کورونا وائرس: ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کے خدشات اور مشکلات کیا ہیں؟

پولیس تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کورونا کے باعث تین دن کے لاک ڈاؤن کے دوران لاہور شہر میں جہاں سے بھی گزر ہوا جگہ جگہ پولیس کے ناکے دیکھے اور ان ناکوں پر شہریوں کو پولیس والوں سے بحث کرتے پایا۔ جبکہ پولیس اہلکار زبان کے ساتھ خصوصاً موٹر سائیکل سواروں کو ہاتھ سے بھی پکڑ پکڑ آگے جانے سے روکتے رہے۔ اس وقت خیال آیا کہ ماسک اور دستانوں کے بغیر یہ اہلکار اپنی ڈیوٹی کیسے کر رہے ہیں۔ کیا ان کو کورونا سے خطرہ نہیں ہے؟

اس حوالے سے ایک پولیس اہلکار سے بات ہوئی تو کہنے لگا کہ ’میڈم ڈیوٹی کرتے ہوئے یہ نہیں پتہ ہوتا کس شخص کو کورونا ہے اور کسے نہیں‘ اس لیے ہم معمول اور احکامات کے مطابق ڈیوٹی کر رہے ہیں۔

لندن لاک ڈاؤن میں کیسا لگتا ہے؟

کورونا کے دور میں سیاحت: کیا یہ دنیا گھومنے کا بہترین وقت ہے؟

انسان کو ہینڈ سینیٹائزر بنا دینے پر سعودی کمپنی کی معافی

کورونا: اطالوی نرس جس نے بحرانی صورتحال کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا

کورونا اور پولیس کو تفتیش میں در پیش مسائل

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بیشتر پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ جب سے کورونا وائرس کی وبا پاکستان پہنچی ہے تب سے ہی ہمارے کام میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عموماً تھانوں کے معاملات ساتھ ساتھ چل رہے ہیں لیکن کیسز کے حوالے سے تفتیش اور تحقیق میں رکاوٹ ضرور آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے بتایا کہ کسی بھی کیس کی تفتیش کے لیے پولیس اہلکاروں کو جگہ جگہ جانا ہوتا ہے یا کہیں چھاپہ بھی مارنا پڑتا ہے۔

’اس لیے کسی بھی مقدمے کی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان جائے وقوع کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور کیس میں ملوث مزید لوگوں کے بارے میں بھی بتاتے ہیں جس کے لیے ہمیں وہاں جانا پڑتا ہے۔ لیکن جب سے کورونا وائرس کا مسئلہ پیدا ہوا ہے تب سے ڈر بھی لگتا ہے کہ پتا نہیں جس علاقے میں جا رہے ہیں یا جس شخص سے بات کر رہے ہیں وہ صحت مند ہے بھی یا نہیں۔ کہیں ہم ہی اس بیماری کا شکار نا ہو جائیں۔‘

پولیس حکام کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے پولیس کی جانب سے لگائی جانے والی کھلی کچہری کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ جبکہ پولیس کے دیگر معاملات ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایس ایس پی انوسٹی گیشن ذیشان اصغر کا کہنا تھا کہ ’پولیس معمول کے مطابق اپنا کام کر رہی ہے کیونکہ اگر ہم نے کورونا کے باعث اپنا کام روک دیا تو اس سے مزید مسئلے پیدا ہو جائیں گے۔ اس لیے ہمیں بھی ڈاکٹروں کی طرح مسلسل اپنا کام کرنا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان غیر معمولی حالات میں خصوصاً جب سے کورونا کے باعث لاک ڈاؤن کیا گیا ہے، تب سے جرائم میں بھی کمی آئی ہے۔ اور اس بات کا تعین ہم ایسے کرتے ہیں کہ اس دوران درج ہونے والے مقدمات اور پولیس ریسکیو سروس ون فائیو پر موصول ہونے والی کالز میں خاصی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

تاہم، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کورونا کے باعث لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کے لیے پولیس فورس، رینجرز اور فوج کے گشت اور ناکوں میں اضافے ہوا ہے جس سے جرائم میں بھی کمی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انھوں نے بتایا کہ کورونا کے باعث ہم نے خود بھی کام تھوڑا آہستہ کیا ہے لیکن اس کے علاوہ عوام میں بھی یہ شعور پیدا ہو رہا ہے کہ کورونا ایک وبا ہے اور اس لیے وہ بھی ہمارے پاس آنے سے یا گھر سے نکلنے سے کترا رہے ہیں۔

پہلے ہر شخص چھوٹے سے چھوٹے مسئلے کے حل کے لیے تھانے پہنچ جاتا تھا۔ اب لوگ اپنے معمولی جھگڑوں جیسے کہ لین دین کے معاملات کو خود ہی حل کر رہے ہیں لیکن اگر کسی کا قتل یا کوئی بڑا مسئلہ ہے تو ہم ایسا ہرگز نہیں کر سکتے کہ اس معاملے کی پیروی نہ کریں۔

زیادہ گرفتاریوں سے کورونا پھیلنے کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایس ایس پی انوسٹی گیشن ذیشان اصغر کا کہنا تھا کہ حکومت کہ ہدایات کے مطابق ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھیں اور کورونا وائرس سے ڈرنے کے بجائے لوگوں کو باہر نکلنے سے روکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے پولیس اہلکاروں کو بھی اس وائرس سے خطرہ ہے لیکن ہم نے اپنے عملے کو ماسک، دستانے اور سینٹائزر دیے ہیں تاکہ وہ ان کا استعمال کر کے کورونا وائرس سے بچ سکیں۔

تاہم جو لوگ لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے کے بعد گرفتار کیے گئے ہیں، انھیں پکڑنے کا مقصد صرف انھیں وارننگ دینا ہے تاکہ وہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق گھروں میں بیٹھیں۔ اگر ہم زیادہ لوگوں کو پکڑ کر تھانوں میں رکھیں گیں تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی ایک بیمار شخص باقی قیدیوں کی بیماری کا سبب بن جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس کے علاوہ اگر کسی شخص کا جرم اس نوعیت کا ہے کہ اس کے خلاف قانونی کاروائی ہونی چاہیے تو اسے ہم عدالت میں پیش کر رہے ہیں اور عدالت کی طرف سے انھیں قانون کے مطابق ہی سزا دی جا رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت چھوٹی موٹی خلاف ورزی کرنے والوں کو ہم خود گرفتار کر کے جیلوں میں رکھنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ زیادہ لوگ جیل میں رہیں اور کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ بڑھ جائے۔ اس کے علاوہ ہم نے قیدیوں کو بھی یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ بار بار صابن سے اپنے ہاتھ دھوئیں۔‘

تاہم ہم نے غیر ضروری لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا ہے لیکن اگر کوئی جرم ہو رہا ہے تو اس کو دیکھنا ہماری ڈیوٹی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص ہمارے پاس اپنی شکایت لے کر آتا ہے تو ہم اسے کیسے روک سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں