کورونا وائرس: لاک ڈاؤن کے دوران کراچی میں کرفیو پر کتنا عملدرآمد ہو رہا ہے؟

کراچی

سندھ کا دارالحکومت کراچی ہو یا حیدرآباد، ٹنڈوالہ یار یا جام شورو ہر جگہ سے شکایات یہی تھیں کہ پولیس نے زبردستی کریانہ، گوشت، دودھ اور سبزی کی بھی دکانیں بند کرادیں، باوجود اس کے لاک ڈاون سے قبل وزیر اعلیٰ، آئی جی سندھ، کمشنر کراچی اپنے پیغامات اور احکامات میں واضح کرچکے تھے کہ کھانے پینے کے اشیا کی دکانیں کھلی رہیں گی۔

اتوار کو مکمل لاک ڈاون کے اعلان سے پہلے ہی شہر میں سبزیوں کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد اضافہ ہوچکا تھا، صدر ایمپریس مارکیٹ اور شہاب الدین جیسے بڑے مراکز میں آٹا بھی ناپید تھا۔

یہ بھی پڑھیے

وسعت اللہ خان کا کالم: کرو یا مرو

پانچ چیزیں جو فوج عالمی وبا سے مقابلے کے لیے کر سکتی ہے

کورونا: مشکل گھڑی میں انسانیت کے لیے پانچ حوصلہ افزا باتیں

کراچی لاک ڈاؤن اس بار مختلف کیسے؟

کراچی کے شہری ماضی میں بھی لاک ڈاؤن کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ آپریشن کے بعد منقطع ہوگیا۔

پہلے اس لاک ڈاون کی وجہ سیاسی، لسانی اور فرقہ وارانہ ہوتی تھی تاہم کچھ علاقے ان ہڑتالوں اور ہنگامہ آرائی کے دنوں میں بھی کھلے رہتے تھے اور بعض علاقے کچھ خاص شناخت کے لوگوں کے لیے نو گو ایریا سمجھے جاتے تھے۔

موجودہ صورتحال میں وائرس عام آبادی میں پھیلنے کے بعد ہر علاقہ حساس بن چکا ہے، محکمہ صحت کے مطابق کراچی میں سامنے آنے والے کیسز ایک علاقے سے نہیں آئے بلکہ وسطی، شرقی، غربی، جنوبی اور شمالی اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔

شہر کے بڑے تجارتی مراکز، الیکٹرانکس، موبائل فون اور گارمینٹس کی دکانیں صدر میں واقع ہیں جبکہ اناج، برتن، پلاسٹک، کاسمیکٹس کی ہول سیل مارکیٹیں، بولٹن مارکیٹ، کھارادر اور جوڑیا مارکیٹ میں واقع ہیں۔

شہر کے دیگر مراکز میں لی مارکیٹ، لیاقت آباد، ملیر پندرہ، گلشن اقبال، ناظم آباد، حیدری، کلفٹن خریداری کے مقبول مقامات ہیں، جو مکمل لاک ڈاؤن سے ہی سامان لاتے ہیں لیکن ان کے بند رہنے کی وجہ سے ان کے پاس سامان اب ختم ہونے کو ہے۔

مکمل لاک ڈاؤن کے وقت یعنی رات بارہ بجے ہی سوشل میڈیا پر فلیگ مارچ کی ویڈیو ہر جگہ شیئر ہوتی رہی۔

صبح کراچی کی سڑکوں پر صرف پولیس ہی موجود تھی۔ باوجود اس کے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے وفاقی حکومت کو خط لکھ کر سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج تعینات کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

سوشل میڈیا پر ایک دوسری ویڈیو بھی وائرل رہی، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان کو پولیس اہلکار ڈنڈے مار رہے ہیں۔ اندھیرے میں علاقہ اور اہلکاروں کا پتہ نہیں چلتا، تاہم بعض اس کو کراچی اور کچھ نے اس کو انڈیا کی ویڈیو قرار دیا۔ پولیس حکام نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

پولیس کو کون سے جدید آلات دیے گئے ہیں؟

سندھ پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ لاک ڈاؤن میں سختی کی جائے گی اور یہ فورسز کا مشترکہ فیصلہ ہے، جس کے تحت نوجوان طبقہ زیادہ فوکسڈ ہوگا اگر ضرورت پڑی تو ڈنڈے بھی مارے جائیں گے تاکہ لوگ گھروں تک محدود ہوں۔

اس کو مذاق نہ سمجھیں بقول ان کے اگر پہلے چند روز سختی نہیں کی گئی تو عوام میں یہ تاثر پیدا ہوگا کہ پولیس تو کچھ کہہ نہیں رہی کچھ کر نہیں رہی۔

لاک ڈاؤن میں ایمرجنسی کی صورت میں نکلنے والوں کو شناختی کارڈ لازمی رکھنے کا کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکار کے مطابق کراچی میں پولیس کو آلات بھی دیے گئے ہیں جن میں ڈیٹا انٹری کی جاتی ہے۔

جو بھی کس کام سے نکلتا ہے اس کی انٹری ہوگی۔ اگلی بار اس کو روکا گیا تو معلوم ہوجائے گا کہ وہ پہلے بھی باہر نکل چکا ہے یا نہیں؟ اس کےعلاوہ ٹریول ہسٹری اور کسی جرم میں نامزد ہے تو اس کا ریکارڈ بھی سامنے آجائے گا۔

لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کتنی موثر؟

لاک ڈاؤن کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کے علاوہ اُوبر، کریم، ایئر لفٹ سروس بھی بند ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی پہلے ہی بین الاقوامی پروازیں معطل کرچکی ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران ماڈل کالونی کے قریب ایئرپورٹ جانے والی سڑک پر ٹرالر کھڑا کردیا گیا۔

اندرون شہر سڑکوں پر رکشہ اور موٹر سائیکلیں نظر آئیں۔ ایک رکشہ ڈرائیور ندیم نے بتایا کہ ایک کسمٹر نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اس کو لے کر ناظم آباد آیا ہوں۔

یہ رکشہ اندرون شہر کے علاوہ بڑے روٹس کے لیے بھی استعمال کیے گئے۔ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے سے رینٹ اے کار کی قلت کی وجہ سے کراچی سے دیگر شہروں کی جانب جانے والوں نے رکشہ کا انتخاب کیا۔ موٹر وے پر گذشتہ رات کئی درجن رکشے نظر آئے۔ ایک رکشہ ڈرائیور کے بقول انھوں نے نو ہزار میں سواری بُک کی ہے۔

سہراب گوٹھ کے آس پاس پشتون آبادی میں لاک ڈاؤن کا اثر کم دیکھا گیا ہے۔ ایک مقامی نوجوان ظفر محسود نے بتایا کہ یہاں لاک ڈاؤن بے اثر نظر آرہا ہے دکانیں وغیرہ تو بند ہیں لیکن گلیوں اورں میدانوں میں بچے بڑے کھیل رہے ہیں۔

’میں نے دو بار پولیس ایمرجنسی نمبر پر رابطہ کرکے بتایا ہے لیکن ان کی پاس اتنی نفری نہیں ہے کے تعینات کریں۔ وہ آتے ہیں لوگ ادھر اودھر ہوجاتے ہیں پھر جمع ہوجاتے ہیں۔ لوگ اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے کوئی اس کو ڈرامہ قرار دیتا ہے تو کوئی سازش سمجھتا ہے۔ اس صورتحال میں انتظامیہ کو آگاہی کی مہم چلانی چاہیے تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

اگر پمفلیٹ تقسیم کیے جاتے اور مساجد سے اعلانات ہوتے اس کا اثر زیادہ ہوتا۔

یاد رہے کہ کراچی آپریشن کے دوران بھی فورسز کا عمل دخل یہاں کم تھا۔ اسی علاقے میں پولیو وائرس کے کیس بھی زیادہ سامنے آتے رہے ہیں۔

لانڈھی کے نوجوان ابو الکلام آزاد نے بتایا کہ لانڈھی اور قائد آباد میں کاروباری مراکز بند ہیں تاہم موٹر سائیکل اور رکشے چل رہے ہیں۔ گلیوں میں لوگوں کی چہل پہل ہے۔

اسی طرح شہر کی گنجان آبادی والے علاقوں لیاری اور لیاقت آباد کی مرکزی شاہراہیں تو ویران رہیں جبکہ محلوں کے اندرون لوگوں کی آمدورفت جاری رہی۔ لیاقت آباد کے رہائشی محمد عامر کا کہنا تھا کہ لوگوں میں یہ بھی تجسس ہے کہ دیکھیں باہر کیا ہورہا ہے اور یوں وہ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔

کراچی کی سیاسی جماعتیں کتنی موثر؟

کراچی میں ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی میں سیاسی مقابلہ رہا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں غریب اور مزدور آبادیوں میں تنظیمی طور پر ان کا کردار محدود ہے۔

صحافی ضیاالرحمان کے مطابق جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے موجود ہیں، ان میں سے جماعت اسلامی نے کچھ سینیٹائزر اور ماسک تقسیم کیے لیکن غریب آبادی والے علاقوں میں کسی اور جماعت کا کردار نظر نہیں آ رہا۔

’تحریک انصاف کا حکومت سندھ سے لاک ڈاؤن کے معاملے پر اختلاف رہا ہے، تاہم اس کے اراکین نے پوش علاقوں میں پمفلٹ تقسیم کیے ہیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی چونکہ اقتدار میں ہے تو جو صوبائی حکومت اقدامات اٹھاتی ہے وہ اس کا کریڈٹ لیتی ہے۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی نے ہر یونین کونسل میں عوام میں صابن تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

خیراتی اداروں کی طرف سے راشن تقسیم

لاک ڈاؤن سے قبل ایک بڑا سوال غریب آبادی اور دہہاڑی والے مزدوروں کے گزر بسر کا بھی اٹھایا گیا تھا، جس کے لیے حکومت نے ایدھی فاؤنڈیشن، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اور عالمگیر ٹرسٹ سے رابطہ کیا تھا۔ ایدھی فاونڈیشن کے فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ انھوں نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ وہ صحت کے شعبے میں سہولت فراہم کرنے تک خود کو محدود رکھیں گے۔

سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پچاس ہزار خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا ہے۔ ان کی گاڑیاں مضافاتی علاقوں میں جاتی ہیں، جہاں پہلے سے لوگوں کی شناخت کرلی جاتی ہے۔ وہاں ان میں راشن کی تقسیم ہوتی ہے، جس میں چاول، آٹا، گھی اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

’شہر میں جو ستر کے قریب دستر خوان تھے موجودہ صورتحال میں وہاں ان کو فوڈ بینک میں تبدل کردیا گیا ہے، جہاں لوگ آکر کھانا لے جاتے ہیں کوئی بھی مستحق اپنے اہل خانہ کی تعداد بتاکر کھانا لے جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں