پنجاب فوڈ اتھارٹی: شادیوں، ریستورانوں کا اضافی کھانا بچا کر مستحقین کو کھانا دینے کا قانون کتنا قابلِ عمل ہوگا

  • عمر دراز ننگیانہ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
کھانا

سڑک کنارے بسیرا ہے، وہیں بیٹھتے ہیں، وہیں سوتے ہیں اور بھوک ستائے تو قریب ہی واقع دہائیوں پرانے ریستورانوں کا رخ کرتے ہیں۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے اندرون شہر کے متعدد علاقوں میں شاہراؤں کے دونوں اطراف آپ کو بہت سے ایسے لوگ دکھائی دیں گے۔ داتا دربار، لوہاری، بھاٹی گیٹ اور ٹیمپل روڈ جیسے علاقوں میں بے گھر، بے آسرا لوگوں کا ہجوم نظر آتا ہے۔

لیکن ان میں اکثریت کبھی بھوکی نہیں سوتی۔ ریستوران مفت کھانا کھلا دیتے ہیں، صاحبِ حیثیت افراد مدد کر دیتے ہیں یا پھر داتا دربار تو ہے ہی سہی۔

اسی لاہور میں تاہم اب بھی سینکڑوں نہیں ہزاروں ایسے افراد موجود ہیں جنھیں ایک وقت کا کھانا مل بھی جائے تو اگلے کی فکر رہتی ہے۔ ان کی سفید پوشی انھیں ہاتھ پھیلانے بھی نہیں دیتی۔ کسی ریستوران میں جا کر بغیر پیسوں کے کھانہ کھا لینے کے لیے ہمت مجتمع کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ یا پھر کسی جسمانی معذوری کے باعت وہ جا ہی نہیں سکتے۔

غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق نتیجتاً ایسے افراد ہفتے میں پانچ دن کھانا کھا پاتے ہیں یا دن میں صرف ایک کھانے پر گزارا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اب ذرا تصویر کا رُخ پلٹیے۔ یہاں وہ ریستوران اور شادی ہال نظر آئیں گے جہاں روزانہ کئی من کھانا بچ جاتا ہے۔ صاف ستھرا اور ان چھوا یہ کھانا ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر اسے کسی طریقے سے اس کھانے کو بچا لیا جائے تو ان افراد کی بھوک مٹا سکتا ہے جو بھوکے بھی ہیں اور مانگنے بھی نہیں سکتے۔

مگر ایسا کیسے ہو؟ کھانا اگر محفوظ بنا بھی لیا جائے تو اسے ضرورت مند افراد تک پہنچایا کیسے جائے؟ سفید پوشی کے پردے میں چھپے ان لوگوں کو تلاش کیسے کیا جائے اور کون کرے گا؟

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے انہی سوالوں کے اطراف غور و خوض کے بعد حال ہی میں ایک ریگولیشن یا قانون ترتیب دیا ہے۔ اس کے مطابق ریستورانوں کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ بچا ہوا کھانا محفوظ بنائیں جسے غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے حقدار افراد تک پہنچایا جائے گا۔

کس کو کھانا نہیں ملتا؟

بی بی سی سے گفتگو میں پنجاب فوڈ اتھارٹی یعنی پی ایف اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان نواز میمن نے بتایا کہ ’اس قانون میں ریستوارانوں کے لیے ایک رضاکارانہ رجسٹریشن رکھی گئی ہے جس کے بعد ان کا کھانا غیرسرکاری تنظیمیں لے کر غریبوں میں تقسیم کریں گی۔‘

ایک غیرسرکاری تنظیم اخوت نے پی ایف اے کے تعاون سے اس پر عمل درآمد شروع کر رکھا ہے۔ تنظیم کے چیف کوارڈینیٹر ابوبکر صدیق کے مطابق انھیں 9300 کے قریب ایسے افراد کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جنھیں ضرورت کے مطابق خوراک میسر نہیں۔

’کچھ لوگ جسمانی طور پر معذور ہیں، کچھ بہت بزرگ ہو چکے ہیں، کچھ گھرانوں میں صرف بچے یا خواتین ہیں جو کھانا لینے کے لیے بھی باہر نہیں نکل پاتیں اور کچھ ایسے ہیں جن کا لیے خیرات کا کھانا لینا مشکل ہوتا ہے۔‘

فی الوقت وہ دو سو سے تین سو خاندانوں پر مشتمل تقریباً ایک ہزار افراد کو گھروں تک ریستورانوں کا کھانا پہنچاتے ہیں۔

ایسے افراد تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟

ابو بکر صدیق کے مطابق ان کی تنظیم چونکہ چھوٹے قرض دیتی ہے اور نچلے طبقے تک پہنچ رکھتی ہے اس لیے ایسے حقدار افراد کی نشاندہی آسان ہو جاتی ہے۔ ان کا ہدف دس ہزار افراد تک پہنچنا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ تاحال کھانا دینے والے ریستوران کم ہیں۔

ڈی جی پی ایف اے عرفان نواز میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس قانون کے آنے کے بعد ان کے پاس اے کیٹیگری کے زیادہ تر ریستورانوں نے رجسٹریشن کروا لی ہے۔ 70 سے زائد شادی ہال بھی انھیں یقین دہانی کروا چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’جو کھانا بچ جاتا ہے اس کے ضائع ہو جانے سے ریستوارانوں کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس لیے انھوں نے تو خود سے کہا ہے کہ آپ کھانا لے جائیں۔‘

عرفان نواز میمن کے مطابق یہ کھانا وہ ہو گا جو صاف ستھرا ہو گا، پلیٹ میں بچا کُچا نہیں ہو گا۔

مگر اتنی بڑی مقدار میں کھانا خراب ہونے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟ پاکستان کے عمومی گرم موسم میں ایک سے دو وقت رکھنے اور ترسیل کے دوران ہی یہ کھانا ضائع ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے فریزر اور ایئرکنڈیشنڈ گاڑیاں درکار ہوں گی۔

کھانا کہاں سے آئے گا؟

کیا ریستوران اتنا خرچ کریں گے؟ اور اگر کریں گے تو بدلے میں انھیں کیا فائدہ ملے گا؟ پی ایف اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان میمن کے مطابق بڑے ریستورانوں کے پاس پہلے ہی سے کھانا محفوظ بنانے کی سہولیات موجود ہوتی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’لوگوں میں صدقہ خیرات کا جذبہ ویسے بھی بہت زیادہ ہے۔ لوگ خود سے مفت کھانے کا انتظام بھی کرتے ہیں، یہ تو کوئی بڑی بات نہیں۔‘

لاہور میں ایک مثال مونال ریستوران کی ہے جہاں روزانہ بوفے سے تقریباً 20 کلو کھانا بچتا ہے۔ ریستوران کے مینیجر کے مطابق انھوں نے ایک نظام قائم کر رکھا ہے جہاں کھانے کو محفوظ بنایا جاتا ہے۔

روزانہ 600 افراد کو صاف ستھرا کھانا کھلایا جاتا ہے

لاہور کے مونال ریستوران کے مینیجر محمد مظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جو کھانا صاف ستھرا اور کھانے کے قابل ہوتا ہے ہمارا سٹاف اس کو ایک علیحدہ مقررہ جگہ پر رکھتا ہے۔ جس کے بعد اس کھانے کو خاص طور پر مقرر کیے گئے فریزرز میں پہنچا دیا جاتا ہے۔‘

کھانے کو اقسام کے حساب سے مختلف لفافوں میں ڈال کر فریزرز میں رکھا جاتا ہے۔ ہر روز مقررہ وقت پر ایک غیر سرکاری تنظیم کی گاڑی آ کر وزن کر کے کھانا اٹھا کر لے جاتی ہے۔ یہ کھانا لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز کے طلبا کی اس تنظیم کے فوذ بنک پر تقسیم کیا جاتا ہے۔

مظہر احمد کے مطابق ’ان فوڈ بنکوں سے روزانہ تقریباً 600 کے قریب افراد کو صاف ستھرا اور عزت کے ساتھ کھانا کھلایا جاتا ہے۔‘

کھانے کی محفوظ ترسیل کیسے ممکن ہے؟

ڈی جی فوڈ اتھارٹی عرفان نواز میمن کے مطابق قانون میں شق رکھی گئی ہے کہ جو غیر سرکاری تنظیمیں اس کام میں حصہ لینے کی خواہشمند ہوں گی وہ پی ایف اے کے پاس اندراج کروائیں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس طری اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وہ مقرر کردہ ضوابط پر عمل کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ایک شق یہ بھی رکھی گئی ہے کہ یہ تنظیمیں ایئر کنڈیشنڈ گاڑیاں استعمال کریں گی تا کہ کھانا ترسیل کے دوران خراب نہ ہونے پائے۔‘

بڑے ریستوران تو یہ کر سکتے ہیں تاہم چھوٹے ریستوران کیا اتنی مالی استعداد رکھتے ہیں کہ وہ اتنا بندوبست کر پائیں؟ عرفان نواز میمن کے مطابق چھوٹے ریستوران زیادہ تر اتنا ہی کھانا تیار کرتے ہیں جتنا انھیں درکار ہوتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’چھوٹے ریستوران پر اگر ایک کلو کڑاھی کا آرڈر ملے گا تو وہ اتنی ہی تیار کرتا ہے جو ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے وہاں سے جو کھانا نہ ہونے کے برابر بچتا ہے۔ زیادہ حصہ اس زائد کھانے میں انہی ریستورانوں کا ہے جو بوفے لگاتے ہیں یا پھر شادی ہال ہیں۔‘

کیا قانون پر عمل درآمد لازم ہو گا؟

اگر کوئی ’اے کیٹیگری‘ کا ریستوران اس قانون پر عملدرآمد نہیں کرتا تو کیا اسے کے خلاف کوئی کارروائی بھی ہو سکتی ہے؟ اس پر عرفان نواز میمن کا کہنا تھا کہ کیونکہ یہ آغاز ہے تو اس قانون پر عمل درآمد کو رضاکارانہ رکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی ابتدا ہے اور ہم کسی کو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ زبردستی خیرات کرے۔ اس لیے ہم اس کو رضا کارانہ رکھیں گے اور دیکھیں گے کہ یہ کسے چلتا ہے۔ بعد میں ہو سکتا ہے ہم اس کو لازم بھی قرار دے دیں۔‘

ان کے پاس مثالیں موجود ہیں کہ یہ طریقہ کار مفید ثابت ہو سکتا ہے اور غیر سرکاری تنظیموں کے اعدادوشمار کے مطابق صرف لاہور ہی میں اس قدر لوگوں موجود ہیں جنیں روزانہ کھانے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔