ شروع ہوا جس میں خواتین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر ان کے مطالبات درج تھے۔

’ہمیں سوشل سکیورٹی کارڈ فراہم کیے جائیں، جائیداد میں ہمارا حصہ بھی ہے، بھٹوں سے جبری مشقت کا خاتمہ کیا جائے، ہمیں ہماری پوری اجرت دی جائے، تعلیم ہمارا حق ہے۔‘

عورت مارچ میں موجود ایک ضعیف خاتون نے بھی پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ماں جی کیا آپ کو پتا ہے کہ اس پر کیا لکھا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا پتر میں تو پڑی لکھی ہی نہیں ہوں مجھے کیا پتا کیا لکھا ہے۔ میرے تو ماں باپ نے مجھے تعلیم ہی نہیں دی بلکہ انھوں نے تو ساری زندگی مجھ سے کام ہی کروایا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم بہت ضروری ہے۔ اس لیے تو میں بھی آج آئی ہوں کہ چلو ہماری بچیاں ہی تعلیم حاصل کر لیں کیونکہ یہ تو سب کا حق ہے۔

لاہور میں عورت مارچ

لاہور میں آزادی مارچ کا آغاز لاہور پریس کلب کے سامنے سے ہوا۔ لاہور میں بی بی سی کے نمائندے فرقان الہی وہاں موجود تھے۔

عورت مارچ لاہور کے سوشل میڈیا پر آج لال رنگ کے ایک بڑے بینر کی تصویریں شیئر کی گئیں اور بعدازاں یہی بینز ریلی میں بھی واضح رہا۔

اس پر مختلف عبارتیں لکھی ہوئی تھیں جن میں مختلف خواتین نے اپنے عورت مارچ میں شامل ہونے کی وجوہات بیان کی ہوئی تھیں۔ کہیں لکھا تھا کہ ’مجھے میرے باس نے کہا کہ اگر تم اپنی نوکری قائم رکھنا چاہتی ہو تو جنسی تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔‘

پھر ایک اور تصویر میں عبارت واضح نظر آرہی تھی کہ ’میں نے شادی سے انکار کیا تو میرے کزن نے میری عزت لوٹ لی اور میں خاندان میں بدنام ہوئی۔‘

اس طرح کی درجنوں تحریریں اس لال کپڑے پر درج تھیں۔ اس مہم کو شروع کرنے والی عورت مارچ کی رضاکار فاطمہ رزاق کہتی ہیں کہ گذشتہ کئی دنوں سے متعدد خواتین نے اپنے ہاتھ سے اس کپڑے پر خود کے ساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی کے تکلیف دہ تجربوں کی کہانیاں مختصراً بیان کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خود بول نہیں سکتے۔

فاطمہ کہتی ہیں کہ اس بینر کو پڑھنے سے ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ جنسی استحصال کہاں کہاں ہو رہا ہے۔

خواتین پر بڑھتے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے گائے جانے والے ترانے ’ریپسٹ ہو تم‘ کی گونج لاہور کے عورت مارچ میں سنائی دی گئی۔

کراچی میں آزادی مارچ

کراچی میں فریئر ہال کے باہر عورت مارچ کی تقریب کا آغاز ہوا جب کہ اس کا اختتام میٹروپول ہوٹل کی قریب ہوا۔ کراچی میں شرکا نے پدر شاہی معاشرے کے خلاف بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔

کراچی میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار کریم الاسلام سے بات کرتے ہوئے گلوکار اور سماجی کارکن اریب اظہر کا کہنا ہے کہ ’معاشرے میں تبدیلی اُس وقت ہی ممکن ہو گی جب مرد و خواتین مل کر تمام انسانوں کے حقوق کے لیے کام کریں گے۔‘

اریب اظہر کا کہنا تھا کہ ’عورت مارچ کے ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسےنعروں پر تنازع نہیں بننا چاہیے تھا، یہ ان لوگوں کی سازش ہے جو اس مارچ کے مخالف ہیں۔‘

’معاشرے میں بہت سے مرد ایسے ہیں جب وہ ان نعروں کو سنتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ خواتین ان کے ذریعے جنسی آزادی مانگ رہی ہیں۔ تاہم خواتین کو ان نعروں سے ایسا نہیں لگتا، بلکہ ان کے دماغ میں یہ چلتا ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر ان کی شادی نہ ہو، انھیں کام کرنے کی آزادی ہو۔‘

عورت مارچ کراچی کی آرگنائزنگ کمیٹی کی رکن قرت مرزا کہتی ہیں کہ پاکستان کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور وہ ملک کی معیشت اور سماج میں اس حصے کو اپنا آئینی اور قانونی حق سمجھتے ہوئے مانگنے نکلی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’جب آئین اور قانون اس ملک میں بسنے والے تمام افراد کو برابر کا شہری مانتا ہے تو پھر کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ خواتین کو بازاروں میں کام کی جگہوں اور سکولوں میں ہراساں کرے۔‘

قرت مرزا کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو ’میرا جسم میری مرضی‘ کے نعرے سے اختلاف ہے تو ہمیں کوئی اور نعرہ بتا دیں تاہم یہ ضرور سمجھ لیں کہ ہم بھی اُسی طرح محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جیسے کسی اور صنف کے لوگ۔

سکھر میں عورت مارچ

سکھر میں عورت مارچ کی ریلی مہران فیملی پارک سے شروع ہوئی۔

نمائندہ بی بی سی ریاض سہیل یہاں پہنچنے والی خواتین ریلی کی صورت میں نعرے دہراتی ہوئی آئیں جن میں پسند کی شادی، تعلیم اورصحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے مطالبات شامل تھے۔

ریلی میں شریک بچیوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ’ہمارا جسم حیا کا سرٹیفیکیٹ نہیں‘ ’عورت آزاد معاشرہ آزاد‘ اور پارلیمنٹ میں ’مخصوص نشتیں نہیں بلکہ برابر حقوق چاہیں‘ جیسے نعرے درج تھے۔

کوئٹہ

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی عورت مارچ کے سلسلے میں ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں سماجی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے عہدیداران اور کارکنان نے شرکت کی۔

سیاسی کارکن رافعہ ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں اور بلوچستان میں خواتین کی مجموعی صورتحال بہت مختلف اور مسائل بہت پیچیدہ ہیں۔

خواتین کے عالمی دن پر لاپتہ افراد کی خواتین رشتہ داروں نے ایک علامتی بھوک ہڑتال کی۔ عورت مارچ کے شرکا بھی علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ گئے جہاں انھوں نے کیمپ کے شرکا سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

جبکہ کوئٹہ میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے مردوں نے بھی ’مین فار ویمن مارچ‘ کے نام سے خواتین کی حمایت میں مارچ اور پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا۔

خیبر پختونخوا میں عورت مارچ کیوں نہیں ہوا؟

جہاں پاکستان کے کئی شہروں میں خواتین سڑکوں پر اپنے حقوق کے لیے عورت مارچ کر رہی تھیں وہیں خیبر پختونخوا کے کسی شہر میں عورت مارچ کی ریلیاں دیکھنے میں نہیں آئیں۔

اس بارے میں مردان سے تعلق رکھنے والی عوامی ووکرز پارٹی کی ویمن سیکریٹری ریحانہ شکیل نے ہمارے ساتھی بلال احمد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چاہتے تو ہم بھی تھے کہ یہاں پر بھی عورت آزادی مارچ ہوتا لیکن خیبر پختونخوا ایک ایسا صوبہ ہے جہاں پر پختون لوگ نہیں چاہتے کہ ان کی عورتیں سڑکوں پر نکلیں اور آزادی مارچ کریں۔ لیکن اگلے سال ہماری کوشش ہو گی کہ ہم بھی عورت آزادی مارچ کریں۔‘

پشاور میں تاجر برادری کی جانب سے عورت مارچ کے خلاف مظاہرہ کیا گیا جبکہ جماعت اسلامی کے شعبہ خواتین نے بھی عورت مارچ کے خلاف ’تقدس خواتین مارچ‘ کا انعقاد کیا۔ یہ ریلی آرکائیوز ہال سے گورنر ہاؤس تک گئی۔

۔