کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کیسے پاکستان میں سیاحت کے شعبے کو متاثر کر رہا ہے؟

  • محمد زبیر خان
  • صحافی
ہوٹل

،تصویر کا ذریعہAlam Shah

،تصویر کا کیپشن

گلگت بلتستان میں مقامی بازار مکمل طور پر بند ہے

’میں نے نہ صرف اپنی برسوں کی جمع پونجی بلکہ بینک اور دیگر ذرائع سے حاصل کیا گیا قرض صرف اس وجہ سے ضائع کر دیا کہ رواں برس زیادہ سرمایہ کاری کر کے زیادہ منافع کماؤں گا۔ مگر اب صورتحال یہ ہے کہ ہوٹلوں کی صنعت مکمل طور پر بند ہے۔ بینک سے حاصل کیے گئے قرض کی قسط ادا نہیں کر پا رہا ہوں اور ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہا ہوں۔‘

یہ کہنا ہے گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ سے تعلق رکھنے والے انعام کریم کا جو کہ اپنے علاقے میں نومی کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔

انعام نے سیاحت کی صنعت میں قدم بحیثیت ہوٹل ویٹر رکھا تھا اور اس پر وہ فخر کرتے ہیں۔

’کئی سال پہلے میں نے نوجوانی میں بحیثیت ویٹر کام شروع کیا تھا۔ لوگ آٹھ، دس گھنٹے کام کرتے تھے، مگر میں تیرہ، چودہ گھنٹے کام کرتا تھا۔ اس کے بعد میں نے گلگت لاری اڈے کے قریب چائے کا ایک کھوکھا قائم کیا۔ اس پر محنت کی، اس کے بعد ٹھیکے پر ہوٹل حاصل کیا۔‘

نومی کا کہنا تھا کہ گلگت بلستان بالخصوص ہنزہ میں گذشتہ دو، تین برسوں میں سیاحوں کا رش بڑھا تو میرا کام بھی چل نکلا۔ مجھے اچھی آمدن ملتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں برس کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان اور دیگر اداروں نے کہا تھا کہ یہ پاکستان میں سیاحت کا سال ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

’میں نے کریم آباد ہنزہ میں موجود اپنے ہوٹل کی تزین و آرائش اور فرنیچر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بینک سے 60 لاکھ کا قرضہ حاصل کیا، اور اپنی تمام جمع پونجی اس پر یہ سوچتے ہوئے خرچ کر دی کہ اس سال غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں پاکستان آئیں گے تو میرے ہوٹل کا معیار بہتر ہونا چاہیے۔‘

’مگر اب کورونا کے باعث لاک ڈاؤن ہے۔ کچھ ٹور آپریٹرز نے کمرے بک کروائے تھے وہ بھی منسوخ کروا دیے گئے ہیں۔ سیزن شروع ہو چکا ہے مگر ہوٹل بند ہیں۔ سوچتا ہوں کہ بند ہوٹل میں کب تک ملازمیں کو تنخواہیں ادا کر سکوں گا؟‘

اس صورتحال کا سامنا صرف ہوٹل انڈسڑی سے وابستہ افراد کو ہی نہیں بلکہ کسی حد تک ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے منسلک لوگوں کو بھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہInam Karim

،تصویر کا کیپشن

انعام کریم نے قرض لے کر ہوٹل کی صنعت میں سرمایہ کی تھی۔ ان کے ہوٹل کا ایک کمرہ

ایبٹ آباد میں قلندر رینٹ اے کار کے مالک محمد زاہد خان کے مطابق ان کے کاروبار کا بڑا انحصار ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کی پاکستان آمد پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس اور اس سال کے آغاز ہی سے مختلف ٹور آپریٹرز نے ان سے غیر ملکی سیاحوں کے لیے چھوٹی اور بڑی گاڑیاں بُک کروانے کی بات چیت شروع کر دی تھی اور اُس وقت بکنگ اتنی زیادہ تھی کہ ہم بینکوں سے لیز پر چار مزید گاڑیاں حاصل کر لیں۔

مگر اب صورتحال یہ ہے ہمارے گاڑیاں بے کار کھڑی ہیں۔ اب سوچ رہے ہیں کسی طرح یہ گاڑیاں مناسب داموں فروخت ہو جائیں تاکہ کچھ معاشی دباؤ کم ہو سکے۔

محمد آصف گذشتہ کئی برسوں سے وادی کاغان، کشمیر اور منسلک علاقوں میں گائیڈ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس سال میرے پاس پہلے سے پانچ غیرملکی سیاحوں کے لیے کام کی بکنگ تھی مگر اب سب منسوخ ہو چکا ہے اور حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ قرضے لے کر گھر کا خرچ پورا کرنا پڑ رہا ہے۔

گذشتہ چند برسوں سے پاکستان میں سیاحت کی صنعت کو ابھرتی ہوئی صنعت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2018 میں سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدن 81.8 کروڑ ڈالر رہا تھی، سنہ 2017 میں 86.6 کروڑ ڈالر جبکہ سنہ 2016 میں 79.1 ملین ڈالر تھی۔

پاکستان میں زیادہ سیاحت شمالی علاقہ جات میں ہوتی ہے جو کہ گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق گذشتہ سال 20 لاکھ سے زائد افراد نے یہاں کے سیاحتی مقامات کا رخ کیا تھا۔

گلگت بلتستان محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر اقبال حسین کے مطابق گذشتہ برس 13 لاکھ سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رخ کیا تھا جس میں سے 20 ہزار غیر ملکی تھے۔

گلگت بلتستان سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ

،تصویر کا ذریعہNASIR Ali

،تصویر کا کیپشن

ناصر علی اپنے بند ہوٹل کے سامنے کھڑے ہیں

گلگت بلتستان محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر اقبال حسین کے مطابق گلگت بلتستان کی معیشت کا 70 فیصد انحصار سیاحت پر ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں آنے والے ہر سیاح محتاط اندازے کے مطابق اوسطاً 20 سے 25ہزار روپے خرچ کرتا ہے جبکہ ہر غیر ملکی سیاح اوسطاً کم از کم پچاس ہزار روپے خرچ کرتے ہیں۔

اس وقت گلگت بلتستان میں رجسڑڈ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسز کی تعداد 1300 سے زائد ہے۔ سنہ 2014 تک یہ تعداد صرف 500 تھی۔ جب سے سیاحت میں اضافہ ہوا تو ہوٹلوں کی تعداد دگنی ہوئی ہے جس سے تعمیرات کی صنعت کو فائدہ ہوا اور لوگوں کو روزگار ملا۔

اسی طرح جنرل سٹورز، ٹرانسپورٹ اور کئی دوسرے کاروباروں کا حجم بھی بڑھا ہے۔ یہ سب کچھ سیاحت کی وجہ سے تھا۔

گلگت بلستان ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر ناصر علی نے موجودہ صورتحال کو تباہ کن قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں ہوٹلنگ سیزن چند ماہ کا ہوتا ہے جو کہ مارچ سے لے کر اکتوبر تک ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال نے نہ صرف ہوٹل انڈسڑی کو متاثر کیا بلکہ پورے گلگت بلتستان کو ہلا کر رکھا دیا ہے۔

ناصر علی کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کچھ ملازمین مستقل ہوتے ہیں جبکہ کچھ سیزن کے دوران کام کرتے ہیں۔ ’اب صورتحال یہ ہے کہ ہم مستقل ملازمین کو تنخواہیں دینے کے قابل نہیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس صورتحال سے اس صنعت سے وابستہ تمام کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے اور نوبت فاقوں تک آ گئی ہے۔

جنرل سیکریٹری ہوٹل ایسوسی ایشن ہنزہ عالم خان کو کہنا تھا کہ اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں ہم لوگ اپنے کاروبار ختم کر کے پاکستان کے کسی دوسرے صوبے میں جا کر ملازمتیں کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

بلتستان ایسوسی ایشن آف ٹور آپریٹر کے صدر ایاز شگری کا کہنا ہے کہ بلتستان ڈویثرن کے علاقے جہاں پر غیر ملکی مہم جو ایڈونچر کے لیے آتے ہیں وہاں کی پچاس فیصد آبادی کا انحصار سیزن سے منسلک مہمات پر ہوتا ہے۔ تاہم اب یہ لوگ بہت بُرے حالات کا شکار ہیں۔

150 غیر ملکی گروپس کے ٹور منسوخ

،تصویر کا ذریعہInam Karim

اکرم محمد بیگ گلگت بلتستان ایسوسی ایشن آف ٹور آپریٹرز کے صدر کہتے ہیں کہ 9/11 کے بعد اب جا کر گلگت بلتستان میں سیاحت کو عروج مل رہا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس سال مختلف ٹور آپریٹرز کے ذریعے 150 غیر ملکی سیاحوں کے گروپس نے آنا تھا جس سے ایک کروڑ ڈالر کے محصولات آنے کی توقع تھی مگر اب سب کچھ منسوخ ہو چکا ہے۔

’میں نے پانچ گروپس کی بکنگ اور تیاری مکمل کر رکھی تھی۔ ہر گروپ میں دس سے لے کر بیس تک سیاح تھے جن کے لیے میں نے ہوٹلوں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر اداروں کو ایڈوانس ادائیگیاں کر رکھی تھیں۔ یہ سب ادائیگیاں بھی پھنس چکی ہیں۔ یہ ہی صورتحال ہر ٹور آپریٹر کے ساتھ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنے بین الاقوامی پارٹنرز سے ایڈوانس کی مد میں رقم وصول کر رکھی ہے اور اب ہمیں یہ رقوم انھیں واپس کرنا ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ہر بین الاقوامی ٹور کی تیاری تین سے چھ ماہ قبل ہو جاتی ہے۔

’جس وقت ہم لوگوں نے ایڈوانس رقوم وصول کیں تھیں اس وقت ڈالر کی قیمت 150 سے لے کر 155 روپے تھی۔ حکومتی پابندی کے باعث ٹور آپریٹر ڈالر یا غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ نہیں رکھ سکتے۔ اب ڈالر کی قیمت 160 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ ہمیں اب ڈالر 160 روپے کا خرید کر واپس کرنا پڑے گا جو کہ ہر ایک ٹور آپریٹر کے لیے تباہی کا باعث بنے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس اہم معاملے پر وفاقی حکومت سے گزارش کی ہے کہ وہ ہماری مدد کرے کیونکہ اگر ایڈوانسرقوم واپس کرنے میں تاخیر کی تو آئندہ متاثرہ غیر ملکی سیاح ہم پر اعتماد نہیں کریں گے اور پاکستان کا نام بدنام ہو گا۔

سیاحت اور اس سے جڑے لوگوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہAlam Shah

اکرم محمد بیگ کا کہنا تھا کہ یہ ایک نازک وقت ہے۔ اس نازک وقت میں سیاحت کی صنعت سے جڑے لوگ حکومت سے امداد نہیں مانگ رہے بلکہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کی مستقبل کی معیشت کی بنیاد یعنی سیاحت کی صنعت کو سہارا دینے کے لیے ٹھوس اقدامات اور پالیسیاں تربیت دے۔

انھوں نے کہا کہ اس صنعت سے وابستہ افراد کو کاروبار جاری رکھنے کے لیے بلاسود اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں۔ سیاحت کی صنعت سے جڑے افراد نے جو قرضے حاصل کر رکھے ہیں ان پر سود کی شرح کو بالکل ختم کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاحت پر بدترین حالات 9/11 کے بعد بھی آئے تھے مگر حکومتوں کے ساتھ مل کر اس کاروبار سے وابستہ افراد نے اس کا مقابلہ کیا تھا اور اب بھی ایسا ہو سکتا ہے مگر اس کے لیے حکومت کو ٹھوس پالیساں بنانا ہوں گئی۔

ناصر علی کا کہنا تھا کہ حکومت ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسز کو مکمل بند ہونے سے بچانے کے لیے کچھ بنیادی اقدامات اٹھائے۔ جس میں بند ہوٹلوں پر عائد کردہ ٹیکسز معاف کیے جائیں اور یوٹلیٹی بلز میں چھوٹ فراہم کی جائے۔

اقبال حسین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت، گلگت بلتستان حکومت اور پرائیوٹ سیکٹر نے سیاحت کو اس مقام تک پہچانے کے لیے بہت محنت کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ شاید صورتحال کو نارمل ہوتے ہوئے مزید دو سے تین سال کا عرصہ لگے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی اسی صورت میں ممکن ہو گا کہ پرائیوٹ سیکڑ فعال رہے اور اپنا کردار ادا کرتا رہے مگر اس کے لیے پرائیوٹ سیکڑ کے مسائل کو حل کرنا ہو گا۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جلد ہی وفاقی حکومت اس صنعت کے لیے بیل آؤٹ پیکج کا اعلان کرئے گئی جس سے اس صنعت کو دوبارہ بھرپور انداز میں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد ملے گئی جس سے سیاحت بحال ہو گئی۔

اقبال حسین کا کہنا تھا کہ 15 جون تک تو سیاحوں کو گلگت بلتستان میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ مگر 15 جون کے بعد حکومت کو یہ تجویز دی گئی ہے کہ جزوی طور پر بین الاقوامی اداروں کی رہنمائی میں ایس او پیز کے ساتھ سیاحت کی اجازت دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں سماجی فاصلہ برقرار رکھ کر ایسا کرنا ممکن ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں رقبہ زیادہ اور آبادی کم ہے۔ یہ علاقے ویسے بھی قدرت کے قریب ترین ہیں اور یہاں آبادی منتشر ہے جس وجہ سے کچھ علاقے مختص کیے جا سکتے ہیں جہاں پر مخصوص تعداد میں سیاحوں کو حفاظتی اقدامات کے بعد جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا مگر ابھی یہ صرف تجویز ہے اس پر بات ہونا باقی ہے، بہت کچھ حالات اور کورونا کی صورتحال پر منحصر ہے۔