پاکستان میں چینی اور گندم بحران: قومی احتساب بیورو کا تحقیقات کرنے کا اعلان

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آٹا چینی بحران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

قومی احتساب بیورو نے ملک میں چینی اور گندم کے بحران کے بارے میں تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں تمام قانونی پہلووں کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس بات کا فیصلہ منگل کے روز چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں ہونے والے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل وفاقی تحققیاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم نے ان دونوں معاملات پر تحقیقات کر کے رپورٹ رواں مہینے وزیراعظم کو پیش کی۔

وزیراعظم عمران خان نے اس معاملے کا فرنزک آڈٹ بھی کروانے کا حکم دیا ہے جس کی رپورٹ 25 اپریل تک وزیراعظم کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چینی کے بحران کے معاملے پر ایف ائی اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چینی برآمد کرنے کے حوالے سے پنجاب حکومت نے جن شوگر ملز مالکان کو سبسڈی دی ان میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور خسرو بختار شامل ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق جہانگر ترین کو55 کروڑ جبکہ خسرو بختیار کی شوگر ملز کو 33 کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہ@JahangirKTareen/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق جہانگر ترین کو 55 کروڑ جبکہ خسرو بختیار کی شوگر ملز کو 33 کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی دی گئی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس رپورٹ کے منظر عام ہونے کا الزام جہانگر ترین نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے اور اعظم خان کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے اختلافات چلے آ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گندم اور چینی کے بحران کی تحقیقات کے حوالے سے 20 اپریل کو مقامی میڈیا میں نیب ذرائع سے خبریں نشر کروائی گئی تھیں۔

نیب کے ایگزیکٹیو بورڈ کی جانب سے چینی اور گندم کے بحران پر تحقیقات کروانے کے فیصلے سے متعلق نیب کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ نیب کے پاس کسی بھی معاملے کا از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں اور نیب صرف اسی صورت میں کام کر سکتا ہے جب اُنھیں حکومت یا کسی آدمی کی طرف سے کوئی درخواست موصول ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے چینی اور گندم کے بحران کے بارے میں کارروائی نہ کرنے کے بارے میں تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد اس طرح کا بیان مقامی میڈیا پر نشر کروایا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ابھی تک نیب کے حکام نے ان معاملات کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم کے ساتھ نہ کوئی رابطہ کیا ہے اور نہ ہی اُنھیں اس بارے میں تحقیقاتی مواد دینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن نے گندم اور چینی کے بحران کے بارے میں تحقیقات کے حوالے سے اپنا جواب ایف آئی اے کو جمع کروا دیا ہے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ چینی برآمد کرنے کی اجازت وفاقی حکومت نے دی تھی اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی طرف سے لگائے گئے مختلف ٹیکسوں کی مد میں کیا گیا۔

،تصویر کا کیپشن

قومی احتساب بیورو نے ملک میں چینی اور گندم کے بحران کے بارے میں تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں تمام قانونی پہلووں کا جائزہ لیا جائے گا

صوبہ پنجاب کے سابق سیکرٹری خوراک نسیم صادق جنھیں گندم کی برآمد کی رپورٹ کے بعد او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے، نے پنجاب کے چیف سیکرٹری کو خط لکھا ہے جس میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیش بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔

نیب کے اہلکار نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ ذرائع سے چلنے والی خبر دراصل حکومت پر اس آرڈیننس میں توسیع نہ کرنے کی ایک کوشش ہے جس میں چیئرمین نیب کے اختیارات کم کر دیے گیے تھے اور اس صدارتی آرڈیننس کی مدت ایک ہفتے میں حتم ہو جائے گی۔

وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ حکومت اس اّرڈیننس پر حزب مخالف کی جماعتوں کے ساتھ ملکر قانون سازی کرے گی۔

نیب کے سابق پراسیکوٹر جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ گندم اور چینی کو برآمد کرنا چونکہ اقتصادی معاملات ہیں اس لیے نیب کے پاس اس بارے میں تحقیقات کرنے کا اختیار نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ نیب کو اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے نا کہ ایسے معاملات میں الجھے جس کے بارے میں ایک تحقیقاتی ادارہ پہلے سے ہی تفتیش کر رہا ہو۔

تجزیہ نگار طلعت حسین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ چینی اور گندم کے بحران کے ذمہ داروں کو واقعی سزا دی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ بااثر حلقوں کی جانب سے وزیراعظم کو یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ گندم اور چینی کے بحران کا معاملے پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائئ کرنے کے لیے نیب ہی موزوں ادارہ ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ گزشتہ روز وزیراعظم اور ڈی جی آئی ایس آئی کی ملاقات کے بارے میں طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں گندم اور چینی کے بحران زیر بحث آنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ آنے والے چند روز بڑے اہم ہیں جو اس بات کا تعین کریں گے کہ وزیراعظم ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرواتے ہیں یا پھر قانون میں موجود سقم کا سہارا لیکر اپنے دوستوں کو بچاتے ہیں۔