کلبھوشن جادھو کیس: پاکستان نے انڈین وکیل کے بیانات مسترد کر دیے

کلبھوشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

نریندر مودی نے عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کو 'سچ اور انصاف کی فتح' جبکہ عمران خان نے 'قابلِ تحسین' قرار دیا تھا

پاکستان نے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کیس میں انڈین وکیل کی طرف سے دیے گئے بیانات کو مسترد کردیا ہے۔

اتوار کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کلبھوشن جادھو مقدمہ میں انڈیا کے وکیل ہریش سالوے کے ایک آن لائن لیکچر میں دیے گئے ان بیانات کو مسترد کیا جن میں انھوں نے یہ تجویز دی تھی کہ شاید انڈیا کو عالمی عدالت انصاف میں واپس جانا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’سالوے نے کچھ ایسے بیانات دیے ہیں جو کیس کے حقائق سے بالکل منافی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم انڈین وکیل کے اس بے بنیاد اور غلط دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ پاکستان نے اس معاملے میں عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔‘

عائشہ فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے اب تک اس فیصلے پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا ہے اور اس کیس میں مزید پیش رفت کے ساتھ آگے بھی ایسا کرنے کا پابند ہے۔

،تصویر کا ذریعہMoFA

،تصویر کا کیپشن

پاکستان نے دسمبر 2017 میں کلبھوشن جادھو کی ان کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کروائی تھی۔

ہریش سالوے نے کیا کہا تھا؟

کلبھوشن جادھاو مقدمے سے متعلق انڈیا کے وکیل ہریش سالوے نے رواں ماہ کی تین تاریخ کو ایک لیکچر میں کہا تھا کہ انڈیا عالمی عدالت انصاف سے رجوع کر سکتا ہے کیونکہ پاکستان عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے اور انڈین بحریہ کے ریٹائرڈ اہلکار تک رسائی دینے میں نا کام رہا ہے۔

ہریش سالوے، جو کلبھوشن جادھو مقدمے سے متعلق تفصیلات ایک آن لائن لیکچر میں شیئر کر رہے تھے، کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ انڈیا کاسات یا آٹھ مرتبہ رابطہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان انھیں رہا کر دے۔ اگر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ انھیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کررہے ہیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ واپس آ جائیں۔‘

انھوں نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے لیے یہ بہت بڑا انا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ہم نے انھیں متعدد خطوط لکھے ہیں، وہ محض انکار کرتے آ رہے ہیں۔

’مجھے لگتا ہے کہ ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آئی سی جے میں واپس جانا چاہیے یا نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’پاکستان آگے قدم نہیں بڑھا رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ہریش سالوے، جو کلبھوشن جادھو مقدمے سے متعلق تفصیلات ایک آن لائن لیکچر میں شیئر کر رہے تھے، کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ انڈیا کاسات یا آٹھ مرتبہ رابطہ ہوا ہے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

یاد رہے کہ اس سے قبل گذشتہ برس 17 جولائی کو عالمی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ مبینہ جاسوس کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے اور انھیں قونصلر رسائی دے۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر تک رسائی نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے۔

عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان کی جانب سے انڈیا کو کلبھوشن جادھو تک رسائی کی باضابطہ پیشکش کی گئی تھی جس کے بعد انڈین سفارتکار نے کلبھوشن جادھو سے دو گھنٹے طویل ملاقات کی تھی۔’

ملاقات کے بعد انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلووالیہ کا کہنا تھا کہ ان کے شہری کلبھوشن جادھو پر منفی بیانیہ دہرانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے اپریل 2017 میں کلبھوشن جادھو کو جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا سنائی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف انڈیا نے مئی 2017 میں عالمی عدالت انصاف کا دورازہ کھٹکھٹایا تھا اور استدعا کی تھی کہ کلبھوشن کی سزا معطل کرکے ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔

عالمی عدالت نے انڈیا کی یہ اپیل مسترد کر دی تھی تاہم پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ ملزم کو قونصلر تک رسائی دے اور ان کی سزائے موت پر نظرِ ثانی کرے۔

کلبھوشن جادھو کے بارے میں پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں جنھیں سنہ 2016 میں پاکستان کے صوبے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پاکستان ایک عرصے سے بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی کرنے کا الزام انڈیا پر عائد کرتا رہا ہے۔