کراچی: بند گاڑی سے ملنے والی بچوں کی لاشوں کا معمہ

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
وہ گاڑی جس میں سے لاشیں ملیں

،تصویر کا ذریعہQ Khan

کراچی میں لاپتہ ہونے والے تین اور چار سالہ دو بچوں کے ہلاکت اور ان کی لاشیں ایک بند گاڑی میں کیسے پہنچیں، تفتیشی پولیس اہلکار ان دونوں سوالات کی کھوج میں ہیں۔

3 سالہ سعید اور چار سالہ عبید دونوں ہمسائے تھے اور ان کی لاشیں منگھو پیر تھانے کی حدود میں نصرت بھٹو کالونی کے قریب ایک کار سے ملی ہیں۔

میڈیکل رپورٹ اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’دونوں بچوں کی موت کی وجہ سر پر چوٹ ہے جس کے باعث حرکت قلب بند ہوگئی‘۔ رپورٹ کے مطابق ’چوٹ کی نوعیت سے لگتا ہے کہ کوئی بھاری چیز ماری گئی ہے۔‘

پولیس سرجن ڈاکٹر قرار عباسی کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ’بچوں کی موت گاڑی کے اندر سانس گھٹنے کی وجہ سے ہوئی، سر پر چوٹ کے واضح نشانات موجود ہیں۔‘

بچے کب لاپتہ ہوئے

منگھو پیر تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر گل محمد اعوان کے مطابق بچے 10 مئی سے لاپتہ تھے، والدین ان کے پاس آئے تھے اور انھوں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں لہذا وہ ایف آئی آر درج کرائیں جس کے بعد انہوں نے گمشدگی کا مقدمہ درج کرایا۔

3 سالہ عبید کے چچا عمر رحمان کا کہنا ہے کہ اس دن ’دوپہر تین بجے بچے گھر سے باہر نکل گئے، افطاری کا وقت ہوگیا لیکن کوئی پتہ نہیں چلا جس کے بعد پڑوسیوں اور رشتے داروں میں تلاش کی اور مسجد میں اعلانات کیے لیکن پھر بھی معلوم نہیں ہوسکا۔ اس کے علاوہ رکشہ پر لاؤڈ سپیکر رکھ کر آس پاس کے علاقوں میں بھی گئے۔‘

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہQ Khan

کار سے تعفن اٹھنے پر لاشیں برآمد ہوئیں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

عبید کے چچا عمر رحمان کے مطابق گاڑی ان کے ایک پڑوسی کی ہے اور اس نے گاڑی لاک ڈاؤن کی وجہ سے سڑک کے پاس کھڑی کر دی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عمر کالونی میں سڑک کے کنارے پر موجود کار سے تعفن اٹھنے پر اہل محلہ نے پولیس کو اطلاع دی، یہ کار اندر سے لاک تھی شیشے، توڑ کر دروازہ کھولا گیا تو دونوں بچوں کی لاشیں موجود تھیں۔

انسپکٹر گل محمد اعوان کے مطابق ایک لاش کار کی عقبی سیٹ پر جب کہ دوسری فرنٹ پر موجود تھی اور ’ایسا لگتا تھا جیسے بچے رو رو کر وہاں ہی سوگئے ہوں۔‘

انسپکٹر گل محمد اعوان کے مطابق انھیں بتایا گیا ہے کہ ’4 سالہ دانش کو گاڑی میں بیٹھنے کا شوق تھا، قریبی ڈینٹگ پیٹنگ کی دکان پر وہ کھڑی گاڑیوں میں جاکر بیٹھ جاتا تھا، دکانداروں نے والدین کو شکایت کی تھی کہ بچوں کا خیال کریں سڑک پر آتے جاتے ہیں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے۔‘

دونوں بچوں کے والدین خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ اور مردان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک سپیئر پارٹس اور دوسرا ریتی بجری کا کام کرتا ہے۔

عبید کے چچا عمر رحمان کا کہنا ہے کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے وہ باجوڑ جبکہ دانش کے والدین مردان کے رہائشی ہیں اور پڑوسیوں سے بھی کوئی ناخوشگوار تعلقات نہیں رہے۔

انسپکٹر اعوان کا کہنا ہے کہ دونوں غریب ہیں ’اس صورتحال میں یہ بھی نہیں لگتا کہ کسی مالی معاملے یا تاوان کے لیے بچوں کو اغوا کیا گیا ہو۔‘

انسپکٹر گل محمد اعوان کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ ذاتی چپقلش اور دشمنی کا نتیجہ لگتا ہے، ’بعض اوقات عام زندگی میں لوگ چھوٹی چھوٹی چیزیں نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن کچھ اس کو دل و دماغ میں لیکر بیٹھ جاتے ہیں اور ان کے انتقام کا نشانہ بچے ہی بنتے ہیں۔‘

انسپکٹر اعوان کے مطابق دونوں بچوں کا کیمیائی تجزیہ بھی کرایا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کہیں ان سے جنسی زیادتی تو نہیں کی گئی جبکہ گاڑی کا فارنزک بھی کرالیا گیا ہے۔