خیبر پختونخوا میں کورونا کی وجہ سے اموات کی شرح زیادہ کیوں ہے؟

  • عزیزالله خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پشاور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے سرکاری اعداد و شمار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں اس وائرس سے اموات کی شرح 1.4 فیصد کے قریب ہے لیکن خیبر پختونخوا میں شرحِ اموات ساڑھے تین فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں اس وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کرنے کی شرح پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل حقائق جاننے کے لیے مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کرنا ضروری ہے۔

پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس وائرس کے شبہے میں آئے مریضوں کے ٹیسٹ کرنے کی شرح بھی مختلف ہے جبکہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد، اس وائرس سے اموات اور صحت یابی کی شرح بھی مختلف سامنے آئی ہے۔

پاکستان میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟

پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل آٹھ کی دوپہر تک ملک میں تصدیق شدہ متاثرین کی کُل تعداد 4072 ہے۔

ملک میں اب تک ان چار ہزار متاثرین میں سے 467 لوگ صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 58 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یعنی مجموعی طور پر 11.47 فیصد لوگ صحت یاب ہو چکے ہیں اور 1.42 فیصد لوگ انتقال کر چکے ہیں۔

اگرچہ دنیا کے بیشتر ممالک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اور اموات کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور ماہرین کے مطابق اگر پاکستان میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو حالات انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔

پاکستان کی آبادی بائیس کروڑ سے زیادہ ہے اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس ملک میں اب تک کل 46289 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا: شرح امواتِ میں آگے

اگرچہ خیبر پختونخوا میں صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی نسبت اس وائرس سے مصدقہ متاثر ہونے والے افراد کی تعداد کافی کم ہے لیکن اس صوبے میں فوت ہونے والے افراد کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

خیبر پختونخوا میں کل متاثرہ افراد کی تعداد 527 ہے جبکہ انتقال کرنے والے افراد کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے۔ اس حساب سے اموات کی شرح 3.4 فیصد بنتی ہے۔

اسی طرح اس صوبے میں صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 70 ہے اور اس حساب سے یہ شرح 13.3 بنتی ہے۔

ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں کم ٹیسٹ کرنے کی وجہ سے متاثرہ افراد کی حقیقی تعداد سامنے نہیں آ رہی۔

اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں وائرس زیادہ پھیلا بھی ہے اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں اس وائرس سے متاثرہ یا اس وائرس سے متاثر ہونے کے شبہے میں مریض سامنے آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حکومت کیا کہتی ہے؟

صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد صوبوں کی آبادی کے مطابق سامنے آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کیسز کو دیکھا جائے تو ان کیسز کی نشاندہی بالکل آبادی کے مطابق ہے۔

تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ فوتگی کے اعداد و شمار تقریباً حقیقی ہوتے ہیں، تو شرح اموات سے حقیقی کیسز کا علم ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا میں اموات کی شرح واقعات کے تناسب سے ایک فیصد یا اس کے لگ بھگ ہی ہوتا ہے۔

تییمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبے میں ایک دن میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت 300 تک ہے جبکہ دو ہفتوں کے اندر یہ صلاحیت بڑھا کر روزانہ 1000 ٹیسٹ تک کر دی جائے گی۔

انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ جب سے کورونا وائرس کے مریض سامنے آنا شروع ہوئے ہیں، خیبر پختونخوا میں بیرون ممالک سے بڑی تعداد میں وہ لوگ واپس آئے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

پنجاب میں کیا ہو رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کے اعداد و شمار کا حقیقی ہونا قدرے مشکل ہے اور صوبہ پنجاب میں آبادی کے تناسب سے مصدقہ متاثرہ افراد کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔

صوبہ پنجاب میں کل مصدقہ مریضوں کی تعداد 2030 ہے جس میں اموات 16 اور صحت یابی 34 ہے۔ صوبہ پنجاب کے بارے میں یہ اطلاع ہے کہ اس صوبے میں سب سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے جس وجہ سے یہاں مصدقہ مریضوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ آئی ہے۔

صوبہ پنجاب میں اموات کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ پنجاب میں صحت یابی کی شرح 1.7 فیصد کے قریب ہے۔

باقی صوبوں کی نسبت پنجاب میں ٹیسٹ کرنے کی تعداد سب سے زیادہ بتائی گئی ہے جو 29158 بتائی گئی ہے۔

یہاں ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ صوبہ پنجاب میں متاثرہ افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے لیکن اس بارے میں واضح موقف سامنے نہیں آرہا۔

اس بارے میں صوبائی وزیر صحت سے معلومات حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن ادھر سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

بلوچستان میں سب سے کم اموات

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبہ بلوچستان میں اب تک 206 متاثرہ افراد میں سے صرف دو کی اموات ہوئی ہیں۔

صحت یاب افراد کی تعداد 75 بتائی گئی ہے جو کہ کسی بھی صوبے میں صحت یاب ہونے والوں کی سب سے بہتر شرح ہے۔

صوبہ بلوچستان رقبے کے حساب سے سب بڑا صوبہ ہے لیکن پاکستان کا سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ ہے۔

اس صوبے میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے اور لوگوں کو معمولی امراض کے لیے بھی دور دراز علاقوں میں علاج کے لیے جانا پڑتا ہے۔

بلوچستان میں کیے گئے ٹیسٹ کی تعداد تقریباً تین ہزار ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں تقریباً پونے تین گنا زیادہ آبادی ہونے کے باوجود 2655 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقی صورتحال جاننے کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرنا ضروری ہیں۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ اگرچہ صوبے میں ٹیسٹ کٹس کی کمی ہے تاہم پھر بھی اس وقت بلوچستان میں روزانہ اوسطاً ڈیڑھ سو سے دو سے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔

کیا صوبہ سندھ کی کارکردگی بہتر رہی ہے؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

صوبہ سندھ کے بارے میں بظاہر یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ صوبائی حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سب سے پہلے منظم اقدامات شروع کر دیے تھے اور وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

صوبہ سندھ کے بارے میں بھی رائے یہی ہے کہ یہاں حقیقی تعداد سامنے نہیں آ رہی۔ صوبہ سندھ میں 9589 ٹیسٹ کرائے گئے ہیں اور یہ صوبہ پنجاب کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ٹیسٹ کرنے کی تعداد ہے۔

صوبہ سندھ میں کل مصدقہ مریضوں کی تعداد 986 ہے جس میں اموات کی تعداد 18 ہے جبکہ 269 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔

ملک بھر میں سامنے آنے والے کیسز میں سندھ کی شرح تقریباً 24 فیصد ہے اور سندھ کا ملک کی کل آبادی میں حصہ بھی لگ بھگ 22 فیصد ہے۔

صوبہ سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ کہتے ہیں کہ ان کی کوشش ہے کہ روزانہ 5000 ٹیسٹ کرائے جائیں اور وہ اس کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

کچھ روز قبل انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم نے سندھ میں نو ہزار سے کم ٹیسٹ کیے ہیں جبکہ سندھ کی آبادی پانچ کروڑ ہے، اگر ہم نو ہزار کی جگہ 90 ہزار ٹیسٹ کرتے تو اس کی گنجائش ہمارے پاس نہیں تھی۔ ہم نے جب کورونا ٹیسٹ کا آغاز کیا تھا تو پہلے دن گنجائش 80 ٹیسٹ یومیہ تھی اب یہ 2200 ٹیسٹ یومیہ تک پہنچ چکی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ 'ہماری کوشش ہے کہ پانچ ہزار کا ٹارگٹ جلد حاصل کریں۔ اگر ہمارے پاس ایک لاکھ ٹیسٹوں کے نتائج ہوتے تو ہم بہتر انداز میں اعداد و شمار بتا سکتے تھے۔'