کورونا وائرس: کیا دیہی پاکستان کورونا کے ممکنہ مریضوں سے نمٹ سکتا ہے؟

کورونا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے کئی حصوں میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے جبکہ نوول کورونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد 1000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کے مختلف صوبوں سے 26 مارچ کی صبح تک 1078 متاثرین کی تصدیق ہوچکی تھی۔

سب سے زیادہ متاثر صوبے بالترتیب سندھ (413)، پنجاب (323)، خیبر پختونخوا (121) اور بلوچستان (119) ہیں۔

مارچ کی نو تاریخ تک پاکستان میں صرف سات تصدیق شدہ متاثرین تھے۔ ایک ہفتے کے اندر ہی تعداد 187 تک پہنچ گئی یعنی 250 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔ اور گذشتہ چند سے ان میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اگر متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور یہ پاکستان کے دیہی علاقوں تک پھیل گئے تو صوبوں کے لیے ان سے نمٹنا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔

کورونا وائرس پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

کورونا: پاکستان میں کیا ہو رہا ہے: لائیو کوریج

کورونا: دنیا میں کیا ہو رہا ہے، لائیو

پانچ چیزیں جو فوج عالمی وبا سے مقابلے کے لیے کر سکتی ہے

کورونا وائرس کس چیز پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟

کورونا: مشکل گھڑی میں انسانیت کے لیے پانچ حوصلہ افزا باتیں

صحت عامہ کا انفراسٹرکچر

سنہ 2018-19 کے اکنامک سروے کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے دیہی علاقوں کے ہسپتالوں کے پاس مریضوں کو داخل کرنے کے لیے موجود بستر ناکافی ہیں۔ ہر 1600 افراد کے لیے ایک بستر موجود ہے جو کہ سخت تشویش کی بات ہے۔

دیہات میں رہنے والی پاکستان کی 57 فیصد آبادی کے لیے ملک بھر میں دیہی مراکز صحت کی کُل تعداد 686 ہے۔

سنہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب کے دیہی علاقوں میں تقریباً پانچ کروڑ 59 لاکھ 58 ہزار 974 لوگ رہتے ہیں۔

فرض کیجیے کہ پنجاب کی پانچ فیصد آبادی کورونا وائرس کا شکار ہو جائے اور اگر ان میں سے نصف کو ہسپتال میں داخل کرنا پڑے تو کم از کم پانچ لاکھ 59 ہزار 590 بستر درکار ہوں گے جو کہ پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں موجود بستروں کی کل تعداد کا آدھا حصہ ہے۔

ڈاکٹرز

اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں ہر 963 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر موجود ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر 1000 مریضوں کے لیے ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے۔

سنہ 2000 میں 1529 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر موجود تھا جس کا مطلب ہے کہ گذشتہ سالوں میں یہ شرح کافی بہتر ہوئی ہے۔دیہی انڈیا میں ہر 26000 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر موجود ہے۔

لیکن اگر ہم پاکستان کے دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی شرح دیکھیں تو ایک بڑا فرق نظر آئے گا۔ ان علاقوں میں ہر 10 ہزار افراد کے لیے ڈاکٹرز کی شرح 3.6 ہے یعنی ہر 2500 افراد کے لیے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہے۔

ٹیسٹ سینٹرز

حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان بھر میں 15 لیبارٹریاں کووڈ 19 متاثرین کے لیے ٹیسٹ کر رہی ہیں۔ اسلام آباد میں ایک، کراچی میں چار، لاہور میں تین، ملتان میں ایک، پشاور میں ایک، کوئٹہ میں دو، گلگت بلتستان میں ایک، مظفرآباد میں ایک اور سکھر میں بھی ٹیسٹ کے لیے ایک لیبارٹری موجود ہے۔

اب تک سندھ میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین سامنے آئے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ شہروں کراچی اور سکھر میں پانچ لیبارٹریوں سے لوگ ٹیسٹ کروا سکتے ہیں۔

مگر ہر صوبے میں ہسپتال اور آئسولیشن وارڈ موجود ہیں تاکہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو تو ان سے نمٹا جا سکے۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ ہسپتال اور آئسولیشن وارڈ (10) موجود ہیں جبکہ پنجاب جہاں سب سے زیادہ دیہی آبادی ہے، وہاں کووِڈ کے مریضوں کے لیے چھ ہسپتال/وارڈ ہیں۔

محدود ٹیسٹ سینٹرز اور مکمل لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ اب تک غیر واضح ہے کہ دیہی علاقوں کے لوگ کس طرح اپنا ٹیسٹ کروانے کے لیے سفر کریں گے۔

حکومت کے لیے مقامی طور پر مرض کے پھیلنے سے متاثر ہونے والے لوگوں کا پتا چلانا خاص طور پر ملک کے دیہی علاقوں میں مشکل ہوگا۔

اسی بارے میں