بھکر: مردہ انسانوں کا گوشت کھانے والے ’آدم خور‘ بھائی رہا، تحفظ کی خاطر دوبارہ نظربند

آدم خور بھائی، آدم خور تصویر کے کاپی رائٹ NAveed Younus

پاکستان میں مردہ انسانوں کا گوشت کھانے والے بھائیوں کو سزا مکمل ہونے پر رہائی ملی لیکن دونوں افراد کو نقص امن کی وجہ سے دوبارہ جیل میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔

ان دونوں بھائیوں کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر سے ہے۔

ضلع بھکر کے ڈپٹی کمشنر آصف علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی رہائی کی وجہ سے علاقے میں نقص امن کا خطرہ تھا اس لیے ان دونوں بھائیوں کو موجودہ حالات کے تناظر میں ایک ماہ کے لیے نظر بند کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت چونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے تشویش پائی جاتی ہے اور دوسرا ان دونوں کی رہائی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی لوگوں کی جانب سے منفی رد عمل سامنے آ رہا تھا، جس وجہ سے انتظامیہ نے دونوں کو نظر بند کر دیا ہے۔

چونکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ ان بھائیوں نے متعدد میتوں کو قبروں سے نکالا تھا چنانچہ اس کی وجہ سے مقامی سطح پر سخت رد عمل پایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے دو 'آدم خور' بھائی

مفرور آدم خور بھائی بھی گرفتار

آدم خور بھائیوں کو 12، 12 برس قید کی سزا

دونوں بھائیوں کو سینٹرل جیل میانوالی میں 12 سال کی قید مکمل کرنے کے بعد گذشتہ روز رہائی ملی لیکن انھیں بھکر پولیس کے حوالے کیا گیا تاکہ ان دونوں افراد کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔

مردہ انسانوں کا گوشت کھانے والے کون ہیں؟

محمد عارف اور محمد فرمان کا تعلق گاؤں کہاوڑ تحصیل دریا خان سے ہے اور یہ علاقہ ضلع بھکر میں دریائے سندھ کے قریب واقع ہے۔

مقامی صحافی نوید یونس نے بتایا کہ ان کا خاندانی پیشہ زمینداری ہے اور دریائے سندھ کے ساتھ کچے کے علاقے میں زرعی زمین کا معقول رقبہ ہے۔ ان کے مطابق ان دونوں بھائیوں کے والد اور خاندان کے دیگر افراد علاقے میں اچھی حیثیت رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ikram Piracha
Image caption محمد عارف علی اپریل 2014 میں اپنی گرفتاری کے بعد

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی اپنے گھر میں تنہا رہتے تھے اور والدین اور بیوی بچے انھیں پہلے ہی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

ان دونوں بھائیوں کا گزر بسر بھی والد کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اناج پر ہی تھا۔ یہ دونوں بھائی کوئی کام یا ملازمت نہیں کرتے تھے۔

گرفتاری کے وقت دونوں کی عمریں 35 سے 40 سال کے درمیان تھیں لیکن گذشتہ روز جب انھیں رہا کیا گیا تو ان کے چہرے پر جھریاں پڑ چکی تھیں، کمر میں بڑھاپے کے خم آ چکے تھے اور اٹھنے بیٹھنے میں دقت محسوس کر رہے تھے۔

انسانی گوشت کے پکنے کی بو گرفتاری کا سبب بنی؟

یہ بات ہے اپریل سال 2011 کی جب مقامی تحصیل دریا خان میں مقامی لوگوں کی شکایات پر پولیس نے عارف اور فرمان کے گھر پر چھاپہ مارا اور وہاں سے انسانی گوشت برآمد ہوا۔ ایک اطلاع یہ تھی کہ ان ملزمان نے ایک لڑکی کی میت قبر سے نکالی تھی اور اسے گھر لے آئے تھے۔

پولیس نے دونوں بھائیوں کو گرفتار کر لیا اور ان پر قبروں کی بے حرمتی کے قانون کے تحت ایک سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے پر چھ مہینے مزید قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مقامی سطح پر ان کے اس عمل پر سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا تھا۔

وکلا کے مطابق مئی سال 2013 میں انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد اپریل سال 2014 میں علاقے کے لوگوں نے پھر شکایت کی کہ انھیں گوشت کی بو آ رہی ہے اور پولیس کو بلایا گیا۔

پولیس کے چھاپے میں ایک مرتبہ پھر ان دونوں بھائیوں کے گھر سے انسانی گوشت برآمد ہوا اور ایک بچے کا سر بھی ملا جس پر پولیس نے ایک مرتبہ پھر دونوں بھائیوں کو گرفتار کرلیا تھا۔

Image caption ان دونوں بھائیوں کے رشتے دار ولی دین انھیں آدم خور نہیں سمجھتے

مردہ انسانوں کا گوشت کھانے کے بارے میں قانون نہیں ہے؟

دوسری مرتبہ گرفتاری کے بعد دونوں بھائیوں پر انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا جس میں 4 مختلف دفعات درج کی گئی تھیں۔

تھانہ صدر، دریا خان نے بتایا تھا کہ دونوں بھائیوں کے خلاف 295 اے، 297، 201، 16 ایم پی او اور 7 اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت سرگودھا میں انھیں جون 2014 میں بارہ سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی اور وکلا کے مطابق انھوں جیل کے اندر کل چھ سال گزارنے تھے۔

پاکستان میں انسانی گوشت کھانے کے بارے میں کوئی قانون نہیں ہے اس لیے جب پہلی مرتبہ جب دونوں بھائیوں کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت انھیں قبروں کی بے حرمتی کے جرم میں سزا دی گئی تھی۔

اس قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ تین سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

جب یہ مسئلہ ابھر کر سامنے آیا تھا تو اس وقت قانون سازی کے لیے آواز اٹھائی گئی تھی اور اراکین اسمبلی نے اس وقت ایک بل بھی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

یہ بل اطلاعات کے مطابق قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا تھا جس کے بعد بل سرد خانے کی نذر ہو گیا تھا۔

کیا یہ نفسیاتی مریض ہیں؟

جیل ذرائع کے مطابق دوران قید ان کا رویہ انتہائی مناسب رہا اور ان کے چال چلن سے کوئی ایسا تاثر نہیں ملا کہ یہ لوگ نفسیاتی مریض ہیں۔ انھیں جسمانی بیماریوں کے علاج کی خاطر کچھ عرصہ پہلے ہسپتال بھیجا گیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ ان کا دماغی علاج کروایا گیا لیکن جیل ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں