رمضان اور کورونا وائرس: کووڈ 19 کی وبا کے زمانے میں پاکستان میں رمضان مختلف کیسے ہو گا؟

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی افطار

،تصویر کا ذریعہAFP

ماہ رمضان جہاں مسلمانوں کے لیے عبادت اور پرہیزگاری کا مہینہ ہے وہیں دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس سے کئی تجارتی، سماجی اور تفریحی سرگرمیاں وابستہ ہیں تاہم رواں سال کورونا وائرس کی وبا نے ان تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے۔

چونکہ کورونا وائرس کا علاج ابھی دریافت نہیں ہو سکا ہے تو ماہرین کے خیال میں اس سے بچاؤ کا بہترین طریقہ سماجی دوری یا تنہائی اختیار کرنا ہے۔ ان اقدامات کا اثر پاکستان میں بھی رمضان کی روایتی تیاریوں اور اجتماعات پر پڑا ہے۔

تراویح اور باجماعت نماز

ماہ رمضان کے دوران دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی مساجد میں نمازیوں کی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور لوگ عبادت کے لیے زیادہ وقت مساجد میں گزارتے ہیں۔

ہر برس رمضان میں تراویح کے بھی خصوصی انتظام کیے جاتے ہیں اور چھوٹی بڑی مساجد میں پورا مہینہ تراویح کی نماز ادا کی جاتی ہے۔

یہی نہیں بلکہ خصوصی اجتماعات میں ایک ہفتے سے لے کر پندرہ روز میں مکمل قرآن بھی پڑھا جاتا ہے۔

بعض مقامات پر یہ اجتماعات شدی ہالز میں بھی ہوتے ہیں جن میں مشہور قاری حضرات اور علما کرام کو خصوصی طور پر طلب کیا جاتا ہے۔

رواں برس حکومت اور علما کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت اگرچہ رمضان میں تراویح اور باجماعت نماز کی ادائیگی کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں کچھ شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور ایران سمیت دنیا کے بیشتر مسلم ممالک میں رواں برس رمضان میں مساجد میں نمازِ تراویح کی ادائیگی نہیں ہو رہی تاہم پاکستان میں ایسا ہو رہا ہے۔

پاکستان سے ہر برس مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد عبادت کے لیے سعودی عرب میں واقع مسلمانوں کے مقدس مقامات مکہ اور مدینہ کا بھی رخ کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہABDEL GHANI BASHIR

،تصویر کا کیپشن

خانہ کعبہ آنے والے معترمین کی تعداد میں نمایاں کمی ہو گئی ہے

ان شرائط کے تحت معمر افراد اور بچوں کو مسجد جانے کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ مسجد میں بھی نمازی صف میں ایک دوسرے سے دو میٹر کی دوری پر کھڑے ہوں گے۔ انھیں ایک دوسرے سے مصافحہ یا معانقہ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور وضو بھی گھر سے کر کے آنا ہو گا۔

وزیراعظم عمران خان متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر حکومتی ہدایات پر عمل نہیں ہوتا اور رمضان میں وائرس پھیلتا ہے تو حکومت مساجد بند بھی کر سکتی ہے۔

ہر برس رمضان کے آخری عشرے میں یہ تعداد معمول سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ فضائی کمپنیوں کے علاوہ ٹریول ایجنٹس اور مختلف عمرہ گروپس ماہ رمضان میں خصوصی پیکیج پیش کرتے ہیں لیکن رواں رمضان میں ایسا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ سعودی حکومت نے عمرے کی ادائیگی پر بھی عارضی پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

بچت بازار

کراچی سے لے کر پشاور تک پاکستان میں ماہ رمضان کے آغاز سے ایک ہفتہ قبل ہی رمضان بچت بازار لگا دیے جاتے تھے۔

ان بازاروں کے لیے مقامی میونسپل اور ضلعی انتظامیہ خصوصی اجازت نامے جاری کرتی ہیں اور یہاں آٹا، چاول، دالوں اور مرچ مسالوں سے لے کر گوشت، سبزیاں اور پھل رعایتی نرخوں پر دستیاب ہوتے ہیں۔

سستی چیزوں کی دستیابی کی وجہ سے عوام کی بڑی تعداد ان بازاروں کا رخ کرتی ہے تاہم اس برس وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ایسے بازار نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

افطار کے لوازمات کی فروخت کے لیے ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں جگہ جگہ عارضی سٹال لگائے جاتے ہیں

حکومت ان بازاروں میں دی جانے والی سبسڈی عوام کو دینے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہے لیکن اس کا طریقۂ کار طے ہونا باقی ہے۔

رمضان سٹال

افطار کے لوازمات کی فروخت کے لیے ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں جگہ جگہ عارضی سٹال لگائے جاتے ہیں جن پر پکوڑے، سموسے، دہی بڑے، چاٹ، شربت اور کھانے پینے کی دیگر اشیا فروخت کی جاتی ہیں۔

اشیائے خوردونوش کی مشہور دکانوں پر عوام کے رش اور زیادہ قیمت کی وجہ سے متوسط اور غریب طبقہ رمضان میں ان سٹالز کا ہی رخ کرتا ہے جہاں سہ پہر سے مغرب کی اذان تک فروخت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

یہ سٹال کئی ایسے لوگوں کو روزگار کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں جن کے پاس مستقل کام نہیں لیکن موجودہ صورتحال میں انتظامیہ اس قسم کے سٹالز لگانے کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کھلی سڑکوں اور گلی میں کورونا سے بچاؤ کے لیے مقررہ ایس او پیز پر عملدرآمد کرانا ممکن نہیں۔

رمضان دسترخوان

متوسط طبقہ تو رمضان کے خصوصی سٹالز سے سامان خریدتا ہے لیکن پاکستان میں غربا کی ایک بہت بڑی تعداد افطار کے لیے ان رمضان دسترخوانوں کا رخ کرتی ہے جو اجتماعی افطار کے لیے لگائے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

رواں سال اجتماعی افطار کا اہتمام بھی ممکن نہیں کیونکہ حکومت نے سماجی فاصلہ رکھنے کے لیے پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں

یہ دسترخوان کراچی، اسلام آباد اور لاہور سمیت کئی بڑے شہروں میں سڑک کنارے لگائے جاتے ہیں اور سیلانی، ایدھی فاؤنڈیشن، بحریہ اور جعفریہ ڈیزاسٹر سیل سمیت کئی فلاحی تنظیموں کے علاوہ مخیر حضرات اجتماعی یا انفرادی طور پر ان کا اہتمام کرتے ہیں۔

رواں سال ان دسترخوانوں کا اہتمام بھی ممکن نہیں کیونکہ حکومت نے سماجی فاصلہ رکھنے کے لیے پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔

سیلانی ویلفیئر کے ترجمان کے مطابق اس صورتحال میں راشن کے بیگ میں افطاری کا سامان شامل کر دیا گیا ہے جو مستحقین میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔

ان دسترخوانوں کے علاوہ محلے کی چھوٹی مسجد ہو یا جامع مساجد، ہر مسجد میں روزے داروں کے لیے افطاری کا بندوست ہوتا ہے تاہم حکومت اور علما کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں یہ اتفاق کیا گیا ہے رواں برس مساجد میں افطاری کا بندوبست نہیں کیا جائے گا۔

افطار کی خصوصی آفر

ہر برس رمضان کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان میں ہوٹلوں اور ریستورانوں میں روزہ داروں کے لیے سحر اور افطار کے خصوصی پیکیج پیش کرنے کا رواج بھی خاصا زور پکڑ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

روایتی کھانوں کے علاوہ فاسٹ فوڈ جیسے کہ برگر اور پیزا فروخت کرنے والے مراکز بھی رمضان میں صارفین کے لیے خصوصی پیشکش لاتے ہیں جن میں قیمتوں میں رعایت دی جاتی ہے۔

یہ ہوٹل اور فوڈ سینٹر رمضان میں دن بھر بند رہتے ہیں اور افطار سے لے کر سحری تک ان پر کھانا دستیاب ہوتا ہے۔

رمضان کے مہینے میں ہر برس لوگوں کی بڑی تعداد ان مقامات پر کھانا کھاتے دکھائی دیتی ہے لیکن کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات کے تحت ملک میں ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کھانا کھانے پر پابندی عائد ہے۔

اس صورتحال میں حکام نے ہوٹلوں اور ریستورانوں کو صرف ڈیلیوری اور ٹیک اوے کی سہولت فراہم کرنے کی اجازت دی ہے اور یہ بھی اس محدود وقت کے لیے ہے جب لاک ڈاؤن میں نرمی ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اس برس رمضان میں کراچی کی گلیوں اور میدانوں میں کرکٹ ٹورنامنٹس کا انعقاد بھی ممکن نظر نہیں آ رہا

سیاسی و غیر سیاسی افطار پارٹیاں

ایوانِ اقتدار ہو یا کوئی کاروبار رمضان کا مہینہ اپنے ساتھ افطار پارٹیوں کا موسم لے کر آتا ہے۔

یہ افطار پارٹیاں سماجی اور سیاسی میل جول کا موقع فراہم کرتی ہیں اور ان دعوتوں میں آپ کو سیاست دان ہوں یا کاروباری حضرات، اداکار ہوں یا کھلاڑی یا پھر سماجی شخصیات اور صحافی سبھی دکھائی دیتے ہیں۔

رمضان میں سیاسی خبروں کا سب سے اہم ذریعہ یہ ہی افطار پارٹیاں ہی ہوتی ہیں جن میں رمضان کے بعد کی حکمت عملی کا بھی پتہ چلتا ہے۔

تاہم سماجی فاصلے کے احکامات کے تحت ملک میں تمام سیاسی و سماجی اجتماعات پر بھی پابندی عائد ہے سو اس برس افطار بھی گھر پر ہی ہو گا۔

نائٹ کرکٹ

سماجی سرگرمیوں کی بات کی جائے تو رمضان میں مصنوعی روشنیوں میں کرکٹ میچ پاکستان کے شہروں کی روایت بن گئے ہیں۔

کراچی ہو یا لاہور یا کوئی اور شہر رمضان کی راتوں میں ہر محلے میں نائٹ کرکٹ کھیلی جاتی ہے اور کئی مقامات پر نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ بھی منعقد ہوتے ہیں۔

گلیوں میں نوجوان روشنی کا انتظام کرتے ہیں اور تراویح کے بعد سڑک پچ بن جاتی ہے اور یہ میچ علی الصبح تک جاری رہتے ہیں۔

ان میچوں میں جہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد حصہ لیتی ہے وہیں یہ بچوں اور بزرگوں کے لیے تفریح کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

کورونا کی وبا کی وجہ سے رواں برس حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایسی سماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے جن میں لوگوں کے میل جول کا امکان ہو۔

اسی وجہ سے رواں برس رمضان میں نائٹ کرکٹ میچوں کا انعقاد ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔

،تصویر کا کیپشن

رواں برس کورونا کی وجہ سے ایسے تمام پروگراموں کے انعقاد کا امکان نہیں جن میں عوام شرکت کرتے ہوں

گیم شو اور نیلام گھر

رمضان کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان میں ٹی وی چینلز پر خصوصی نشریات کا اہتمام کیا جاتا ہے اور افطار کے بعد پیش کیے جانے والے کوئز اور گیم شو اور نیلام گھر عوام میں خاصے مقبول ہیں۔

ان پروگراموں کے لیے خصوصی سیٹ بنائے جاتے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد ان میں شرکت کرتی ہے جبکہ پروگرام کے مختلف حصوں میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے اہم شخصیات کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔

یہی نہیں ان پروگراموں میں شرکت کرنے والوں کے لیے برقی آلات سے لے کر سونے اور گاڑیوں تک کے انعامات بھی رکھے جاتے ہیں۔

رواں برس کورونا کی وجہ سے ایسے تمام پروگراموں کے انعقاد کا امکان نہیں جن میں عوام شرکت کرتے ہوں کیونکہ ان اجتماعات میں سماجی دوری برقرار رکھنا بہت ہی مشکل ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ ٹی وی چینل اس کا کیا حل نکالتے ہیں کیونکہ رمضان کو ٹی وی چینلز کی آمدن کے لحاظ سے سال کے منافع بخش ترین مہینوں میں شمار کیا جاتا ہے۔