سہیل وڑائچ کا کالم: جنرل عاصم باجوہ سیاسی ہو گئے؟

  • سہیل وڑائچ
  • صحافی و تجزیہ کار
عاصم سلیم باجوہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

عاصم سلیم باجوہ جنرل (ر) پرویز مشرف، جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی اور پھر جنرل (ر) راحیل شریف کے نہایت قریب سمجھے جاتے تھے

رحیم یار خان کے جاٹ کاشت کار گھرانے میں پیدا ہونے والے عاصم سلیم باجوہ کی زندگی کا بیشتر حصہ تو فن سپہ گری میں گزر گیا۔ فوجی ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے تو سٹریٹیجک انتظامی عہدے سی پیک کے چیئرمین ہو گئے، اب وہ وزیر اعظم کے مشیر برائے اطلاعات بھی مقرر ہو چکے یوں زندگی میں پہلی بار وہ خالص سیاسی عہدے پر کام کریں گے۔

فوج اور سیاست کے نظام کار میں اس قدر فرق اور تضاد ہے کہ فوج سے سیاست کے میدان میں آنے والے ذہین ترین جنرل اعظم خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل حمید گل بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

اسی اندیشے کے پیش نظر میں نے جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے سوال کیا کہ کیا سیاسی عہدہ لینے کا مطلب سیاست میں آنا سمجھا جائے تو انھوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ انھوں نے یہ عہدہ بغیر تنخواہ اور مراعات کے اعزازی طور پر لیا ہے اور باوجود پیشکش کے انھوں نے مشیر کے عہدے کو وزیر کے برابر کا نوٹیفیکیشن بھی نہیں کروایا۔

سہیل وڑائچ کے مزید کالم بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کا کہنا تھا کہ وہ وزارت اطلاعات کو 21 ویں صدی کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس حوالے سے پہلے سے تجربہ رکھتے ہیں اس لے انھیں امید ہے کہ وہ میڈیا اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کریں گے اور ساتھ ہی ساتھ میڈیا کے معاشی زوال کو روک کر اسے کھڑا کرنے کی کوشش کریں گے۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ فوج کے ترجمان رہے، سدرن کمانڈ کے کور کمانڈر رہے اور اس سے پہلے صدر مشرف کے اے ڈی سی بھی رہے۔ انھوں نے تینوں مختلف النوع کردار انتہائی خوش اسلوبی سے نبھائے۔

ان کی شخصیت کی ہمہ رنگی دیکھیے کہ چار مختلف مزاج فوجی سربراہوں جنرل مشرف، جنرل کیانی ، جنرل راحیل شریف اور جنرل باجوہ کے ساتھ انھوں نے کام کیا اور ہر ایک کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ قریب رہے۔

کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی اسائنمنٹ کے اندر گھس کر اس قدر محنت کرتے ہیں کہ بالآخر کامیاب ہو جاتے ہیں۔

جنرل عاصم کے والد سعید باجوہ پراسرار طور پر قتل کر دیے گئے تھے۔ اس ذاتی المیے کو انھوں نے اپنے اندر ایسا سمویا کہ کرئیر میں ایک کے بعد دوسری فتح حاصل کرتے گئے مگر انھیں مسئلہ یہ درپیش ہو گا کہ فوجی عہدہ میں ذاتی محنت کرنے والے کو ادارے کی پشت پناہی ملتی ہے جبکہ سیاست میں جو زیادہ کام کرتا ہے اس کے خلاف سازشیں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

جہاں آئی ایس پی آر کو یکسر تبدیل کرنے کا سہرا جنرل (ر) عاصم باجوہ کے سر ہے وہیں ان پر میڈیا کنٹرول کے الزامات بھی سامنے آئے جن کی ادارے کی جانب سے ہمیشہ تردید کی گئی

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

دیکھنا یہ ہو گا کہ وہ اس حوالے سے کام اور سازش دونوں محازوں پر کس حد تک کامیابی سے لڑ سکیں گے۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ سی پیک کے غیر متنازعہ اور بڑے عہدے پر متمکن ہونے کے باوجود اس سیاسی ذمہ داری کو اٹھانے کے لیے کیوں تیار ہوئے؟

میری ذاتی رائے میں انھیں رضا مند کرنے میں عمران خان کی ذاتی کاوش سب سے زیادہ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان انتہاؤں کے آدمی ہیں یا کسی کے زبردست مداح ہیں یا زبردست مخالف یا کوئی فرشتہ ہے یا کالا چور۔ ان کے ہاں صرف دو رنگ ہیں کالا یا سفید۔ سرمئی رنگ کو وہ پسند نہیں کرتے ہیں۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ کی میڈیا مینجمنٹ کے وہ زبردست مداح تھے۔ دوسری طرف اپنی میڈیا ٹیم سے وہ بالکل غیر مطمئن تھے۔

جنرل عاصم باجوہ سے ملاقاتوں میں میڈیا ہینڈلنگ اور جدید دور کے تقاضوں پر گفتگو ہوئی ہو گی۔ جنرل عاصم سلیم باجوہ جو گڑ سے مر جائے اسے زہر دینے کے قائل نہیں۔ ہوسکتا ہے انھوں نے یہ فلسفہ پیش کیا ہو اور خان اعظم کو یہ سمجھ بھی آ گیا ہو۔

جنرل (ر) باجوہ نے یہ ذمہ داری مشروط طور پرقبول کی۔ ایک تو یہ کہ وہ سی پیک چیئرمین کا عہدہ اور ورکنگ جاری رکھیں گے۔ سیاسی کام وزیر اطلاعات شبلی فراز کریں گے جبکہ جنرل عاصم سلیم باجوہ پس منظر میں رہ کر وزارت اطلاعات کی ری ماڈلنگ کریں گے۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ فٹ ہیں، جوان ہیں سی پیک کی ذمہ داری کے باوجود ان کے پاس توانائی اور صلاحیت کا اتنا خزانہ ہے کہ وہ آئی ایس پی آر سے حاصل کردہ اپنے تجربے کو وزارت اطلاعات کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

توقع یہی ہے کہ وہ اپنی تقرری کے ہنی مون پیریڈ ہی میں میڈیا کے بقایا جات ادا کر کے اپنے لیے خیر سگالی کی فضا پیدا کر لیں گے۔

جنرل عاصم باجوہ ’کر گزرنے والے‘ مشہور ہیں مگر جس مشین کا وہ پرزہ بنے ہیں وہ ساری کی ساری جامد اور بند پڑی ہے۔ ایک پرزہ بہت محنت بھی کرے تو مشین کو چلا نہیں سکتا۔

ایک دو ماہ میں جنرل عاصم باجوہ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اصل خرابی مشین میں ہے جو کسی پرزے کو چلنے نہیں دے رہی۔ اسی لیے کئی مشیر اور وزیر بدلے گئے، کئی آئی جی اور چیف سیکرٹری تبدیل ہوئے لیکن گورننس بہتر نہیں ہو سکی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسرا بڑا مسئلہ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے لیے یہ ہو گا کہ انھوں نے ساری زندگی فوج جیسے ڈسپلنڈ ادارے میں نوکری کی ہے جہاں آرڈر دیں تو کام ہوجاتا ہے جبکہ سیاست اور حکومت کا معاملہ الٹ ہے یہاں ہر کام میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں اور بعض اوقات ایسی حقیقی رکاوٹیں اور اڑچنیں بھی آ جاتی ہیں کہ چلتا ہوا کام بھی روکنا پڑ جاتا ہے۔

دیکھنا یہ ہو گا کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ ان رکاوٹوں، مشکلات اور مسائل سے کیسے نمٹتے ہیں۔ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو اپنی کارکردگی دکھانے اور وزارت سٹریم لائن کرنے کے حوالے سے اگلے دو تین ماہ اہم ہیں۔

انھیں چاہیے کہ اس ہنی مون پیریڈ اور حکومت کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کا فائدہ اٹھا کر فوراً اصلاحات کر چھوڑیں اگر کسی وجہ سے تاخیر ہو گئی تو پھر ماضی کی دیگر بہت سی اصلاحات کی طرح یہ منصوبہ بھی ادھورا ہی رہ جائے گا۔