عورت مارچ: اسلام آباد میں ریلی پر تشدد کرنے پر پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی مگر پتھراؤ کا ذکر غائب

اسلام آباد
،تصویر کا کیپشن

اسلام آباد میں آٹھ مارچ کو عورت مارچ کے موقع پر پتھراؤ کیا گیا اور جوتے پھینکے گئے

اسلام آباد پولیس نے آٹھ مارچ کو عورت مارچ کے شرکا کے خلاف نعرے لگانے، پتھراؤ کرنے اور انھیں ہراساں کیے جانے کے واقعات کے بعد ایف آئی آر تو درج کر لی ہے تاہم ان واقعات کو اس رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔

اسلام آباد کے پولیس تھانہ کوہسار میں درج ہونے والی یہ ایف آئی آر محض ’ایمپلی فائر ایکٹ‘ کی خلاف ورزی پر درج کی گئی ہے۔

رپورٹ میں صرف اتنا ذکر موجود ہے کہ مذہبی جماعت کے کارکنان نے عورت مارچ کے شرکا کے خلاف نعرے لگائے اور پولیس کو دھکے دیے جبکہ اس دوران ہونے والے جھگڑے اور عورت مارچ پر پتھراؤ کا ذکر ہی موجود نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس کی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

ایف آئی آر کے متن میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کچھ علما کا ذکر موجود ہے جن کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ انھوں نے جائے وقوعہ پر عورت مارچ کے خلاف بغیر اجازت تین سو سے چار سو افراد کو جمع کیا۔

ایف آئی آر میں مذہبی جماعت کے 30 سے 35 ’نامعلوم‘ افراد کے اشتعال میں آ کر قنات اکھاڑنے، چند پولیس والوں کو دھکے دینے اور روڈ بلاک کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال کی طرف موجود ان علما اور کارکنان نے لاؤڈ سپیکر سسٹم پر خواتین کے عالمی دن منانے والوں کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کی نیت سے الفاظ کسے اور مظاہرین کے جذبات ابھارتے رہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ’ان کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے، پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے، آپ کا مجمع خلاف قانون ہے، منتشر ہو جائیں لیکن وہ منتشر نہ ہوئے اور اشتعال میں آ گئے۔‘

اتوار کو کیا ہوا؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گذشتہ روز جہاں ایک جانب نیشنل پریس کلب کے مقام پر عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا وہیں اسی مقام پر مذہبی جماعتوں کی جانب سے حیا مارچ کے سلسلے میں ریلی بھی نکالی گئی تھی۔

اسلام آباد میں عورت مارچ پر اس وقت حملہ ہوا جب مارچ ڈی چوک کی جانب بڑھا۔ پریس کلب کے باہر میلوڈی سے سپر مارکیٹ کی طرف جاتی سڑک کی گرین بیلٹ پر قناتیں لگائی گئی تھیں۔ ان کی ایک طرف جامعہ حفصہ کی طالبات جمع تھیں جن کے ساتھ ایک بڑی تعداد لال مسجد سے تعلق رکھنے والی منتظمین اور طالب علموں کی بھی تھی۔

سماجی کارکن اور مارچ کی منتظمین میں سے ایک ڈاکٹر فرزانہ باری نے حملے سے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے اچانک انھیں اپنا راستہ تبدیل کرنے کا کہا ہے کیونکہ ’جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے شرکا فی الحال اس مقام سے جانے کو تیار نہیں ہیں۔‘

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

تاہم عین اس وقت جب عورت مارچ کے شرکا کا ٹرک اُس مقام سے گزرا، جہاں سڑک کی دوسری جانب ٹرک پر حیا مارچ کرنے والے لال مسجد کے شرکا موجود تھے، تو شدید نعرے بازی شروع ہو گئی۔ عورت مارچ کی خواتین نے ’وکٹری‘ کا نشان بنایا۔ یہی وہ موقع تھا جب حیا مارچ میں شامل چند مردوں نے وہ قناتیں توڑنی شروع کر دیں جو پولیس نے کھڑی کی تھیں۔ اس دوران مارچ پر ڈنڈے اور جوتے پھینکے گئے جبکہ چند ہی لمحوں میں پتھراؤ بھی شروع ہو گیا۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق جب عورت مارچ کا قافلہ سڑک پر آیا تو دونوں ریلیوں کے درمیان لگی باڑ کی دوسری جانب سے عورت مارچ پر پتھر، جوتے اور دیگر اشیا پھینکی گئیں۔

اس وقت پولیس اہلکاروں اور مارچ کی سکیورٹی ٹیموں نے میڈیا سمیت دیگر شرکا کو وہاں سے ہٹانا شروع کر دیا۔ عورت مارچ میں بعض شرکا نے وہی جوتے واپس حملہ کرنے والوں کی طرف پھینکے۔ تاہم زیادہ تر شرکا پتھروں کا جواب نعروں سے دیتے رہے۔

واضح رہے کہ حملے کے وقت جامعہ حفصہ کی طالبات جا چکی تھیں جبکہ صرف مرد حضرات ہی موجود تھے جو عورت مارچ کی مخالفت میں تقاریر کرتے ہوئے اسے ’غیر اسلامی‘ اور ’بے حیائی کا منبع‘ قرار دے رہے تھے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گی۔ اس ’ادھوری‘ ایف آئی آر کو انھوں نے دوبارہ ٹویٹ کر کے بتایا کہ مقدمہ درج ہو گیا ہے۔

تاہم رابطہ کرنے پر انھوں نے اس حوالے سے تفصیل میں جانے سے گریز کیا کہ ایف آئی آر میں عورت مارچ کے شرکا پر تشدد سے متعلق دفعات کیوں نہ لگائی جا سکیں اور جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہاں خاطر خواہ سکیورٹی انتظامات کیوں موجود نہیں تھے۔

خیال رہے کہ آٹھ مارچ کو اسلام آباد میں چار مختلف مارچ منعقد کیے گئے، جن میں ایک جماعت اسلامی کا، دوسرا جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے طلبا و طالبات کا، تیسرا منہاج القرآن کا جبکہ چوتھا عورت آزادی مارچ تھا۔

ان سب کے راستے تقریباً ایک سے تھے مگر اوقات کار مختلف رکھے گئے تھے۔