کورونا وائرس: خیبر پختونخوا میں شامل نئے اضلاع میں انٹرنیٹ کی بندش سے طلبا کو مشکلات کا سامنا

  • خدائے نور ناصر
  • بی بی سی، اسلام آباد
فاٹا قبائلی اضلاع

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

خیبرپختونخوا میں شامل ان نئے اضلاع میں مختلف ادوار میں انٹرنیٹ سروس سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کردی گئی تاہم یہ کبھی نہیں بتایا گیا کہ انٹرنیٹ سروس سے کس طرح کے سکیورٹی مسائل پیش آ سکتے ہیں

کوویڈ 19 کی وبا کے بعد دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اکثر تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسز کا آغاز کیا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں شامل نئے اضلاع میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث وہاں کے باسی انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے کئی مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔

ان اضلاع سے تعلق رکھنے والے طالب علم تب تک تعلیمی سرگرمیوں سے دور رہیں گےِ جب تک وہاں انٹرنیٹ دوبارہ بحال نہیں کیا جاتا۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی بشریٰ محسود ہزارہ یونیورسٹی میں ایم فل کررہی ہیں لیکن کورونا اور لاک ڈاون کے باعث وہ اس لیے جنوبی وزیرستان میں اپنے گاوں نہیں جا سکتیں کیونکہ وہاں انٹرنیٹ نہ هونے کی وجہ سے وہ اپنی کلاسز نہیں لے سکیں گی۔

وہ کہتی ہیں ’انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف ہمارے طالب علم کلاسز سے محروم ہیں بلکہ اس دوران ہم کسی ملازمت کے لیے بھی درخواست نہیں کرسکتے۔‘

یہ بھی پڑھیے

بشریٰ محسود کے مطابق انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لوگ سوشل میڈیا پر کورونا وبا کی احتیاطی تدابیر تک رسائی سے بھی محروم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ان اضلاع سے تعلق رکھنے والے طالبعلم تب تک تعلیمی سرگرمیوں سے دور رہیں گےِ جب تک انٹرنیٹ دوبارہ بحال نہیں کیا جاتا

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

سابقہ فاٹا کے سات اضلاع میں سے صرف باجوڑ میں ایک مخصوص جگہ انٹرنیٹ کے سگنل آتے ہیں جبکہ باقی تمام نئے ضلعوں میں تھری جی اور فورجی سگنل بند ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے نو مارچ کو ضلع مہمند میں جلسے سے خطاب میں وفاقی وزیر مراد سعید کو یہ ٹاسک دیا تھا کہ وہ انٹرنیٹ کا مسئلہ حل کریں لیکن ان اضلاع کے باسیوں کے مطابق ان کے ساتھ کیے گئے دیگر وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی ابھی تک پورا نہیں ہوسکا۔

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے ارشد آفریدی پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے نئے اضلاع میں انٹرنیٹ کی بحالی سمیت وفاقی حکومت سے دیگر وعدوں کی تکمیل بھی چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’ریفارمز میں ہمارے ساتھ بہت سارے وعدے کیے گئے تھے لیکن ان میں کسی بھی وعدے کی تکمیل ابھی تک نہیں ہوئی تو ہم مرکز اور وزیراعظم عمران خان سے ان وعدوں کی تکمیل چاہتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں شامل ان نئے اضلاع میں مختلف ادوار میں انٹرنیٹ سروس سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کردی گئی تاہم یہ کبھی نہیں بتایا گیا کہ انٹرنیٹ سروس سے کس طرح کے سکیورٹی مسائل پیش آ سکتے ہیں۔

نئے ضم شدہ ضلع کرم کی طالبہ نائلہ الطاف کہتی ہیں ’ہمارے علاقے میں موبائل سگنلز صحیح کام نہیں کررہے ہیں تو انٹرنیٹ سگنلز تو دور کی بات ہے۔‘

بی بی سی نے جب صوبے کے نئے اضلاع میں انٹرنیٹ سروس کی دوبارہ بحالی کے سلسلے میں خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان اجمل وزیر سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ جمعرات کو ایک اہم اجلاس میں اس پر بات ہو گی۔