عمران خان کی تجویز کردہ اسلامی تاریخ کی کتاب ’لوسٹ اسلامک ہسٹری‘ میں کیا ہے؟

  • عابد حسین
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
عمران

،تصویر کا ذریعہHearstPublishers/Getty Images

پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا کے آغاز اور مارچ کے آخری ہفتے سے ملک بھر میں مختلف نوعیت کے لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد اس مشکل سے دوچار ہے کہ وقت کیسے گزارا جائے۔

اسی حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے ترکی میں بنے تاریخی ڈراموں کو دیکھنے کا پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کی مدد سے عوام کو اسلامی اسلاف اور مسلمانوں کی تاریخ سے روشناس کرایا جائے اور پاکستان کا سرکاری ٹی وی چینل بھی اسی کی بھرپور تشہیر کر رہا ہے۔

غالباً اسی مقصد کے تحت اور وہ لوگ جو ٹی وی دیکھنے سے اکتا جائیں یا شوقین ہی نہ ہوں، تو ان کے لیے چند روز قبل پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام دیا: ’بندشوں (لاک ڈاؤن) کے موسم میں ہمارے نوجوانوں کے مطالعے کے لیے ایک لاجواب انتخاب۔

’یہ کتاب ان تاریخی عوامل کا نہایت خوبصورت مگر مختصر مجموعہ ہے جنھوں نے تمدنِ اسلامی کو اپنے دور کی عظیم ترین تہذیب کی شکل دی اور ان عوامل سے پردہ اٹھاتی ہے جو اس کے زوال کی وجہ بنے۔‘

عمران خان کی یہ ٹویٹ تھی سنہ 2014 میں شائع ہونے والی کتاب ’لوسٹ اسلامک ہسٹری‘ یعنی اسلام کی بھولی ہوئی تاریخ جسے امریکی محقق فراس الخطیب نے تحریر کیا ہے۔

عمران خان کی ٹویٹ کے بعد کافی بڑی تعداد میں ان کے فالوورز نے کہا کہ وہ یہ کتاب پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے

حتیٰ کہ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل امور ڈاکٹر ارسلان خالد نے تو کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کا لنک ہی ٹویٹ کر دیا کہ جو لوگ پڑھنا چاہیں وہ کتاب مفت میں ڈاؤن لوڈ کر لیں۔

بی بی سی نے جب ڈاکٹر ارسلان سے معلوم کیا کہ آیا انھوں نے یہ کتاب خود پڑھی ہے، تو انھوں نے بتایا کہ وہ اس کا آغاز کریں گے۔

مگر اس طرح سے کتاب کو مفت میں ڈاؤن لوڈ کرنے کہیں پائریسی کے قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں ہے؟ اس سوال پر ڈاکٹر ارسلان نے کہا کہ وہ مصنف سے رابطے میں ہیں۔

کتاب میں ہے کیا؟

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

بی بی سی نے جب اس دو سو سے بھی کم صفحات والی کتاب کا مطالعہ کیا تو ایک بات جو واضح طور پر نظر آئی وہ یہ تھی کہ مختصر ہونے کے باوجود یہ اسلام کے 1400 برسوں کی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔

اس میں اسلام کے آغاز، اس کے سنہرے دور، مختلف ریاستوں اور حکمرانوں کے عروج و زوال کا حال بیان ہے اور ساتھ ساتھ معروف اسلامک سکالرز اور محققین جیسے ابن خلدون اور ابن سینا کا بھی ذکر ہے۔

اس کتاب کو سلیس زبان میں تحریر کیا گیا ہے اور اس میں جگہ جگہ پر حاشیوں میں چند تاریخی واقعات کے بارے میں معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں جو کہ کتاب کے مرکزی بیانیے سے ہٹ کر ہیں۔

لیکن دوسری بات جو اس کتاب کے مطالعے کے بعد بہت واضح طور پر ابھر کر سامنے آتی ہے وہ ہے کہ یہ بہت ہی سادہ، عام فہم اور ایک مخصوص بیانیے پر مشتمل کتاب ہے جو محض سطحی حد تک معلومات فراہم کرتی ہے اور واقعات کی اصل روح، پس منظر اور تفصیلات کے بارے میں ذکر نہیں کرتی۔

اس کتاب کی ایک اور بڑی کمزوری یہ نظر آئی کہ اس میں حوالہ جات کے بارے زیادہ تفصیل نہیں ہے اور دو سے تین صفحات پر مشتمل فہرست ہے جو کہ مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ناموزوں اور ناکافی ہے۔

اسلامی تاریخ کے مختلف عہد اور ’سنہرا دور‘

یہ کتاب تاریخی ترتیب کے حساب سے لکھی گئی ہے جس کا آغاز جزیرہ نما عرب میں اسلام کی آمد سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد پیغمبر اسلام، ان کے بعد خلفا راشدین کے عہد کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے۔

کتاب کی اکثریت یعنی تقریباً تین چوتھائی حصہ مسلمانوں کی تین بڑی سلطنتوں پر مبنی ہے جن میں اموی سلطنت، عباسی سلطنت اور عثمانیہ سلطنت شامل ہیں۔

ان تینوں ادوار کے بارے میں لکھتے ہوئے فراس ال خطیب نے نکتہ پیش کیا کہ ان کی کامیابی کی وجہ شریعت پر سختی سے عمل کرنا اور پیغمبر اسلام کی تعلیم پر عمل کرنا تھا اور اُس سے دوری ہی ان کے زوال کی وجہ بنی ہے۔

خلفا راشدین کے دور کے بعد دورِ معاویہ اور اس کے بعد اموی سلطنت کے قیام اور دیگر ابواب کے مطالعے سے اگر ایک نکتہ واضح طور پر نظر آتا ہے تو وہ یہ کہ اس کتاب میں سنّی بیانیے کو فوقیت دیتے ہوئے تاریخ بیان کی گئی ہے۔

چند ایک مقامات، جیسے باب چھ٭ کے آغاز میں، شیعہ مسلمانوں کی ریاستوں اور ان کے فوجی عہد کے بارے میں منفی تاثر کے ساتھ لکھا گیا ہے اور انھیں منگولوں اور صلیبی جنگوں کے ساتھ ملایا گیا ہے کہ گویا ان کی وجہ سے (سنی) مسلمانوں کی سلطنتوں کا زوال ہوا ہے۔

فراس الخطیب جو کہ امریکہ میں ہائی سکول میں استاد ہیں کہہ چکے ہیں کہ ان کی کتاب کا مقصد غیر مسلمانوں، اور کم عمر مسلمانوں کو ایک مسلم پسِ منظر کے ساتھ تاریخ سے متعارف کرانا ہے اور اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کتاب کافی فائدہ مند ہے کیونکہ مشرقی ثقافتوں کے لیے کی گئی مغربی تحقیق (جسے ’اورئینٹلزم‘ بھی کہا جاتا ہے) کی روشنی میں اسلام کے بارے میں غیر جانبدارانہ تبصرہ کم کم نظر آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHearstPublishers

،تصویر کا کیپشن

تو کیا اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے یا نہیں۔ اس سوال کے دو مختلف جوابات ہو سکتے ہیں

امریکہ کی سدرن الے نوائے یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر سٹیو تماری فراس ال خطیب کے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ موجودہ حالات تاریخ کا ایک ایسا دور ہیں جس میں اسلام دشمنی یعنی اسلاموفوبیا یورپ اور امریکہ میں بڑے پیمانے پر موجود ہے، تو ایسے میں اگر ایک مسلمان لکھاری کی جانب سے لکھی گئی کتاب جو اسلام کی تاریخ بیان کرے وہ شاید وقت کی ضرورت ہے، بالخصوص انگریزی زبان بولنے اور سمجھنے والے غیر مسلموں کے لیے۔

اسی حوالے سے محقق اور مصنف تمیم انصاری نے اپنی کتاب ’اے ہسٹری آف دا ورلڈ تھرو اسلامک آئیز‘ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام کی تاریخ کو مغربی نظر سے دیکھنا غلط ہے اور اسے حرف آخر نہیں سمجھنا چاہیے۔

تاہم فراس الخطیب کی اس کتاب میں یہ نظر آتا ہے کہ وہ ایک مقبول و معروف (سنّی) بیانیے کا بغیر تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے پرچار کرتی ہے جو شاید غیر مسلموں کی حد تک قابل قبول ہو سکتا ہے لیکن کیا یہ پاکستانی قارئین کے لیے درست ہے؟

’زوال اور ارتقا کے معیار کیا ہیں اور ان کا تعین کون کرے گا؟‘

دوسری جانب اس کتاب میں مسلمان سلطنتوں کے عروج و زوال کے بارے میں جو بیانیہ تحریر کیا گیا ہے وہ بذات خود ’اوریئینٹلسٹ‘ طرز میں لکھا گیا ہے۔

اس حوالے سے جب بی بی سی نے امریکہ کے فرینکلن اینڈ مارشل کالج میں مذہبی علوم کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور حال ہی میں پیغمبر اسلام پر لکھی گئی کتاب کے مصنف شیر علی ترین سے بات کی تو انھوں نے سوال اٹھایا کہ زوال اور ارتقا کے معیار کیا ہیں اور ان کا تعین کون کرے گا۔

’سیاسی سلطنت اور حاکمیت کے فقدان کو معاشرتی زوال سے تعبیر کرنا شاید درست نہیں۔

’برصغیر کی تاریخ میں 18ویں اور 19ویں صدی میں ایک جانب عصری استعمار تھا تو دوسری جانب ہماری علمی روایات میں زبردست ارتقا تھا۔ تو اس پر سوال بنتا ہے کہ زوال کی کیا تعریف اپنائیں گے اور کیا صرف سیاسی طاقت کو ہی ارتقا کا معیار قرار دیں گے؟‘

تو کیا اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے یا نہیں۔ اس سوال کے دو مختلف جوابات ہو سکتے ہیں۔

اگر پروفیسر سٹیو تماری کا تبصرہ دیکھیں تو وہ کہتے ہیں کہ اسلاموفوبیا کے اس دور میں یہ کتاب اسلام کے بارے سمجھنے کے لیے بہت اچھا اضافہ ہے اور اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن میں لازمی رکھنی ہو گی کہ یہ کتاب اسلام کی تاریخ کو بہت مختصر اور ایک مخصوص زاویے سے پیش کرتی ہے جو شاید پاکستانی قارئین کے لیے اسلام کی 1400 سالہ پیچیدہ تاریخ کو باریک بینی سے سمجھنے کے لیے ناکافی ثابت ہو۔

٭: مضمون کی اشاعت کے وقت باب چھ کو غلطی سے باب نو لکھ دیا گیا تھا۔