کورونا وائرس کی وبا اور لاک ڈاؤن کے باعث سندھ میں آم کے کاشتکاروں کے خدشات: یہ سال آم اور عوام، دونوں کے لیے اچھا نہیں۔۔۔

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ٹنڈوجام
آم

آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ آج کل بادشاہ اور اس کی پاکستانی رعایا دونوں ہی خطرے میں ہیں۔ رعایا یعنی پاکستانی عوام کورونا وائرس کے سنگین خطرے سے دوچار ہیں جبکہ بادشاہ سلامت اس وائرس کو روکنے کے لیے ہونے والے حفاظتی اقدامات کی وجہ سے مشکل میں ہیں۔

پاکستان میں آم کے باغات صوبہ سندھ اور پنجاب میں واقع ہیں اور دسمبر کی سردی جاتے ہی سال نو کے پہلے مہینے یعنی جنوری سے ہی ان آموں پر پھول مہکنا شروع ہو جاتے ہیں اور بعد میں یہ کیریوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

آموں کا موسم روزگار کے مواقع بھی لاتا ہے۔ مئی کے مہینے میں ان باغات میں میلے جیسا سماں بندھ جاتا ہے۔ سندھ میں چونکہ آم کی فصل پہلے تیار ہوتی ہے اس لیے یہاں پہلے آم اتارے جاتے ہیں۔ اس کے لیے جنوبی پنجاب سے ہر سال ماہر مزدور اس موسم میں سندھ کا رخ کرتے ہیں۔

کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی وجہ سے اپریل کے مہینے میں ملک گیر لاک ڈاون اور پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث اس بار جنوبی پنجاب کے مزدوروں کی کم تعداد باغات میں پہنچ پائی ہے۔

غلام فرید کا تعلق مظفرگڑہ سے ہے۔ یہ ایک ’آم مزدور‘ ہیں جو ہر سال ایک سے سوا مہینہ باغات میں مزدوری کرتے ہیں۔

آم کے درخت کے سائے میں پیٹیاں بھرتے ہوئے جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ ’اوے فریدے تو یہاں کیسے پہنچا؟‘ تو یہ سرائیکی میں بتاتے ہیں کہ اس سال سواری دستیاب نہیں تھی، میں ایک ٹرک میں سوار ہو کر آیا ہوں۔

انھوں نے فی بندہ ایک ہزار روپے کرایہ دیا۔ ویسے بس میں یہ سفر ایک دن کا ہوتا ہے لیکن ٹرک میں تین سے چار دن لگ گئے۔

یہ بھی پڑھیے

غلام فرید کا سفر اتنا بھی آسان نہ تھا۔ ٹرک کے اوپر خالی بوریاں لدی گئیں جبکہ نیچے یہ مزدور چھپ کر بیٹھ گئے تاکہ پولیس اور دیگر فورسز سے چھپ سکیں کیونکہ اس وقت سخت والا لاک ڈاؤن تھا اور لوگوں کے جمع ہونے اور سفر کرنے پر پابندی تھی۔

غلام فرید کا ساتھی اعجاز حسین بتاتا ہے کہ ایک جگہ پولیس نے انھیں دیکھ لیا اور کہا کہ پردیسی لوگ ہو، جاؤ لیکن ٹرک منڈی سے باہر نہ نکالنا۔

ان مزدوروں کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ یہ آم کی قدروقیمت اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں جیسے ہی پھلوں کا یہ بادشاہ پہنچتا ہے، یہ اس حساب سے اندازہ لگا گر درجہ بندی کرتے ہیں۔

پیٹی میں بادشاہ سلامت کو کس طرح رکھا جائے کہ ان کے نازک جسم کو ٹھیس نہ پہنچے اور ڈھکن کس طرح بند ہو؟ یہ ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ یہ مزدور اس کام میں مہارت رکھتے ہیں۔

باغات میں ایک طرف لکڑی کی پیٹیاں بنائی جاتی ہیں، دوسری جانب درجہ بندی کے حساب سے ان میں آم بھرتے جاتے ہیں اور ایک شخص ان کے ڈھکن لگا کر بند کرتا ہے۔

اس کے بعد آموں کو ٹرانسپورٹ میں سوار کر کے مارکیٹ روانہ کیا جاتا ہے۔ اس ڈیڑھ مہینے میں فی مزدور پندرہ ہزار روپے کماتا ہے جبکہ دو وقت کا کھانا اور چائے ٹھیکیدار فراہم کرتا ہے۔

سندھ اور پنجاب کے بعض شہروں میں گھروں اور تفریحی پارکوں میں بھی آم کے درخت موجود ہیں۔ جن پر جھومر کی طرح لٹکتی ہوئی کیریوں کو حاصل کرنے کے لیے بعض اوقات پتھروں سے نشانہ لگایا جاتا ہے یا بعض مرتبہ کوئی شخص درخت پر سوار ہو کر چند دانے توڑ لیتا ہے لیکن جناب سارے آم اتارنا اتنا آسان نہیں۔

ایک درخت کے لیے پانچ سے سات مزدور درکار ہیں، ان میں سے کچھ درخت کی شاخوں پر سوار ہو جاتے ہیں اور بڑی لکڑیوں جن میں ھک لگے ہوتے ہیں ان کی مدد سے پھل کو نیچے گراتے ہیں جبکہ دو سے تین لوگ جو بالکل ان کے نیچے بوریوں کے ٹکڑے اٹھائے موجود ہوتے ہیں ’بادشاہ سلامت‘ کو ’کیچ‘ کرتے ہیں تاکہ کہیں یہ زمین پر گر کر ضائع نہ ہو جائیں۔

اس پوری مشق کے دوران یہ مخصوص الفاظ سے ایک دوسرے کو خبردار بھی کرتے ہیں۔

اپنی رعایا کی طرح یہ ’بادشاہ‘ بھی ذاتوں اور قبیلوں میں بٹے ہیں۔ ویسے تو ان کے دو درجن سے زائد قبیلے بتائے جاتے ہیں لیکن ان میں نامور سندھڑی، لنگڑا، چونسا، انور رٹول، دسہری، الماس اور سرولی وغیرہ شامل ہیں۔ سندھ میں پہلے سرولی اس کے بعد دسہری، دیسی اور آخر میں سندھڑی کی پیداوار ہوتی ہے۔

آم کے پھول رس بھرے نہیں ہوتے اس لیے شہد کی مکھیاں یہاں کا رخ نہیں کرتیں لیکن ’فروٹ فلائی‘ ضرور نقصان پہنچا کر جاتی ہے جس سے یہ گونچے کمزور ہو کر جھڑ جاتے ہیں، اس لیے باغبان سپرے وغیرے کرتے ہیں۔

ویسے تو گرم لو آم کی جسامت اور ذائقے میں مٹھاس بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے لیکن بعض اوقات طوفانی ہوائیں نقصان بھی پہنچاتی ہیں، رواں موسم میں بھی آم کے باغوں کو خاصا نقصان پہنچا۔

عبدالملک آرائیں آم کے پرانے قدر دان ہیں۔ انھوں نے 1960 کی دہائی میں پہلے آم کی نرسری لگائی اس کے بعد سو ایکڑ پر پورا باغ لگایا۔ وہ بتاتے ہیں کہ بہت تیز آندھی اور طوفان تھا اس میں ہمارا پچاس فیصد تک آم گر گیا۔

’یہ ابھی پکا نہیں تھا اس لیے کسی کام کا ہی نہیں، زمین پر پڑا ہوتا ہے، پورا سال محنت کرتے ہیں جراثیم کش سپرے کرتے ہیں کھاد ڈالتے ہیں، مزدوری لگتی ہے لیکن اس سال ہمیں زبردست نقصان پہنچا ہے۔‘

ویسے تو آم کی فروخت پیٹی کے حساب سے ہوتی ہے لیکن اگر پھل جھڑ جائے تو پھر بوری کے حساب سے فروخت بھی ہوتی ہے۔

سندھ آباد گار بورڈ کے مطابق پاکستان میں آم کی پیداوار تقریبا پندرہ لاکھ ٹن سے زیادہ ہوتی ہے جو مقامی ضروریات سے زیادہ ہے لہذا اسے بیرون ملک روانہ کردیا جاتا ہے۔ یہ سفر بحری جہازوں، ہوائی جہازوں اور بذریعہ سڑک طے ہوتا ہے۔ گزشتہ برس ایک لاکھ 15 ہزار میٹرک ٹن آم درآمد ہوا۔

بیرون ملک آموں کے رسیا کے لیے بری خبر یہ ہے کہ وہ عالمی لاک ڈاؤن کی وجہ اس سال آم کی قربت حاصل نہیں کر سکیں گے۔

سندھ آباد گار بورڈ کے رہنما اسلم مری کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں درآمد اور برآمد پر پابندی ہے، پاکستان سے کافی آم ایران اور افغانستان برآمد ہوتا ہے لیکن تجارت کے لیے دونوں بارڈر بند ہیں اس کے علاوہ خلیجی ممالک بھی بڑے امپورٹر ہیں اور وہاں بھی ان دنوں پابندی ہے۔

پاکستان میں بھی ٹرانسپورٹ کے فقدان اور بازار مخصوص اوقات میں کھلنے کی وجہ سے آم کی اپنے کرم فرماؤں تک رسائی میں مشکلات ضرور ہیں لیکن کراچی سے چین کی سرحد تک یہ ان حالات میں بھی پہنچ جائے گا کیونکہ اسے مٹھاس کے احساس کے ساتھ دوست احبابوں کو تحفے میں دیا جاتا ہے۔

کچھ اپنے تعلقات آم کی پیٹیوں کی بنیاد پر استوار کرتے ہیں، اسی لیے آم اور اس کے تحفے دینے والے دونوں کو ہی سال کے نو ماہ یاد رکھا جاتا ہے۔

۔